اے ساون کے اندھے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند


ہند سے آئے
اے ساون کے اندھے، ہرا نہ دیکھ ۔۔ یہاں پر
کچھ بھی تو سر سبز نہیں ہے
بادل ہے بے فیض، زمیں بے آب
کہ اس کی بنجر کوکھ فقط جنتی ہےریت کے ٹیلے

ہریالی کا نام نہیں ہے
ساون رُت میں برکھا کیسی
لو چلتی ہے، تو بھی جیسے
جسم کو کچھ راحت ملتی ہے

tripako tours pakistan

اب تو بارش کی خواہش بھی
اک مجذوب کا خواب پریشاں سی لگتی ہے

بھول چکا ہوں
سبز، گلابی، نیلے، پیلے رنگوں کی
وہ قوس قزح جو ہند کی دھرتی اور آکاش میں
اک جھولا سا بن جاتی تھی

مصر کا یہ آکاش تو اک جلتی چھتری ہے
جس سے اس قبروں کے شہر پہ گرد کی بارش
خاکستر کے مرغولوں سی ریزہ ریزہ گرنے لگی ہے
خاکستر کے مرغولے جب ریت پہ گر کر

صدیوں پرانی لاشوں کا چورابنتے ہیں
تو پھر اکثر لو چلتی ہے
ریت کے ڈھیروں پر اڑتے مرغولوں جیسے
یہ عفریت اجاڑ بستیوں کے گھر آنگن بھر دیتے ہیں

انسانوں اور قزاّقوں میں فرق ہی کیا ہے
پوچھو ریت کے آسیبوں سے
جو قزاّق نہیں ہیں، لیکن ریت کے مرغولوں میں اڑتے
قزاّقوں جیسے لگتے ہیں

ہند سے آئے
اے ساون کے اندھے، ہرا نہ دیکھ

Advertisements

merkit.pk

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نظم مصر کے عرمنا کے کھنڈرات میں لکھی گئی 1991؁ئ میں ایک شام مَیں ملکہ نفرتتی کے مندرسے کچھ دوری تک ، بغیر گایئڈ کے، اکیلا صحرا میں نکل گیا تھا اور وہاں کے خوفناک ریتلے طوفان میں، جسے سموم کہا جاتا ہے، بری طرح گھر گیا تھا، اور بعد میں چندلٹیرے مجھے لوٹ کر اور زود و کوب کر کے وہیں چھوڑ گئے تھے۔ ستیہ پال آنند




بشکریہ

جواب چھوڑیں