مکتب روایت، وحدت ادیان اور میرا موقف – احمد جاوید

اس موضوع پہ، دانش پہ کل شایع ہونے والے مباحثہ پہ مبنی تحریر (لنک: نومسلم رینے گینوں، مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تصور پر اہم سوالات) کے جواب میں جناب احمد جاوید صاحب کا موقف اس وضاحتی تحریر میں، قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔


دبستانِ روایت کے بعض بنیادی تصورات، مثلاً وحدتِ ادیان پر جو پہلی مخالفانہ آواز اٹھی تھی وہ اس ناچیز کی تھی۔ اس کی تردید میں جتنی محنت میں نے کی ہے وہ کم از کم ہند و پاک میں کسی نے نہیں کی۔ آپ جانتے ہیں کہ میں اپنے بارے میں بات کرنے سے کتراتا ہوں لیکن جو بہتان مجھ پر باندھا گیا ہے اس کی تردید اسی دوٹوک انداز سے کرنی ضروری ہے۔

عسکری صاحب میرے استاد کے استاد ہیں۔ مجھے ان سے محبت ہونی چاہیے تھی اور تھی بھی۔ لیکن جب مجھے ان کے گرو رینے گینوں کے عقائد تفصیل سے معلوم ہوئے تو اس محبت کو دل سے نکلنے میں اتنا وقت بھی نہ لگا جتنا پلک جھپکنے میں لگتا ہے۔ سہیل عمر صاحب، مرحوم سراج منیر اور ان دونوں کے شیخِ تعلیم مرحوم جعفر قاسمی سے زبانی اور تحریری مباحثے مدتوں جاری رہے۔ ایک مرتبہ میرے آٹھ دس تحریری اعتراضات کے جواب میں قاسمی صاحب نے بس ایک فقرہ لکھا: “it makes sense۔” سراج نے بھی کچھ بحثوں کے بعد وحدتِ ادیان کے تصور سے براءت کا اظہار کر دیا اور گولڑہ شریف سے ارادت کا تعلق قائم کر لیا۔ البتہ سہیل عمر صاحب برسوں اس ایک بات پر ڈٹے رہے کہ تم ان لوگوں سے غلط بات منسوب کر رہے ہو۔ ہمارے بزرگ یعنی فرتھجوف شوآن، رینے گینوں، مارٹن لنگز وغیرہ یہ نہیں کہتے کہ اسلام کے علاوہ دیگر ادیان بھی قیامت تک‌ لیے Valid ہیں۔

Frithjof Schuon | Hindu philosophy, Advaita vedanta, Sufism

فرتھجوف شوآن

مارٹن لنگز جب انگلستان سے لاہور آیا کرتے تھے تو سہیل صاحب ہی ان کی میزبانی کرتے تھے۔ انھوں نے مجھے مارٹن لنگز سے دو بار ملوایا۔ پہلی ملاقات پانچ دس منٹ کے لیے ناشتے کی میز پر ہوئی البتہ دوسری ملاقات قدرے تفصیلی تھی جس میں میرے دو نومسلم دوست بھی شریک تھے۔ محمد یوسف (کینیڈا) اور محمد ابوبکر (آسٹریا)۔ اس مجلس میں یہ موضوع چھڑ گیا اور مارٹن لنگز نے بالکل صاف لفظوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ کہا کہ مسیحیت وغیرہ اپنے ماننے والوں کی نجات اور وصول الی اللہ کے لیے اسی طرح کافی ہیں جس طرح اسلام مسلمانوں کے لیے۔ اس پر محمد یوسف ان سے الجھ پڑے اور یہ مجلس ایک بدمزگی پر ختم ہوئی۔ باہر نکل کر محمد یوسف نے سہیل صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے ایسے باطل خیالات رکھنے والے کو اپنا شیخ بنایا ہے! جواب میں سہیل صاحب ان کی بالکل واضح باتوں کی تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اتنا تو وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ اب بات نہیں بنے گی۔ یہ 1986 کا واقعہ ہے۔ اگلے ہی دن میں نے حجت تمام کرنے کے لیے پہلے اس دبستان کے اماموں کو پڑھنے کا آغاز کر دیا۔ درمیان میں ایک مضمون ہاتھ لگا جس کا عنوان تھا: “With all thy mind”۔ مصنف تھے وہی مارٹن لنگز جن کے سہیل عمر صاحب مرید تھے۔ اس مضمون نے تو بات ہی صاف کر دی۔ بہرحال، اس مضمون کو لے کر سہیل صاحب کے پاس پہنچا کہ جناب یہ کیا ہے؟ محبت اور عقیدت نے انھیں یہاں بھی دفاع پر مجبور کیا تو میں نے جعفر قاسمی صاحب سے رجوع کیا جو اس وقت پاکستان میں مارٹن لنگز کے خلیفہ تھے۔ انھوں نے بھی وہی کہا جس کا سہیل صاحب انکار کر رہے تھے۔ اب معاملہ کھل گیا اور میرا رہا سہا تکلف بھی ختم ہو گیا۔ کھلے عام دبستانِ روایت پر تنقید شروع کر دی۔ جو دوست ان سے متاثر تھے وہ بھی ہوش میں آ گئے۔ اکیڈمی کے مجلے اقبالیات میں بھی لکھا اور کئی مجلسوں میں ان کا طلسم توڑنے کی کوشش کی۔ اور یہ سارا کام مفتیوں کی طرح نہیں بلکہ صوفیوں کی اصطلاحات میں کیا جن سے ان کا لٹریچر بھرا پڑا ہے۔ پھر اتفاق سے مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک رسالہ مل گیا جس کا نام تھا “توحید الحق”۔ اس کا موضوع ہی یہ تھا کہ وحدتِ ادیان، بلکہ زیادہ صحیح لفظوں میں مساواتِ ادیان کا تصور پورا کا پورا خلافِ قرآن و حدیث ہے۔ یہ پڑھا تو پھر کچھ بڑے علما کو اس دبستان کے بنیادی عقائد سے مطلع کیا۔ مجھے یاد ہے کہ مفتی جمیل احمد تھانوی نے تو تحریری شکریہ بھی بھیجا کہ تم نے ان دھوکے بازوں کا پردہ چاک کر دیا۔

Perennial Philosophy - Sophia Perennisاسی دوران میں ان کی بڑی کتابوں سے کوئی دو سو کے لگ بھگ حوالے بھی نکالے جن میں صرف کثرتِ ادیان اور ان کی یکساں حیثیت ہی نہیں، اور بھی کچھ وحشت ناک تصورات بیان ہوئے تھے۔ مثلاً “روایت” کا تصور، Perennial Wisdom کا نظریہ اور وحی کا تصور۔ یہ تصورات Validity of all Religions سے بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام ادیان حقیقتِ واحدہ کے جزوی مظاہر ہیں۔ اس حقیقت کا کلی اظہار، ادراک اور انکشاف Esoteric ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں حقیقت یا حق کی معرفت شوآن ایسے لوگوں کو انبیا سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ شوآن وغیرہ حق کے دائرے کے وسط میں ہیں جبکہ انبیا اس کے کناروں پر ہے۔ اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لیے انھوں نے اس دائرے کا ایک خاکہ بھی بنایا ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ حقیقت من حیث الکل جیسے سورج ہے اور نبیوں کے لائے ادیان اس کی کرنیں۔ یعنی باطنیت کی رسائی سورج تک ہے۔

پھر انھی دنوں میں دو اور واقعات ہوئے۔ میرے ایک دوست تھے سالم عبداللہ جو حال ہی میں فوت ہوئے ہیں۔ یہ بھی نومسلم سفید فام امریکی تھے اور وہاں کسی یونیورسٹی میں پڑھایا کرتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کا معمول تھا کہ ہر سال کچھ مہینے پاکستان میں گزارا کرتے تھے۔ وہ سہیل صاحب کے بھی دوست تھے اور ہمارے اختلاف سے واقف تھے۔ ایک مرتبہ حسبِ معمول پاکستان آئے تو ایک کتاب بھی لائے۔ وہ کتاب شوآن کے رد میں لکھی گئی تھی۔ مصنف کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ یہ شخص جنسی کجروی کا مریض ہے اور اس مرض کو روحانی کمال تک پہنچنے کے لازمی ذریعے کی طرح مریدوں خاصکر خاتون مریدوں کو تعلیم کرتا ہے۔ اور یہ تعلیم تھیوریٹکل سے زیادہ پریکٹیکل ہوا کرتی تھی۔ اس اخلاقی گراوٹ کے تصویری ثبوت بھی اس نے کتاب میں شامل کر دیے۔ یہ دس پندرہ تصویریں تھیں جو غالباً شوآن ہی کے کہنے پر کھینچی گئی تھیں۔ ان میں شوآن مادر زاد ننگا ہو کر بالکل برہنہ عورتوں کے ساتھ مختلف حالتوں میں فوٹو شوٹ کروا رہا ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی پتا چلا کہ یہ اس کے سلسلے کے آخری اسباق میں سے ہے جسے ابراہیمی روحانی روایت کا احیا کہا جاتا ہے۔ اس برہنگی کی معنویت یہ بتائی جاتی ہے کہ بندگی میں خالص ہو جانے اور اللہ کی تنزیہی شان سے نسبت پیدا ہو نے کی علامت ہے۔ ویسے بھی جنسی ہراسانی کے الزامات پر شوآن کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوئی۔ اور صرف اتنا ہی نہیں، سالم صاحب نے شوآن کی مصوری کے نمونے بھی دکھائے جو مرقعِ چغتائی سے بھی زیادہ زیب و زینت کے ساتھ اسی حلقے کی طرف سے شائع کیے گئے تھے۔ یہ شخص خود کو بی بی مریم کا بیٹا قرار دیتا تھا اور اپنے سلسلے کو مریمی سلسلہ کہتا تھا۔ اس نسبت سے اس نے کئی ایسی تصویریں بنا کر اس البم میں چھپوائیں جن میں معاذ اللہ قیامت تک عورتوں میں سب سے افضل ہستی کو یکسر بے لباس پینٹ کیا گیا ہے اور بوڑھے شوآن کو ان پاک بی بی کی گود میں لیٹا بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ اور ایک آدھ تصویر تو ایسی ہے جس میں مقدس مریم کے رحم سے اس دجال کا پیدا ہونا دکھایا گیا ہے۔

VII – THE PERENNIAL PHILOSOPHY AND THE UNIVERSAL BROTHERHOOD: The Diversity of the Manifested Capacities | Brotherhood, Perennials, Body anatomyیہاں سے میں نے ایک تند اور جارحانہ رویہ اختیار کر لیا جس سے ہمارے تعلق میں خاصی پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ ان کی اقتدا میں نماز پڑھنی چھوڑ دی جو تقریباً روز کا معمول تھا۔ تاہم ان کا رویہ بدستور دوستانہ اور خیر خواہانہ رہا۔ سہیل صاحب اقبال اکیڈمی کے گویا مختارِ کل تھے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہمیشہ مبالغے کے ساتھ میرے مفادات کا خیال رکھا اور ناظمِ اعلیٰ ہونے کے باوجود اپنا شاگردانہ انداز برقرار رکھا۔ یہ تحمل حیرت انگیز ہے کہ میرے انتہائی درشت بلکہ کہیں کہیں تضحیکی رویے کو دوستی پر اثر انداز نہ ہونے دیا۔

بہرحال، یہ ماضی کا قصہ ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ سال ڈیڑھ پہلے سہیل عمر صاحب نے میرے سامنے ان تمام چیزوں سے براءت کا اظہار کر دیا جو ہمارے درمیان سنگین اختلاف کا سبب بنیں۔

فیس بک پر چلنے والی اس بحث میں ظاہر ہے کہ جلیل عالی صاحب، ابرار حسین صاحب اور ادریس آزاد صاحب ہی کا مؤقف درست ہے۔ البتہ آزاد صاحب اگر اس قضیے میں میری پوزیشن مجھی سے پوچھ لیتے تو اچھا ہوتا۔ اس کے علاوہ آزاد صاحب نے مجھے “ترکیبِ رسولِ ہاشمی” کے “منحرفین” میں شمار کیا ہے۔ ان کا یہ ارشاد بھی دو پہلوؤں سے ناروا ہے۔ ایک تو یہ خلافِ واقعہ ہے، اور کمیونسٹوں کی اصطلاح ہے جس کا مطلب وہی ہے جو ہماری روایت میں تکفیر کا ہے۔ نیز اس اصطلاح کا استعمال دینی اعتبار سے بھی ایک سنگین بے احتیاطی ہے۔ اقبال بلکہ ان سے بڑے دینی مفکرین کی یہ حیثیت ہرگز نہیں ہے کہ ان کی فکر سے کلی یا جزوی اختلاف کو انحراف کا نام دیا جائے۔ اس شکایت کے بعد عرض یہ ہے کہ بھائی، اردو بولنے والی دنیا میں دبستانِ روایت کے ناقدین میں اس اجہل کے برابر گینوں، شوآن وغیرہ کو شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ ان کے دجل پر پڑا ہوا دبیز پردہ یہاں سب سے پہلے اس ناچیز ہی نے چاک کیا ہے۔ یہ خدا نخواستہ کوئی تعلی نہیں ہے بلکہ ایک مزدور کی طرف سے کام چوری کے غلط الزام کا جواب ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں