تعصبات اور عصبیت۔۔خورشید ندیم – مکالمہمکالمہ


یہ افتخار کا موقع ہے یا شرمندگی کا کہ اسلام آباد سارے کا سارا خاموش ہے؟ اسلام آباد ہی کیا، تمام ملک جیسے کسی ان دیکھے خوف کی لپیٹ میں ہو۔ یہ خاموشی کیا صرف اس وجہ سے ہے کہ اس دن کے ساتھ نواز شریف کا نام وابستہ ہے؟ سیاست دکھائی دیتا ہے کہ نفرت کا ظلمت کدہ بن چکا۔ یہاں اب مفاہمت کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا۔
جو تاریخ کو مسخ کرتے ہیں، تاریخ انہیں روند کر آگے گزر جاتی ہے۔ تقدیر کے قاضی کا فتویٰ، وقت کا فیصلہ بن جاتا اورنافذ ہو جاتا ہے۔ جس طرح یہ واقعہ تاریخ کے اوراق سے کھرچا نہیں جا سکتا کہ کرکٹ کا ورلڈ کپ پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں جیتا تھا، بالکل اسی طرح اسے باب کو بھی ملک کی تاریخ سے نہیں نکالا جا سکتاکہ یہ نوازشریف تھے جنہوں نے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، یہ نعرۂ مستانہ بلند کیاکہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔
قوموں کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی کارنامہ ہو جوکسی فردِ واحد نے سرانجام دیا ہو۔ ہرمعرکہ اجتماعی قوت سے سر ہوتا آیا ہے۔ تاج مگر قبیلے کے سردار کے سرپر ہی رکھا جاتا ہے۔ کرکٹ کی ٹیم گیارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ کپ مگر کپتان کودیا جاتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی فرد واحد کا کارنامہ نہیں۔ بھٹو صاحب سے اس کی ابتدا ہوئی اوریہ سفر جنرل ضیاالحق اور غلام اسحاق خان کے ادوار سے گزرتا ہوا نوازشریف عہد پر کامیابی کے ساتھ تمام ہوا۔ ابتدا اور انتہا مگر ہمیشہ اہم تر ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایٹمی صلاحیت کے حصول میں بھٹو اور نوازشریف کا تذکرہ دوسروں سے زیادہ ہو گا۔
اچھے مستقبل کیلئے لازم ہے کہ تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے۔ تاریخ میں کامیابیاں بھی ہوتی ہیں اور ناکامیاں بھی۔ دونوں سے سبق سیکھا جاتا ہے۔ تاریخ کے معاملے میں تعصب، تجزیے پر اثرانداز ہوتا اور غلط نتائج تک پہنچاتاہے۔ ہم نے برصغیر کی تاریخ کے بارے میں جورویہ اپنایا، اس کااطلاق پاکستان کی تاریخ پربھی کررہے ہیں۔ ہم سیاسی مقاصد سے آلودہ تاریخ بیان کرتے ہیں۔ یوں جب ہمارے بچوں کو بالغ نظر ہونے کے بعد، تاریخ کی دوسری تصویر نظرآتی ہے تووہ اپنے اسلاف کے بارے میں بدگمان ہونے لگتے ہیں۔
سیاستدان اور لیڈر میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ پہلا تقسیم کرتا اور دوسرا جوڑتا ہے۔ لیڈر ایک گروہ کو چھوٹی چھوٹی عصبیتوں سے بلند کرتا اورایک بڑی عصبیت سے وابستہ کردیتا ہے۔ جتنا بڑا لیڈر ہوگا، اتنی بڑی وحدت وجود میں آئے گی۔ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے لیڈر انبیا ہوتے ہیں۔ ہر نبی کی طرح، اس سلسلے کی آخری کڑی سیدنا محمدﷺ نے پوری انسانیت کو وحدت کا درس دیا۔ وحدت الٰہ اور وحدتِ آدم کے اصول پر انہیں جمع ہونے کا پیغام دیا۔ قرآن مجید میں اللہ کے رسولﷺ سے کہا گیا کہ آپ اہلِ کتاب کو اس کلمے کی طرف بلائیں جو سب میں مشترکہ ہے اور یہ وحدتِ الٰہ کا تصور ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ شرک تقسیم کرتا، توحید جمع کرتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں جو لیڈر آئے ان سے اچھے کام صادر ہوئے اور ایسے بھی جو چھپائے جانے کے لائق ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض اوقات کوئی برا کام اتنے دوررس نتائج کا حامل ہوتا ہے کہ مرتکب کے اچھے کاموں پراِس طرح غالب آتا ہے کہ انہیں اجتماعی حافظے سے مٹا دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جس نے پہلی بار ملک کو جمہوریت کی پٹری سے اتارا، اس نے پاکستان کوسیاسی استحکام سے محروم کردیا۔ اس سے پاکستان دولخت ہوا اورآج تک ہماری معیشت کو استحکام نصیب ہوا‘ نہ ہمارے معاشرے کو۔ ایسے شخص کے کارنامے اگر ہوں بھی تواجتماعی یادداشت سے محو ہو جاتے ہیں۔
