میرے لہجے میں مرے زخم کی گہرائی ہے روشنی رات کے …

میرے لہجے میں مرے زخم کی گہرائی ہے
روشنی رات کے آنگن میں اتر آئی ہے

پھر مجھے پیار کے ساحل پہ ٹھہرنا ہوگا
پھر ترے دل کے دھڑکنے کی صدا آئی ہے

در و دیوار پہ کچھ عکس اتر آتے ہیں
میرے گھر میں عجب انداز کی تنہائی ہے

صرف پھولوں میں نہیں ہیں تیرے چہرے کے رنگ
ماہ نو بھی تری ٹھہری ہوئی انگڑائی ہے

وہ صبا سب جسے آوارہ کہا کرتے ہیں
تیرے آنچل کی مہک میرے لئے لائی ہے

قہقہہ بار رہو شعلۂ غم سے نہ ڈرو
ورنہ اس شہر ہنر میں بڑی رسوائی ہے

(جاذب قریشی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

جواب چھوڑیں