تم سے نہیں ملے تو کسی سے نہیں ملے ملنا بھی پڑ گیا…

تم سے نہیں ملے تو کسی سے نہیں ملے
ملنا بھی پڑ گیا تو خوشی سے نہیں ملے

دنیا تو کیا کہ خود سے بھی کرتے رہے گریز
جب تک ملے کسی سے، کسی سے نہیں ملے

ہم اپنے دشمنوں سے گلے مل کے آ گئے
جس کے لیے گئے تھے اسی سے نہیں ملے

آنکھیں وہی تو ہیں جو مجھے ڈھونڈتی رہیں
صورت وہی تو ہے جو کسی سے نہیں ملے

ملنے کو زندگی میں سبھی کچھ ملا، مگر
تم مل گئے تو لوگ خوشی سے نہیں ملے

جو بے طلب تھا اسی کی ہمیں جستجو رہی
جو ملنا چاہتا تھا اسی سے نہیں ملے

دیکھو یہ دل ابھی سے بیاباں نورد ہے
ملنا نہ ہو جسے وہ ابھی سے نہیں ملے

(جاوید صبا)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

جواب چھوڑیں