اس کے باوصف لازم ہے کہ ہر دور کا تجزیہ انصاف کے ساتھ کیا جائے۔ بھٹو صاحب کے غیر جمہوری مزاج نے انہیں نقصان پہنچایا اور قوم کو بھی۔ اس کے ساتھ اس امرِ واقعہ کا کیسے انکار کیا جائے کہ انہوں نے پاکستان کو آئین دیا جوآج بھی ہماری قومی اجتماعیت کی واحد اساس ہے۔ اب اگر آئین کی تاریخ لکھی جائے گی تو بھٹو صاحب کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایٹمی پروگرام کی تاریخ میں نوازشریف کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
آج بدقسمتی سے قوم کے پاس کوئی بڑا لیڈر نظر نہیں آتا۔ نوازشریف اس وقت واحد راہنما ہیں جن کا بیانیہ قومی ہے۔ اس بیانیے سے ان کی مخلصانہ وابستگی کے بارے میں سوال اٹھ سکتا ہے مگر اس بیانیے سے اختلاف محال ہے۔ یہ قوم اُسی وقت متحد ہو سکتی ہے جب وہ جمہوریت پر متفق ہو جائے اور اقتدار عوام کے حقیقی نمائندوں کو منتقل ہوجائے۔ یہ انتقالِ اقتدار ظاہرہے کہ ووٹ کی حرمت کو محفوظ بنانے ہی سے ممکن ہے۔ اس بیانیے کے سوا، اس وقت کسی سیاستدان کے پاس کوئی ایسا پیغام نہیں ہے جس پر پوری قوم کو جمع کیا جا سکے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم تقسیم درتقسیم کا شکارہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ ہمارے سیاستدان تقسیم کررہے ہیں اوریہی خدمت اہلِ مذہب بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ افسوس کہ مسندِ اقتدار پربیٹھے لوگ آج بھی انگریزکے اس اصول کو حکومت کی خشتِ اوّل سمجھتے ہیں کہ ‘تقسیم کرواور حکومت کرو‘۔ پہلے دینی تعلیم کے بورڈ مسلک کی بنیاد پر بنائے گئے جس سے تقسیم کوفروغ ملا۔ اب نئے بورڈ بناکر مسالک کو بھی تقسیم کیا جارہا ہے۔ اس میں ظاہر ہے کہ وہ لوگ بھی حکومت کے ہمرکاب ہیں جو اپنے اپنے مسلک کی قیادت کے امیدوار ہیں۔
میرا احساس ہے کہ معیشت سمیت ہمارے تمام امور قومی وحدت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس وحدت کا مطلب ایک ایسی عصبیت کا فروغ ہے جو ‘پاکستان‘ سے منسوب ہو۔ اس کیلئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان جس عصبیت کا نام ہے، اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو نوازشریف کو لیڈر مانتے ہیں۔ وہ بھی جو بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کواپنا راہنما سمجھتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسری جماعتوں سے وابستہ لوگوں کا بھی ہے۔ یہ سب مل کر ایک وحدت کی بنیاد ہیں‘ جسے پاکستان کہتے ہیں۔ عوام کے کسی طبقے کی نفی کرتے ہوئے، پاکستان نام کی عصبیت پیدا نہیں ہوسکتی۔
وحدت کے اس عمل کا آغاز تاریخ کے صحیح تصور کے فروغ سے ہوگا۔ مجھے اس ملک میں کسی ایسے لیڈر کا انتظار ہے جو ماضی کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ جو خودکو ذاتی پسند ناپسند سے بلند کرسکے۔ جو قوم کوایک وحدت میں پرو سکے۔ جو تاریخ کو ایسے بیان کرے جیسے وہ ہے۔ جو سیاسی وابستگیوں سے بے نیاز ہوکر یومِ تکبیر منا سکے اوراسے قومی تاریخ کے ایک اہم دن کے طورپر قبول کرے۔ جو بھٹو صاحب کی قومی خدمات کا اعتراف کرسکے۔ جو مولانا مودودی کے علمی مقام کا معترف ہو۔ جو ولی خان کی اس جدوجہد کو سراہتا ہو جو انہوں نے جمہوریت کیلئے کی‘ وغیرہ۔
لیڈر تاریخ میں اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ وہ تاریخ کا بہتر شعور رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ اپنے عہد سے زیادہ تاریخ میں زندہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سیاستدان وقتی فائدے سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔ لیڈر کے باب میں تویہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ کیا اچھا ہوکہ ہمارے عہد کا دانشور اس سوچ کا علمبردار بن جائے۔ اس ملک کی کوئی ایسی تاریخ لکھی اور بیان کی جائے جو قوم کو جمع کرنے کا کام کرے، تقسیم کا نہیں۔ جو مستقبل پر نگاہ رکھے اور اسے ماضی کا اسیر نہ ہونے دے۔ اس سال یوم تکبیر کا پیغام یہی ہے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں