نیا صوبہ۔نیا مخمصہ | Khabrain Group Pakistan

سیدتابش الوری
پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ عام انتخابات کی اپنی سیاسی مہم کے دوران بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آکر وہ بہاولپور کا صوبہ بحال کر دیں گے آپ نے اب تک جھوٹے سیاستدانوں کے وعدے سنے ہیں مجھے آزمائیں میں جو کچھ کہہ رہا ہوں کرکے دکھا ؤں گاانتخابات سے چند روز قبل جیت کی دھن میں ا یک سیاسی گروپ سے باقاعدہ تحریری معاہدہ کر کے اعلان کیا گیا کہ انتخابات جیت کر تحریک انصاف تین ماہ کے اندر اندر جنوبی پنجاب کا نیا صوبہ بنا دیگی، تین ماہ کی جگہ تین سال گذر چکے ہیں لیکن بر سر اقتدار جماعت کا ایفائے عہد دور دور تک نظر نہیں آتا بلکہ صوبے کے نعرے پر کامیاب ہو نے والے اراکین قومی صوبائی اسمبلی نے کبھی بھول کر بھی پارلیمان میں صوبے کے قیام کے تحریری معاہدے پر عملدرآمد کا سوال نہیں اٹھایا خرابیئ بسیار کے بعد لے دے کے اب جنوبی پنجاب کے سکریٹریٹ کا لولی پاپ دیا جارہا ہے جو ملتان اور بہاولپور میں تعمیر ہوں گے اب لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک صوبے کے دو سکریٹریٹ تو ہو نہیں سکتے لا محالہ کچھ خوش فہموں کی رائے میں ملتان کا جنوبی پنجاب کے لئے اور بہاولپور کا صوبہ بہاولپور کیلئے بنا یا جانا مقصود ہو گا اس ایک اقدام سے قطع نظر نئے صوبے یا صوبوں کے قیام کے لئے نہ پنجاب اسمبلی سے کوئی رابطہ ہوا ہے نہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تک اس مسئلے پر نہ عمران خان نے لب کشائی فرمائی ہے نہ معاہدہ کرنے والے گروپ نے کسی وضاحت کی ضرورت محسوس کی ہے البتہ کچھ علاقائی رہنماؤں نے فرمایا ہے کہ ہمارے پاس مطلوبہ دو تہائی اکثریت مو جود نہیں جس سے آئین میں ترامیم کرانے کے لئے صوبوں کی راہ ہموار کی جاسکے بحث کی خاطر یہ جواز مان بھی لیا جائے تو کیا کوئی یہ بتانا پسند کرے گا کہ اس سلسلے میں حزب اختلاف کے کس گروپ سے سلسلہئ جنبانی کی گئی ہے یا دوسرے کئی بلوں کی طرح صو بے کے قیام کے لئے کوئی بل متعارف بھی کرا یا گیا ہے۔
ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ صوبہ نہ سہی جنوبی پنجاب کا وزیر اعلیٰ تو بنا دیا گیا ہے اگر ایسا ہونے سے مداوا ہوسکتا تو ماضی میں وسیب سے متعدد گورنر، وزرائے اعلیٰ بلکہ صدر مملکت بھی رہ چکے ہیں مگر کوئی انقلاب رونما نہیں ہوا اصل میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس وسیب کے عوام پرانے تجربوں سے یکسرمایوس ہو کر کسی سے مطالبہ کرنے کی جگہ اپنے مسائل و وسائل کے لئے اختیار و اقتدار خود اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں کیونکہ آزادی کا مطلب کچھ لوگوں کی آزادی اور کچھ لوگوں کی غلامی نہیں تھا بلکہ سب کیلئے مساویانہ آزادی اور مساویانہ حقوق و اختیار کا حصول تھا کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم جائز طور پر اگر ریاست جموں اور کشمیرکے حق خود ا رادیت کی 72 سال سے حمایت کر رہے ہیں تو اپنے علاقوں کے عوام کے مطالبوں کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں یہ تو تھا نئے صوبوں کے مسئلے کا ظاہری ا حوال!بارے اب اسکے کچھ باطنی اسرار و رموزکا بیان بھی ہو جائے میں یہ ماننے کے لئے تیار ہوں کہ جب تحریک انصاف نئے صوبوں کا وعدہ کر رہی تھی تو اس کو اس کے ما بعد نتائج و اثرات کا کما حقہ ادراک نہ ہو، پنجاب جیسے عظیم صوبے کی بقا اور فنا کے کیا سیاسی مفادات و نقصانات ہو سکتے ہیں اس کی تقسیم سے کیا جغرافیائی اور سیاسی نقشہ ظہور پذیر ہو سکتا ہے اور اس سے کس کس سیاسی جماعت کو کس قدر نفع و ضرر کا امکان ہو سکتاہے شاید اس کا اس قدر اندازہ اس وقت نہ کیا جا سکا ہو، اب یہی عوامل سامنے آئے ہیں تو نئی پیچید گیوں کی جہتیں روشن ہوئی ہیں۔
تخت لاہور کی غیر معمولی اہمیت پاکستان کے سیاسی اُفق پر ہمیشہ جگمگاتی رہی ہے اسی وجہ سے شاید یہ جملہ بھی بہت مشہور رہا ہے کہ جس کا لاہور ہے اسی کا اسلام آباد ہے اس وقت لاہور اور اسلام آباد دونوں پر تحریک انصاف کا راج ہے اور تنہا پنجاب کے ذریعہ اسے دو تہائی ریاست پر اقتدار و اختیار حاصل ہے مخمصہ یہ ہے کہ اگر تخت ملتان سجا یا گیا اور جنوبی پنجاب کا صوبہ بنا یا گیا تو اسی وقت تخت لاہور کی صورت میں صوبہ مرکزی پنجاب لاہور معرض وجود میں آجائے گا جس میں بھاری اکثریت کی بنا پر مسلم لیگ ن فوری طور پر بلا شرکت غیرے اقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہو جا ئیگی پاکستان تحریک انصاف ایسے ڈرانے خواب کا تصور بھی نہیں کرسکتی اور ظاہر ہے کہ اس قیمت پر کوئی نیا صوبہ بھی نہیں بنا سکتی۔
(کالم نگارمعروف شاعراورادیب ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں