مریم نواز کی(ن) لیگ سامنے کھڑی ہے

سید سجاد حسین بخاری
6جولائی کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ”(ن) لیگ آپ کے سامنے کھڑی ہے“۔ سوال (ن) لیگ کے بارے میں تھا اور مریم نواز کا جواب سوفیصد درست تھا۔ دُنیا کے بیشتر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک ہی کیوں نہ ہوں پارٹی لیڈر ایک ہی ہوتا ہے اور پھر اس کی وراثت اولاد میں تبدیل ہوجاتی ہے جو کم وبیش نصف صدی تک چلتی ہے۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت ہے۔ گاندھی خاندان آج تک آرہا ہے۔ صدارتی نظام والے ممالک میں دیکھیں تو سینئر اور جونیئر بُش باپ، بیٹا، کلنٹن اور اس کی بیوی ہیلری، باراک اوبامہ اب اپنی بیوی مشعل کو آئندہ الیکشن کیلئے تیار کررہے ہیں۔ بادشاہت کی طرف جائیں تو عرب ممالک کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ ایک مُلائیت کی جمہوریت بھی ہے اس حوالے سے مثال ایران اور افغانستان کی دی جاسکتی ہے۔ وہاں پر خون کی وراثت نہیں، تاہم مجلس شوریٰ کا جبر شامل ہے۔ پاکستان میں دیکھ لیں جو بھی جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعتیں ہیں خواہ وہ مذہبی ہوں، سیاسی یا قوم پرست ہوں سب مریم نواز کے دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔
تمام لیڈر سربراہوں کی اولادیں ہیں، بھائی نہیں مثلاً جمعیت العلمائے اسلام مفتی محمود مرحوم کے مولانا فضل الرحمن، ان کے بیٹے اسد محمود تیار ہورہے ہیں جبکہ مولانا کے بھائی عطاء الرحمن بھی موجود ہیں۔ اسی طرح جمعیت العلمائے پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی کے بیٹے انس نورانی، قوم پرستوں کو دیکھیں عبدالغفار خان کا بیٹا ولی خان، ان کا بیٹا اسفند یار ولی، اسی طرح غوث بخش بزنجو کا بیٹا حاصل بزنجو آگے ان کا بیٹا۔ اسی طرح اکبر بگٹی کاپوتا زین بگٹی، خیر بخش مری، عطاء اللہ مینگل، یہ وہ سب قوم پرست لیڈر ہیں جن کی اولادیں ان کی سیاسی وارث ہیں، بھائی نہیں۔ عبدالحمید اچکزئی کا بیٹا محمود اچکزئی آپ سب کے سامنے ہے۔ بھٹو کی وارث بینظیر اور پھر اس کا بیٹا۔ دُنیا بھر میں 90فیصد سیاسی وراثت چلتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بہن، بھائی اس وقت تک بہن، بھائی ہوتے ہیں جب تک ماں، باپ زندہ ہوں اور آپ کی اولاد بھی چھوٹی ہو۔ جونہی انسان کی اولاد جوان ہوتی ہے تو پھر کون سا بھائی؟ اور کون سی بہن؟ صرف اپنی اولاد۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض مرتبہ انسان کا دل اپنے بہن، بھائی کی طرف نرم ہوتا ہے مگر اولاد سامنے آجاتی ہے اور پھر انسان ہتھیار پھینک کر صرف ایک ہی جملہ کہتا ہے کہ اب میری اولاد جوان ہوگئی ہے اور میں ان کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ بالکل یہی پوزیشن میاں نوازشریف کی ہے کہ وہ اپنی اولاد مریم نواز کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک میاں نوازشریف کا اور اس کی وارث مریم نواز ہیں نہ کہ شہبازشریف کیونکہ اس بات کا فیصلہ مرحومہ کلثوم نواز نے اپنی زندگی میں اسی دن کرلیا تھا جب نوازشریف اٹک جیل میں تھے تو کلثوم نواز مرحومہ نے کسی کا انتظار کئے بغیر خود ٹرک پر سوار ہوکر پورے پنجاب کو گرما دیا تھا۔ یہ مرحومہ ہی کا فیصلہ تھا کہ میاں نوازشریف کی وارث اس کی اولاد ہے نہ کہ بھائی اور بھتیجے۔
پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ تو نوازشریف نے اپنی والدہ کے کہنے پر دی ہوئی تھی ورنہ کلثوم نواز اور اس کی اولاد تو اس حق میں بھی نہیں تھے، وہ تو غلام حیدر وائیں جیسے کسی کمزوراورتابعدار قسم کے ایم پی اے کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتے تھے۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ جس دن حمزہ کا بطور سیاسی جانشین اعلان کیا گیا، کلثوم نواز میاں نوازشریف سے سخت خفا ہوئیں، ایک کہرام کھڑا ہوگیا۔ اسی رات کلثوم نواز نے لندن میں اپنے دونوں بیٹوں سے سیاسی وراثت پر بات کی تو دونوں نے انکار کے بعد یک زبان اپنی بہن مریم نواز کا نام لیا اور اسی دن سے کلثوم نواز مرحومہ نے اپنی بیٹی کو باپ کا جانشین بنانے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور پھر چند دنوں میں مریم نواز عملی سیاست میں آگئی۔ میاں نوازشریف بیٹی کے سیاست میں آنے پر خاصے پریشان بھی ہوئے تھے کیونکہ اُنہیں بینظیر کے ساتھ کئے گئے سلوک یاد آگئے جو انتخابی مہم میں میاں نوازشریف اور ان کے کارکنان نے کئے تھے۔ تاہم میاں نوازشریف کو بالآخر دل پر پتھر رکھنا ہی پڑا کیونکہ مرحومہ نے کسی صورت حمزہ کو آگے نہ لانے کی قسم کھائی تھی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مریم نواز نے اپنے آپ کو نہ صرف تسلیم کرایا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت میاں شہبازشریف سے بھی بڑی لیڈر بن چکی ہیں اور انہوں نے مزاحمت کی سیاست اپناکر مسلم لیگ (ن) میں جان پیدا کردی ہے اور دوسری بڑی کامیابی مریم نواز کی یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو انہوں نے ایک مٹھی میں بند کردیا۔ نہ کسی قسم کی گروپنگ ہوئی ہے اور نہ ہی فارورڈ بلاک جس کے لئے حکومت گزشتہ دو سالوں سے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔
اس وقت مریم نواز اپنے خاندان میں سب سے آگے ہیں۔ وہ اپنے چچا کا احترام تو دل سے کرتی ہیں مگر شراکت نہیں دیتیں۔ حمزہ شہبازشریف کا نام تو اس وقت دور دور تک نہیں ہے اور مریم نواز کو اس بات کی بھی قطعاً پروا نہیں ہے کہ کچھ انکل شہبازشریف کے ساتھ ہیں۔ مریم نواز کو بینظیر کا انکلز سے جان چھڑانے کا فارمولا اچھی طرح یاد ہے اور وہ اسی پر عمل پیرا ہیں۔ میاں شہبازشریف اسٹیبلشمنٹ کی مفاہمتی سیاست کرتے ہیں جبکہ مریم نواز اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرے گی۔ یہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔ جیل اور ریل سب مریم نواز دیکھ چکی ہیں اور اب وہ عمر کے جس حصے میں ہیں انہیں سوائے مزاحمتی سیاست کے کچھ اور نہیں کرنا چاہیے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں اپنے والد کی طرح پرو اسٹیبلشمنٹ ہونا چاہیے۔ میری نظر میں وہ سب غلط ہے۔
نوازشریف صرف ایک مرتبہ پرو اسٹیبلشمنٹ اور دو مرتبہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم بنے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں، مزاحمتی سیاستدانوں نے نام کمایا ہے جبکہ مفاہمتی سیاستدان تو ہمیشہ مارے گئے یا زرداری کی طرح ایک صوبے تک محدود رہے۔ پاکستان میں سیاست کے دو ہی راستے ہیں مزاحمت یا مفاہمت۔ یہ وقت مفاہمت کا نہیں مزاحمت کا ہے اور مریم نواز اگر مزاحمتی سیاست پر قائم ہے تو اقتدار خود چل کر ان کے پاس آئے گا۔ شہبازشریف مفاہمت پر قائم رہے تو وزیراعظم کبھی نہیں بن سکیں گے، مریم نواز ہی بنے گی کیونکہ اس نے سچ کہا ہے کہ اصل (ن) لیگ آپ کے سامنے کھڑی ہے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں