دوطرفہ جنگی بیانیہ کا اختتام قریب ہے؟۔۔اسلم اعوان

افغانیوں کی قسمت ایک بار پھر تغیرپذیر عوامل کی ٹھوکر سے ناقابل ِ یقین تبدیلیوں سے ہم آغوش ہونے والی ہے، تاہم یہ پالیسی شفٹ کچھ ایسے سوالات کو جنم ضرور دے گی جو وہاں کے جمود پرور معاشرے کے ذہنی ارتقاءکا زینہ بن سکتے ہیں،اس وقت افغان شہریوں کی سب سے بڑی الجھن یہ ہے کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران عالمی طاقتوں نے وہاں بڑے پیمانے پہ ترقیاتی کاموں کے جال بچھا کر افغانستان کے شہری تمدن کو جس قسم کی سماجی سہولیات سے روشناس کرایا،کیا طالبان ان کے موجودہ معیار ِ زندگی کو برقرار رکھ پائیں گے؟

ریاستی امور چلانے کا جدید خطوط پہ کھڑا انتظامی ڈھانچہ،ملک کے طول وارض میں پھیلے نقل و حمل کے جدید وسائل اور رسل و رسائل کا فعال انفراسٹرکچر،کابل،قندھار اور جلال آباد کی جدید یونیورسٹیز،انگلش میڈیم سکولز اورکالجز کے علاوہ ہسپتالوں کا وہ نظام جس میں خواتین کی قابل ذکر تعداد کارفرما نظر آتی ہے،کو طالبان کی امارات اسلامی کا تصور اپنے تخیل میں سمو سکے گا؟

tripako tours pakistan

اسی طرح آبپاشی کے جدیدترین وسائل،ریلوے سسٹم اور ہوائی سروس کا مضبوط نظام،جسے بحال رکھنے کے لئے غیرمعمولی مالی وسائل اور مناسب تعداد میں ماہر عملہ کی ضرورت پڑے گی،اسے کون ریگولیٹ کرے گا؟۔

دوسری جانب امریکی اسٹبلشمنٹ بھی شدت کے ساتھ اس سوال پہ غور کر رہی ہے کہ فوجی کے انخلاءکے بعد افغانستان کے بڑے شہروں کو طالبان کی یلغار سے بچانے کے لئے افغان فورسسز کو فضائی مدد دی جا سکتی ہےِ؟ کیا کابل سمیت بڑے شہروں کا سکوت روکنے کے لئے صدر جوبائیڈن فوجی انخلاءکے طے شدہ منصوبہ میں کسی ممکنہ ردّ و بدّل پہ آمادہ ہو جائیں گے؟

پھر ایسی اضافی کارروائیوں کو تادیر بحال رکھنا اور افغان گورنمنٹ کو لمبے عرصہ تک بچانا کیونکر ممکن ہو پائے گا؟۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق مسٹربائیڈن اور قومی سلامتی کے مشیروں نے پہلے تو تہیہ کر لیا تھاکہ فوجی انخلاءکے ساتھ ہی فضائی مدد روک دی جائے گی لیکن اب وہ اس لئے اپنے فیصلہ پر نظرثانی پہ آمادہ ہیں کہ اگر سرعت پذیر فوجی پسپائی نے قومی سلامتی کےلئے مضمرات پیدا کئے تو ردِ عمل کیسے دیا جائے گا؟۔

اگرچہ امریکی حکام تاحال کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے لیکن اس ضمن میں یہ آپشن زیر غور ضرور ہے کہ امریکی جنگی طیارے یا مسلح ڈرون دارالحکومت کابل کے ممکنہ سکوت یا محاصرہ کی صورت میں امریکہ سے منسلک سفارت خانوں اور شہریوں کو لاحق خطرات سے بچانے کے لئے حرکت میں لائے جا سکتے ہیں تاہم پنٹگان کے کئی اہم عہدہ داروں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس طرح کی فضائی مدد طویل عرصہ تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ امریکہ اگلے ماہ افغانستان کے تمام فضائی اڈے چھوڑ دے گا چنانچہ ایسی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ممکنہ طور پر خلیج فارس کے ٹھکانوں سے فضائی حملے کرنا پڑیں گے،جس کے لئے صدر جوبائیڈن کی پیشگی منظوری درکار ہو گی۔

بلاشبہ جولائی تک غیر ملکی فوجیں نکل جانے کے بعد کابل کا ممکنہ سکوت ایسا بحران ہے، جسے ٹالا نہیں جا سکتا، تاہم ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے امریکہ سے زیادہ پڑوسی ممالک کو منصوبہ بندی کی ضرورت تھی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں طالبان فورسز نے ملک کے ہر گوشہ میں تیزی کے ساتھ پیشقدمی کی، اس لئے واشنگٹن میں طالبان کے غلبہ کو روکنے اور کابل سمیت پورے ملک پہ کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے افغان گورنمنٹ کی فوجی اہلیت بارے تشویش پائی جاتی ہے لیکن فوجی انخلا کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کو ہوائی مدد دینا بھی نئی افغان پالیسی بارے بہت سے سوالات پیدا کر دے گی۔

ابھی یہ بھی طے نہیں ہوا کہ امریکہ دہشت گردی کے مبینہ انسدادی مشن کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے القاعدہ اور دیگر عسکریت پسندوں کی افغانستان میں نئی صف بندی روکنے اور مغربی کنٹریکٹرز کو افغان فوج سے تعاون جاری رکھنے کی اجازت کیسے دے گا؟۔

چنانچہ اس وقت سی آئی اے ملک میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور دہشت گردی کے خلاف انسدادی مشن کی خاطر نئے طریقے تلاش کرنے کے لئے شدید دباؤ  کا شکار ہے۔سینئر امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ بلآخر افغان افواج کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا،ان کے مغلوب ہو جانے کا خطرہ ہمہ وقت موجود ہے،خاص طور پر اگرکمانڈوز اور فضائیہ کے دستے بکھرگئے تو صورت حال یکسر بدل جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے،اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکہ ان دیہی علاقوں میں افغان فورسز کو اضافی فضائی مدد دے سکے گا،جن میں سے بیشتر پہلے ہی طالبان کے زیر ِ کنٹرول ہیں اور خاص کر ایسے میں جب ملک کے چاروں اطراف حکومتی وجود محاصرے میں ہو ،امریکی جنگی فضائیہ زیادہ مدد فراہم نہیں کر پائیں گے۔

ایک امریکی عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ جب مسٹر بائیڈن نے اپریل میں انخلا کا اعلان کیا تو انہوں نے افغان حکومت بشمول سکیورٹی فورسز کی حمایت کا وعدہ تو کیا تھا تاہم یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ ہمارا سفارتی اور دوستانہ تعاون تو جاری رہے گا لیکن موسم گرما میں فوجوں کے انخلاء کے بعد افغان فورسسز کو ملکی دفاع کا فریضہ خود سرانجام دینا پڑے گا۔

جمعرات کے روز سینیٹ کی سماعت میں ٹائمز کے مضمون بارے پوچھے گئے سوال پر سیکریٹری دفاع جے آسٹین نے افغانستان میں آئندہ کسی بھی جنگی کارروائی پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔مسٹر آسٹن نے کہا،امریکی فوجی دستوں کے انخلا کے دوران ہم اب تک تو افغان سکیورٹی فورسز کو کچھ فضائی مدد دے رہے ہیں لیکن انخلاءکے بعد انہیں مزید تعاون دینا “بہت مشکل” ہوگا کیونکہ امریکی جنگی طیارے اور مسلح ڈرون ملک سے باہر ہوں گے۔

تاہم بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی پالیسی میں کچھ تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے،ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ میں یہ بحث چھڑ ی ہوئی ہے کہ افغانستان میں ممکنہ انتشار کا حقیقی محرک کون ہو سکتا ہے، جسے فضائی حملوں  میں ہدف بنایا جا سکے۔یہ بحث عراق میں دولت اسلامیہ کے عروج سے حاصل کردہ اسباق کی عکاسی کرتی ہے،جس نے 2014 میں اوبامہ انتظامیہ کو عراقی شہروں کے دفاع کے لئے فوج اور فضائی کور واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔

سینئر عہدیداروں نے بتایا کہ اس وقت کابل کا سکوت صاف نظر آرہا ہے،افغان کمانڈرز کہتے ہیں، انہیں امریکی ہم منصبوں نے بتایا تھا،امریکہ بڑے شہروں پر قبضہ روکنے کے لئے فضائی قوت استعمال کرے گا،خاص کر نگرانی کرنے والے ڈرونز افغان فضائیہ کے لئے اہداف کی نشاندہی کرتے رہیں گے لیکن غیر ملکی ٹھیکیداروں کے انخلا کے بعد افغان پائلٹوں اور ہوائی جہازوں کو دن بدن بحالی کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا،جس سے ان کی قوت مدافعت بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گزشتہ ماہ ایوان میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کی کمیٹیوں میں شریک نمائندوں نے صدر جوبائیڈن پر فوجی انخلاءکے بعد افغان حکومت کو مدد فراہم کرنے کی اپیل کی گئی،جس میں نگرانی کے لئے جاسوسی طیارے کے ذریعہ طالبان حملوں بارے  پیشگی  معلومات کی فراہمی کی سفارشات بھی شامل تھیں۔اعلیٰ  امریکی جرنیلوں نے اعتراف کیا ہے کہ مغربی افواج کی دستبرداری کے بعد افغان سکیورٹی فورسز ایک یا دو سال یا چند مہینوں بعد گر سکتی ہیں۔

جنرل مارک اے ملی نے گزشتہ ماہ اپنے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کو افغان افواج کی اہلیت بارے حیرت انگیز معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 20 سال کی جنگ میں ہزاروں ہلاکتوں پہ محیط تجربات اور افغان فوج اور پولیس کی تربیت پر بھاری رقوم خرچ کرکے انکی استعداد کار میں معقول حد تک اضافہ کر دیا گیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا افغان افواج ملک کو سنبھال لیں گی؟۔۔ تو جنرل صاحب نے کہا، میرے خیال میں یہاں بہت سے منظرنامے ہیں،نتائج کی طویل حدود اور امکانات کی وسیع دنیا موجود ہے “انہوں نے کہا،ایک طرف آپ کو واقعی کچھ ڈرامائی طور پہ خراب نتائج ملتے ہیں تو دوسری طرف ایسی کوآرڈینٹنگ ملٹری اور ایسی حکومت بھی ملے گی جو مل کے کام کرتی رہی ہے۔

اس سوال پہ کہ اب اس اتحاد میں کون ختم ہو گا اور کون حقیقت بنے گا؟ تو جنرل نے کہا “ہمیں ابھی تک واضح طور پر پتہ نہیں”۔جب گذشتہ ماہ پینٹاگون کی نیوز کانفرنس میں سوال پوچھا گیا کہ فوجی انخلاءکے بعد طالبان کی طرف سے بڑے شہروں پہ قبضے کا خطرہ موجود ہےِ؟ تو مسٹر آسٹن نے جواب دیا کہ کیا امریکہ محض مفروضہ پر فضائی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کر لے گا؟۔

تاہم انہوں نے ہاؤس کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا “ہم افواج کی واپسی تک ان کی کچھ مدد کر سکتے ہیں،لیکن ایک بار جب افغانستان سے نکل گئے تو افغان فوج کی براہ راست مدد،جیسے ایئرسٹرائیک،پہ فی الحال غور نہیں کیا جا رہا۔تین دیگر امریکی عہدیداروں نے بھی بتایا کہ افغانستان سے متعلق انتظامیہ کے اعلی سطح کے اجلاسوں میں بعداز انخلاءکی صورت حال سے نمٹنے کے معاملہ پہ اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

Advertisements

merkit.pk

اس پوری صورت حال سے تو یہی لگتا ہے کہ امریکی مقتدرہ افغانستان پہ طالبان کے غلبہ کواس امید سے دیکھتی ہے کہ میدان جنگ میں ناقابل تسخیر رہنے والے طالبان کو اقتدار کی گراں بار ذمہ داریاں ٹرانسفارم کر لیں گی۔بلاشبہ اب کی بار طالبان کو ایک بدلا ہوا افغانستان ملے گا جسے کے عوام زندگی کی بنیادی سہولیات کے خوگر اور سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی سماج کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں