بدلتا سیاسی منظر نامہ۔۔اسلم اعوان


نئی جدلیات پی ڈی ایم نے آخرکار پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کر کے اُس طویل المدتی سیاسی جدلیات کی بنیاد رکھ دی،جس کا مقصد سویلین بالادستی کا حصول ہو گا،لاریب، اسی کشمکش میں پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم کے پاو¿ں کی زنجیر تھی جس سے نجات پائے بغیر وہ منزل مقصود کی طرف بڑھ نہیں سکتے تھے،چنانچہ اِسی تفریق سے قومی سیاست کی پولرآئزیشن دو واضح نقطہ ہائے نظر میں بٹ گئی جس میں عام شہری کو اپنی رائے متعین کرنے میں کافی سہولت ملے گی،خاص طور پہ دو انتہائی مو¿ثر پروفشنل تنظیمیں، وکلاءاور صحافی،بھی آئین و قانون کی حکمرانی اور سویلین بالادستی کی موومنٹ کا حصہ بن رہے ہیں،اس عہد کے روح کی ترجمانی کرنے والے شاعروں،ادیبوں اور فنکاروںنے جس دن ان مزاحمتی تحریکوں کا کھل کے ساتھ دیا تو ہمارا سماج اُس یوم نجات کو پا لے گا جس کی آرزو ہمیں فیض احمد فیض کی نظموں میں ملتی ہے۔”وہ دن کے جس کا وعدہ ہے،جو لوح ازل پہ لکھا ہے“۔علی ہذالقیاس،پیپلزپارٹی بھی شاید دو کشتیوں کی سواری کی سرگرانی میں اپنی ساکھ اور قوت عمل گنوا رہی تھی چنانچہ وہ بھی پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے نئے مستقبل کا تعین کر سکے گی بلکہ مسٹرزرداری مزاحمت کی وادی پُرخار میں آبلہ پائی کی بجائے مفاہمت اور عملیت پسندی کی خوبصورت اصطلاحات میں مورچہ زن ہو کے حالات کے جبر سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔جملہ متعرضہ یہ ہے کہ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے،پچھلے سو سالوں میں پہلی بار سندھ کی اجتماعی سیاسی ذہانت طاقت کے مراکز سے وابستہ نظر آتی ہے،پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت تمام سندھی قوم پرست تنظیمیں اور ان کی حاشیہ نشیں سرائیکی نشنلسٹ خود کو قوت کے مراکز سے وابستہ رکھنے میں آسودگی پاتے ہیں،اس سے قبل پنجاب کو انہی سیاسی رویّوں کا اسیر سمجھا جاتا تھا۔بہرحال،اپنی پچاس سالوں پہ پھیلی تاریخ میں بے پناہ دکھ بھوگنے کے باوجود پیپلزپارٹی عوامی سطح پہ کوئی موثر مزاحمتی بیانیہ تشکیل نہ دے سکی اس کے برعکس مصائب و ابتلاءکی پُرشورآندھیوں کے تھپیڑے کھانے کے الرغم نواز لیگ قومی سیاست کے افق پر ایک فعال مزاحمتی قوت بن کے ابھری،جس کے مقبول بیانیہ نے اُن پیش پا افتادہ سیاسی گروہوں کو بھی اپنے سیاسی تصورات میں ڈھال کے اجتماعی قومی وجود سے مربوط کر لیا جن کی شناخت مرکز گریز نظریات سے مملو سمجھی جاتی تھی۔ذولفقار علی بھٹو اور ان کے جانشینوں کی موت کے بعد پیپلزپارٹی نے مسٹر بھٹو کے جمہور کی حکمرانی کے سیاسی بیانیہ کو ترک کرکے ایوان اقتدار سے ہم آہنگ رہنے کی پالیسی اپنا کر مزاحمتی سیاست سے دامن چھڑایا تو عوام سے ان کے رابطے ازخود منقطع ہوتے گئے،اس لئے بے نظیر بھٹو جیسی مقبول لیڈر کے جانشین بلاول بھٹو آج کی نسل میں اپنے نئے پیروکار پیدا کر سکے نہ نوجوانوں کے لئے ان سیاسی کردار میں کوئی کشش پائی جاتی ہے،ذولفقار علی بھٹو اور پھر بے نظیربھٹو پہ جان نجھاور کرنے والے کارکنوں پہ مشتمل وہ گداز نسلیں بوڑھی ہوکے سیاسی فعالیت کھو بیٹھی ہیں جن کا مقدس لہو کبھی سیاست کے افسانہ میں رنگ بھرا کرتا تھا تاہم فی الوقت اقتدار کے نشہ سے سرشار بلاول بھٹو زرداری کو بھی اپنی نئی فالوونگ پیدا کرنے کی کوئی فکر دامن گیر نہیں،چنانچہ پیپلزپارٹی کی سنہ 1980 کی دہائی کے تھکے ہوئے فرسودہ لیڈروں اورکَرم خوردہ سیاسی کارکنوں کی موجودہ ٹیم اس عہد نو کی ڈیجیٹل پالیٹیکس میں کوئی کردار ادا کرنے کی اہل نہیں رہی،اس لئے رفتہ رفتہ پیپلزپارٹی صحت مند مقابلہ کے میدان سے باہر ہوتی گئی،اس کے برعکس نوازشریف نے سنہ1993 میں جس موہوم سی مزاحمت کی ابتداءکی تھی اسے کبھی فراموش نہیں کیا،اپنی 35سالہ سیاسی زندگی میں وہ بتدریج ایک نوآموز سپاہی کی طرح مزاحمتی سیاست کی جانب کرالنگ کرتے رہے،اس جدوجہد کے دوران اگرچہ کئی بار انہیں مکمل سکوت اور پسپائی بھی اختیار کرنا پڑی لیکن وہ ذہنی طور پہ اپنی مزاحمتی سوچ سے کبھی دستبردار نہ ہوئے،کئی دفعہ سیاسی سمجھوتوں اور سودابازیوں کے باوجود ہر بار وہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے باز نہ آئے،اس طویل مزاحمتی عمل میں جہاں انہوں نے پاور پالیٹیکس کی رمز و کنایہ کو سمجھا وہاں وہ مزاحمتی سیاست کے فن میں بھی مہارت حاصل کرکے مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتے رہے،انہی گداز تجربات کے دوران انہوں نے مخالف قوتوں کی طاقت اور کمزوریوں کا درست تخمینہ لگانے کے بعد وہ آخری بات کہہ دی جسے ہمارے کئی عظیم لیڈر اپنے دِلوں میں چھپائے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان سب سے بڑھکر نوازشریف نے مریم نواز کی صورت میں اپنی ایسی سیاسی جانشین بھی پیدا کر لی جس نے مزاحمتی سیاست کو نئے انداز بخش کر عہد جدید کے ڈیجٹل سماج میں اپنی بھرپور فالوونگ پیدا کر لی،مریم نواز اِس وقت مزاحمت کا دلکش استعارہ اور نوازشریف سے بھی زیادہ مقبول سیاسی لیڈر بن کے ابھر رہی ہیں،جس میں،نوجوان نسل،خاصکر خواتین کے لئے کافی کشش پائی جاتی ہے۔اگر سیاست کے طالب علم تحیقیق کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ذولفقار علی بھٹو کی مقبولیت کا راز بھی یہی تھا کہ وہ پہلے ایسے سیاسی رہنما تھے جنہیں ملک کے طول و ارض میں دیہی اور شہری سماج میں بسنے والی اُن عورتوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی،جن کی گود میں پلنے والے بچے بعد میں بے نظیر بھٹو کی سیاسی قوت بنے۔ پیپلزپارٹی اگر دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے قبل اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کر کے اقتدار میں کچھ حصہ پانے کی بجائے خود کو مزاحمتی تحریکوں سے وابستہ رکھتی تو بلاول بھٹو زرداری کو نئی نسل میں اپنی فالوونگ پیدا کرنے میں کامیابی مل سکتی تھی لیکن وہ ہر قیمت پہ سندھ میں اقتدار حاصل کرنے کی جنوں میں یہ خوبصورت موقعہ گنوا بیٹھے،مریم نواز نے بھی تو اپریل دوہزار سترہ میں انتہائی مشکل حالات میں اپنے والد کی انگلی پکڑ کر قومی سیاست میں اپنے لئے جگہ بنائی تھی اگر اس مرحلہ پہ وہ آگے بڑھ کر مسلم لیگ کی مزاحمتی سوچ کی قیادت نہ کرتیں تو وہ بھی اپنے مستقبل کو بلاول بھٹو کی طرح ایک بے نام حیثیت کے سپردکر چکی ہوتیں لیکن انہوں نے صیحح وقت پہ درست فیصلہ کر کے قومی سیاست میں نہ صرف اپنا مقام پیدا کیا بلکہ آزمائش کی بھٹی سے اپنے خاندان کو سُرخرُو باہر نکالنے میں بھی کامیابی پائی،مریم نواز کی فعالت کی بدولت قومی سیاست پہ نوازلیگ کی گرفت مضبوط ہوتی گئی،اب کوئی قوت مستقبل کی سیاست میں ان کے کردار کو محدود نہیں کر پائے گی۔25 جولائی 2018 کے بعد بھی پیپلزپارٹی کومزاحمتی سیاست میں کردار ادا کرنے کے کئی مواقع ملے لیکن سابق صدر آصف علی زرداری کی سوچ لیلیٰ اقتدار سے اس طرح ہم آغوش ہوئی کہ وہ مزاحمتی سیاست کے عواقب کا سامنا کرنے کی ہمت گنوا بیٹھے بلکہ اجڑی ہوئی اپوزیشن جماعتوں نے پیپلزپارٹی کو حد سے زیادہ پذیرائی دیکر اپنے سیاسی مستقبل سے اور بھی زیادہ غافل بنا دیا،چنانچہ پہلے مرحلہ میں پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کو انگیج کرکے انہیں انتخابات میں دھاندلی کے ایشو کو جواز بنا کے اسمبلیوں کے بائیکاٹ سے روک لیا،پھر وزیراعظم کے انتخابات کے موقعہ پر آصف علی زرداری نے آخری وقت پہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف پہ اعتراض اٹھا کر عمران خان کو وزارت اعظمی کے منصب تک پہنچانے میں سہولت فراہم کی،صدراتی الیکشن کے مرحلہ پر بھی مسٹر زرداری نے اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمن کی حمایت کے برعکس اعتزار احسن کوپیپلزپارٹی کا امیدوار بنا کر پی ٹی آئی کے امیدوار عارف علوی کی راہ کے کانٹے چُن لئے،مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کو بے اثر بنانے کے لئے پیپلزپارٹی نے چوہدری برادران کے علاوہ شہبازشریف کو بروکار لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،پھر چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف بلاوجہ عدم اعتماد کی تحریک میں گھسیٹ کر اپوزیشن جماعتوں کے حوصلے توڑ ڈالے،جس سے نواز لیگ اور مولانا فضل الرحمن،دونوں مبہوت ہو کے رہ گئے،انہی شدید سیاسی جھٹکوں کے بعد جب مولانا فضل الرحمن اور نوازشریف میں خفیہ رابطہ کاری موثر صورت اختیار کرنے لگی تو پیپلزپارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس کا سوانگ رچا کے ایک بار پھر اپوزیشن کو انگیج کرنے کی سکیم بنائی تاہم اس بار پی ڈی ایم کی تشکیل کے دوران ہی نوازشریف نے بلاول بھٹو کے تحفظات مسترد کرکے پہلے مرحلہ میں مولانا فضل الرحمن کو پی ڈی ایم کا مستقل صدر بنانے میں کامیابی پائی اور پھر گوجرنوالہ کے جلسہ میں طاقت کے مراکز کو براہ راست للکار کر پیپلزپارٹی کے لئے پی ڈی ایم کی رفاقت دشوار بنا دی اور بلآخر دونوں پختہ کار رہنماوں نے سینٹ الیکشن میں مسٹرزرداری کی روایتی چالبازیوں کو طشت ازبام کرکے انہیں پی ڈی ایم چھوڑنے پہ مجبور کر دیا۔اب تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں راقم نے مولانا فضل الرحمن سے پی ڈی ایم کی اعلانیہ حکمت عملی بارے سوال پوچھا تو انہوں نے جواب دیا”نئی صورت حال،نیا مستقبل،نئی حکمت عملی جسے سابقہ پالیسیوں کے امتزاج کے ساتھ استوار رکھنا ہماری جدوجہد کا محور ہو گا“ گویا پی ڈی ایم اب رجیم چینج کی بجائے تیزی سے غیر مقبول ہوتی حکومت کو مسلسل دباو میں رکھنے کے علاوہ کمر توڑ مہنگائی اور گورنمنٹ کی خارجہ پالیسی کی خامیوں کو ہدف تنقید بنائے گی۔لاریب،اس وقت افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلاءکے بعد خطہ میں شروع ہونے والی تزویری ٹرانزیشن جیسے نازک مرحلہ پہ مملکت کی عنان سمبھالنا انتہائی خطرناک کام ہو گا،اس لئے گرگ باراں دیدہ کی طرح اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نہایت خاموشی کے ساتھ عمرانی حکومت گرانے کے موقف سے دستبردار ہو گئی۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں