اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے میرے ہونٹوں …

اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے
میرے ہونٹوں پہ مرے نام کا بوسہ رکھ دے

حلق سے اب تو اترتا نہیں اشکوں کا نمک
اب کسی اور کی گردن پہ یہ دنیا رکھ دے

روشنی اپنی شباہت ہی بھلا دے نہ کہیں
اپنے سورج کے سرہانے مرا سایہ رکھ دے

تو کہاں لے کے پھرے گی مری تقدیر کا بوجھ
میری پلکوں پہ شب ہجر یہ تارا رکھ دے

More

جواب چھوڑیں