ایک لمبی جنگ | Khabrain Group Pakistan

خیر محمد بدھ
وزیراعظم عمران خان نے 2018ء میں الیکشن جیت کر اقتدار حاصل کیا ہے۔ الیکشن میں ان کا مقابلہ (ن) لیگ یا پیپلزپارٹی سے نہیں تھا بلکہ فرسودہ نظام، جہالت، کرپشن، اخلاقی دیوالیہ پن اور Status Quo کے خلاف تھا۔ عوام ماضی کی حکومتوں کی اقربا پروری، بدعنوانی اور غلط منصوبہ بندی سے نالاں ہیں۔ وہ حکومتیں عجیب وغریب منصوبہ بنارہی تھیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے تعلق نہ تھا جیساکہ اورنج ٹرین کا منصوبہ شروع کیا گیا جس کا خسارہ اربوں روپے سالانہ ہے اور صوبے کے لوگوں کے ٹیکس سے صرف ایک سڑک پر سفر کرنے والے لوگوں کی سہولت کے لیے رقم ادا کی جارہی ہے۔ ملک میں موجودہ فرسودہ اور بدبودار نظام کو تبدیل کرنے کے لئے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔ اقتدارمیں آنے کے بعد تبدیلی کا آغاز وزیراعظم نے سب سے پہلے اپنی ذات سے کیا۔ انہوں نے وسیع وعریض وزیراعظم ہاؤس میں رہنے کے بجائے اپنے ذاتی گھر میں رہنا پسند کیا۔ ملازمین کی فوج ظفر موج کی چھٹی کرائی۔ سینکڑوں گاڑیوں کے سٹاک کی نیلامی کرائی۔ سادگی اور کفایت شعاری کا آغاز کیا جو یقینا قابل تحسین شروعات ہیں۔ علاوہ ازیں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سابق حکمرانوں پر ہاتھ ڈالا اور ملک میں قانون کی حکمرانی کا آغاز کیا۔ ان اصلاحات سے مختلف شعبہ جات میں موجود مافیاز کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ سیاسی انتقام، سازش اور جانبداری کے الزامات سامنے آئے لیکن عمران خان نے بلیک میلنگ میں آنے اور این آر او دینے کے بجائے اپنے کام کو جاری رکھا ہوا ہے کیونکہ ملک میں 70سال سے ایک ہی نظام چل رہا ہے جس میں دو قانون ہیں، امیر اور غریب کے لیے الگ الگ۔ اقتصادی طور پر ملک میں طبقاتی تقسیم میں اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں امیر لوگوں کی تعداد 20خاندان تھی جو نوازشریف دور میں سینکڑوں تک پہنچ گئی۔ بدعنوان لوگوں نے جن میں سیاستدان، صنعتکار، بیوروکریٹس شامل ہیں، ملک کے وسائل کو لوٹ کر اپنی دولت کو ملک سے باہر منتقل کیا۔
عمران خان مافیا کے خلاف اپنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پالیسیوں کو سراہا جارہا ہے۔ ابھی چند دن پہلے برطانوی وزیراعظم نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں برطانیہ آنے کی دعوت دی ہے۔ عمران خان کی جدوجہد ابراہیم لنکن کی جدوجہد سے مشابہت ہے۔ لنکن نے اپنی قوم کو جسمانی آزادی دلائی۔ جب کہ عمران خان ذہنی غلامی سے نجات کیلئے پاکستانیوں کے حوصلے بڑھا رہا ہے، اس ملک کے نظام میں کس قدر خرابی ہوئی ہے، اس کی صرف ایک مثال بیوروکریٹ حضرات کی زندگی کی جھلک سے ملتی ہے۔ برطانیہ کا وزیراعظم 3کمروں کے گھر میں رہتا ہے۔ جرمنی کے چانسلر کا گھر 2کمروں پر مشتمل ہے۔ امریکہ کے صدر کا گھر وائٹ ہاؤس کا لاہور کے گورنر ہاؤس سے کم ایریا ہے۔ دُنیا کا امیر ترین شخص بل گیٹس اپنی گاڑی خود چلاتا ہے اور گھر کا کام کاج بھی خود کرتا ہے۔ ہمارے ملک کی حالت یہ ہے کہ ضلعی اور ڈویژنل سربراہان کے گھر 2ہزار 600کنال پر مشتمل ہیں اور ان کی دیکھ بھال کیلئے 30ہزار ملازم ہیں۔ گھر میں سب سے بڑا گھر کمشنر سرگودھا کا ہے جو 104کنال پر محیط ہے اور لان وغیرہ کی حفاظت ودیکھ بھال کیلئے 33ملازمین کام کرتے ہیں۔ ساہیوال کے ایس ایس پی کا گھر 98کنال جبکہ ڈپٹی کمشنر میانوالی کے گھر کا رقبہ 95کنال ہے۔ پنجاب پولیس کے 7ڈی آئی جی اور 32ایس ایس پی حضرات 860کنال اراضی پر مشتمل گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ اس گاؤں کی مرمت اور رہائش پر سالانہ 80کروڑ خرچ کرتے ہیں اور یہ رقم لاہور کے 3ہسپتالوں کے بجٹ کے برابر ہے۔ لاہور کا گورنر ہاؤس 72ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے اور یہی حال پشاور، کراچی کے گورنر ہاؤسز کا ہے۔ ایک غریب ملک میں جہاں تعلیم، صحت، رہائش، روزگار کے سنگین مسائل ہیں، مراعات یافتہ طبقے کیلئے اس قدر سہولیات بلکہ آسائش مہیا کرنا بہت ظلم ہے۔ یہ سب بیوروکریٹس چھوٹے گھروں میں منتقل ہوسکتے ہیں، ان کے اپنے ذاتی مکان تو مختصر رقبے میں موجود ہیں۔ اگر ان کے گھروں کی زمین کو فروخت کیا جائے تو یہ بہت قیمتی زمین ہے کیونکہ تقریباً یہ تمام گھر گورنر ہاؤس شہر کے وسط میں واقع ہیں تو اس سے اربوں روپے وصول ہوسکتے ہیں۔ تمام رقم کو ترقیاتی کاموں میں لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے بیوروکریسی اور عوام میں فاصلے کم ہوں گے۔
برطانوی طرزِحکومت کی نشانیوں کا خاتمہ ہوگا اور دیگر شعبوں فکر ونظر اور رویہ میں تبدیلی آئے گی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اوپر کی سطح پر بدعنوانی میں کمی آئی ہے لیکن نچلی سطح پر رشوت کے ریٹ میں اضافہ ہورہا ہے۔ پولیس، ریونیو، صحت ودیگر شعبوں میں عوام کی اب بھی کھال اُتاری جارہی ہے۔ احتساب اور نگرانی کے اس نظام کو نچلی سطح پر بھی آنا چاہیے۔ بڑے مگرمچھ تو قابو آچکے ہیں لیکن عوام کے زیادہ مسائل تو نچلی سطح پر ہیں۔ تھانیدار، پٹواری سے لے کرواپڈا، لینڈ ریکارڈ سنٹر اور تعمیرات ومواصلات میں ابھی تک کوئی قابل ذکر احتساب نہ ہوا ہے۔ وزیراعظم صاحب! عوام آپ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ آپ کی جنگ ایک لمبی جنگ ہے، مشکل وقت گزر جاتا ہے، آپ نے سادگی اور کفایت شعاری کی جو مثال اوپر سے شروع کی ہے اسے نچے تک لے آئیں۔ بیوروکریسی کو دی جانے والی مراعات پر نظرثانی کریں۔ نظم ونسق میں بہتری کیلئے اصلاحات لائیں۔
ڈاکٹر عشرت حسین کی تجاویز اور اصلاحات کو عوام کی تجاویز اور معلومات کے لئے مشتہر کریں۔ اس فرسودہ نظام کو تبدیل کریں جس طرح تجارت واقتصادیات میں حکومت اصلاحات لائی ہے اسی طرح نظام ِعدل اور پولیس کے محکمے میں اصلاحات لائیں۔ آدھے سے زیادہ عرصہ حکومت گزرچکا ہے باقی ماندہ وقت میں اگر آپ تبدیلی لے آئے تو آنے والے الیکشن میں آپ کی کامیابی ممکن ہے۔ جب نظام بدلے گا تو مسائل خود حل ہوجائیں گے۔ آپ کابینہ کے وزرا کو اہداف دیں۔ ہر وزیر اپنے اپنے محکمے میں بہتری کے لئے اقدامات کرے۔ پی آئی اے، سٹیل ملز، واپڈا، ایف بی آر، گورننس، ہیومن ڈویلپمنٹ وغیرہ میں کرپشن اور سُرخ فیتے کو ختم کرائیں۔ ان اداروں میں اقربا پروری، کرپشن کی انتہا کی گئی ہے۔ وہ پی آئی اے جو دُنیا کی مدر ایئرلائن اور ایشیاء کی سب سے بڑی قومی ایئرلائن تھی، وہ کس طرح اب تباہی کے دہانے پر ہے حکومت کے سامنے بہت سے۔ چیلنجز، مشکلات ہیں، جواں مردی اور دلیری سے حکومت اور وزیراعظم سب چیلنجز کا مقابلہ کررہے ہیں۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ تبدیلی، بہتری اور اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری رہے گا۔ عمران خان ہی اب اس قوم کی آخری اُمید ہیں۔ ملک کو قائداعظمؒ اور قائد ملت کے بعد پہلی دفعہ دیانتدار قیادت ملی ہے۔ آپ کی نیت اور ارادے بہت اچھے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کی اس جنگ کو جاری رکھنا ہے اور ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ عوام کی بہت توقعات ہیں اور انشاء اللہ عمران خان کی قیادت میں ضرور تبدیلی آئے گی اور اس جنگ میں وہ کامیاب ہوں گے۔ چور، لٹیرے اور مافیاز کو شکست ہوگی۔
(کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں