انتخابی اصلاحات: اتفاق رائے کی کمی

رانا زاہد اقبال
انتخابی نتائج موصول ہوتے ہی ہارنے والوں کا دھاندلی کا واویلہ روایت بن چکا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں کامیابی حاصل کرتی ہیں وہ انتخابات کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے شفاف اور منصفانہ ترین انتخابات قرار دیتی ہیں مگر ہارنے والی پارٹیاں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینا شروع کر دیتی ہیں اور یہی پارٹیاں جب خود انتخابات جیتتی ہیں تو ان کے خیال میں وہی انتخابات صرف ملکی تاریخ میں آج تک شفاف اور منصفانہ ہوئے ہیں اور اسی طرح وہی پارٹیاں جو پہلے انتخابات میں کامیاب ہوئی ہوتی ہیں ان انتخابات کو جعلی، انجینئرڈ، دھاندلی زدہ، غیر منصفانہ قرار دینا شروع کر دیتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ہر پارٹی کا خیال ہوتا ہے کہ بس وہی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست سے دوچار نہیں کر سکے گی جب ان کا یہی خوش کن خیال پورا نہیں ہوتا تو ان کے ذہن میں آتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے، اسٹیبلشمنٹ ہی انہیں ہرانا چاہتی تھی اور جیتنے والی پارٹی مقتدر حلقوں کی مدد سے جیتی ہے اور انہیں کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر وہ پارٹیاں اپنے ہارے ہوئے امیدواروں کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے احتجاجی تحریک کے اعلانات شروع کر دیتی ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہر بار ایک جیسے الزامات ہی لگائے جاتے ہیں اس ساری صورتحال میں عوام بے چارے سوچتے ہیں کہ وہ کہاں جائیں۔ ملک میں تقریباً ہر الیکشن کے بعد رونما ہونے والی اس کیفیت کے باعث انتخابات اور جمہوریت پر سے لوگوں کا اعتبار ختم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے سیاسی نظام کی سب سے بڑی خرابی بھی یہی ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کی کمی ہے۔
جمہوری نظام کو زیادہ سے زیادہ مئوثر بنانے اور اسے عوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے۔ موجودہ حکومت نے اس ضمن میں انتخابی اصلاحات لانے کا ایجنڈا تیار کیا ہے جس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال کے لئے سیکشن 103 میں ترمیم لانا، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لئے سیکشن 94 میں ترمیم، سیاسی جماعتوں میں جمہوری عمل یقینی بنانا، پولنگ قوانین میں ماضی کے بعض تلخ تجربات کو دیکھتے ہوئے ترامیم لانا اور حلقہ بندیوں سمیت نادرا کی ذمہ داریوں میں اضافہ شامل ہے۔ پارلیمانی نظام کو اس کی صحیح روح کے مطابق چلانے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہماری نظمِ حکمرانی کے وہ کون سے پہلو ہیں جن کے بارے میں عوام کی بڑی اکثریت شدید تحفظات رکھتے ہوئے نالاں نظر آتی ہے۔ ان خامیوں اور خرابیوں کا ادراک کرنے کے بعد بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔تا کہ انتخابات کا انعقاد ایماندارانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ ہو، قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہو اور دھونس دھاندلی کے بغیر انجام پائے۔ یہ وہ دستوری تقاضا ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کئی لازمی شرائط اور بھی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے سلسلے میں سابقہ ججوں کی بجائے اچھی شہرت کے حامل سابقہ بیورو کریٹس کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام عدالتی نوعیت کی بجائے خالصتاً انتظامی نوعیت کا ہوتا ہے جس کے لئے انتظامی تجربہ رکھنے والے اچھی شہرت کے افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے تمام اقدامات پارلیمان کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ کیونکہ پارلیمان کو نظر انداز کر کے کیا جانے والا ہر عمل ماورائے جمہوریت اور آئین ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ اگر آئین کسی بھی سطح پر بائی پاس کیا گیا تو یہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔ اگر چہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج حائل ہے مگر قومی مفاد میں بہتر ہو گا کہ سیاست سے بالاتر ہو کر نہ صرف انتخابات بلکہ ملکی نظام کے ہر شعبے میں اتفاق رائے سے اصلاحات لائی جائیں اور وزیرِ اعظم کی انتخابی اصلاحات کی پیشکش پر مثبت طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے حقیقت پسندی پر مبنی قابلِ عمل اصلاحات لانے کے لئے اپوزیشن کو اس سمت میں نتیجہ خیز پیش رفت کرنا ہو گی۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں