افغانستان میں امریکہ کو کیا ملا؟۔۔آصف محمود


افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء جاری ہے۔ ایک طالب علم کے طور پر میرے پیش نظر یہ سوال ہے کہ دو عشروں پر مشتمل اس مہم جوئی سے امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟ اس جنگ کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ 47 ہزار سویلین افغانستان میں اس جنگ کا ایندھن بنے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ برائون یونیورسٹی کے ’ کاسٹ آف وار‘ پراجیکٹ کے مطابق اگر چہ افغان حکومت اپنے اہلکاروں کے جانی نقصانات کی تفصیل خفیہ رکھے ہوئے ہے لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں مارے جانے والی افغان فوجیوں کی تعداد قریبا 69 ہزار ہے۔ 27 لاکھ افغان ہجرت کرکے دوسرے ممالک جانے پر مجبور ہوئے اور 40 لاکھ افغان ایسے تھے جو رہے تو اپنے ہی ملک میں لیکن اس حال میں کہ ان کا گھر تباہ ہو گیا اور وہ بے گھر ہو کر در بدر پھرتے رہے۔ یہ لہو ، یہ قبریں ، یہ لاشے ، یہ ان کے لواحقین کے بین اور یہ معصوم بچوں کے چہروں سے لپٹی ویرانی اقوام عالم کے اجتماعی ضمیر سے یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ یہ قیمت کیوں دی گئی؟ وہ کون سے اعلی اہداف تھے جن کے لیے انسانیت کو لہو کے اس سمندر میں غوطہ دیا گیا؟ خود امریکہ کے نقصانات معمولی نہیں۔2442 امریکی فوجی مارے گئے۔امریکہ نے اس جنگ میں پرائیویٹ سیکیورٹی کنٹریکٹرز بھی رکھے ہوئے تھے ( جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور جن کا شمار mercenaries میں ہوتا ہے ) ان کنڑیکٹرز کو اس جنگ میں3800 لاشے اٹھانا پڑے۔21 ہزار امریکی فوجی اس جنگ میں زخمی ہوئے۔نیٹو ممالک کے 1140 فوجی اس جنگ میں مارے گئے۔ ان لاشوں کو زباں ملے تو ان کی زبان پر بھی وہی سوال ہو جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یہ جنگ اپنے پیچھے بہت سے معاشی سوالات بھی چھوڑ گئی ہے۔ جنگ کے پہلے تین سال امریکہ کا سالانہ خرچ 100 ارب ڈالر تھا۔2018 میں امریکہ نے 45 ارب ڈالر یہاں خرچ کیے۔مجموعی طور پر امریکہ نے افغانستان کی جنگ میں 978 ارب ڈالر خرچ کیے۔سوال یہ ہے کہ اتنے بھاری اخراجات کے بعد امریکہ کو کیا حاصل ہوا ، افغانستان کو کیا حاصل ہوا اور اس خطے کو کیا حاصل ہوا۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ پاکستان کو کیا حاصل ہوا۔ پاکستان اس جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ معیشت تباہ ہوئی، ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے، ملک سلگ اٹھا ، امن تباہ ہوا ، اربوں ڈالر کا نقصان ہوا لیکن افغان جنگ میں لگائے گئے قریب ایک ہزار ارب میں سے ایک روپیہ پاکستان میں نہ لگ سکا۔( کچھ معمولی سی رقم آئی جو الگ مد میں آئی اور جو ہمارے نقصانات کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی)۔ اور آج جنگ کے اختتام پر نوبت یہ ہے کہ پاکستان ایک دو ارب ڈالر کے لیے دنیا میں بھاگتا پھر رہا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔ معیشت ہچکولے لے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا حاصل کیا؟ افغان جنگ میں لگائے گئے امریکہ کے قریب ایک ہزار ارب ڈالر میں سے ہم ایک سو ارب ڈالر ہی لے لیتے تو کم از کم آج قرض کے عذاب سے تو نجات ملی ہوتی۔ سوال وہی ہے: ہم نے کیا حاصل کیا؟ امریکہ نے 88 ارب ڈالر لگا کر افغان نیشنل آرمی کو کھڑا کیا اور پولیس اور سیکیورٹی کا ڈھانچہ بنایا۔ امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ یہ کہہ کر یہاں لگایا گیا کہ ہم افغان حکومت کو ادارے بنا کر دے رہے ہیں تا کہ پائیدار جمہوریت اور ملکی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالم مگر یہ ہے کہ ابھی غیر ملکی افواج کا انخلاء مکمل نہیں ہوا اور بدلتے حالات کے تھپیڑوں کے سامنے حکومتی ڈھانچہ یوں زمیں بوس ہو رہا ہے ہے جیسے خزاں رسیدہ کسی درخت کو پکڑ کر زور سے ہلایا جائے تو اس کے پتے گرتے ہیں۔ 88 ارب ڈالر جس پراجیکٹ میں جھونکے گئے سیکورٹی کا وہ نظام 88 گھنٹے بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہ رہ سکا۔ دو عشرے قبل افغانستان جس حالت میں تھا ، آج اس سے کتنا مختلف ہے؟کیا وار لارڈز ختم ہو گئے اور جمہوری روایات کا احیاء ہو گیا؟ آخرمیں اگر مزاحمت کاروں سے ہی مذاکرات کرنے تھے تو یہ مذاکرات دو عشرے قبل بھی ہو سکتے تھے۔ نہ 978 ارب ڈالربرباد ہوتے نہ ہی لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھوتے۔ افغانستان میں آج یہ عالم ہے کہ عشروں جس بندوبست کو یہاں نافذ کر کے مستحکم کیا گیا اس کا بظاہر کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا۔ آج پھر وہی ماحول بن رہا ہے کہ جس کے پاس طاقت ہو گی افغانستان کے غالب علاقے پر اسی کی حکومت ہو گی۔ وہی قبائلی ڈھانچہ ہے جو فیصلہ ساز ہے۔ جمہوریت آج بھی یہاں اجنبی ہے۔ سوال وہی ہے: اس ساری جمع تفریق کا حاصل کیا ہے؟ اقوام متحدہ ، نیٹو ، امریکی اتحادی ، دنیا بھر کی سول سوسائٹی ، صاحبان دانش ، اہل علم و فکر سب مل کر کیا اس نکتے پر رہنمائی فرما سکتے ہیں کہ قریب ایک ہزار ارب ڈالر جنگ کی بھٹی میں جھونک کر اور لاکھوں لاشے گرا کر ، قریب 70 لاکھ لوگوں کو بے گھر کر کے ، لاکھوں کو زخمی ، اپاہج اور معذور بنانے کے بعد جس جنگ کا اختتام ہونے جا رہا ہے اس جنگ کا حاصل کیا ہے؟ دنیا کا ضمیر اجتماعی اگر زندہ ہے تو لازم ہے وہ ان سوالات پر غور کرے۔ دو عشرے یہ خطہ ایک جنگ کی ہولناکی سہتا رہا۔ آج اسے یہ پوچھنے کا حق تو ہے کہ اس ساری جنگ کا مقصد کیا تھا اور اس ساری جنگ کا نتیجہ کیا نکلا؟امریکہ کو کیا ملا؟ افغانستان کو کیا حاصل ہوا اور امریکہ کے اتحادیوں کو کیا ملا؟ انسانیت پہلے سے اچھی حالت میں ہے یا اس کے نحیف وجود پر مزید گھائو لگ چکے؟ ہر جنگ کے اختتام پر حساب سودو زیاں کیا جاتا ہے ۔ کیا اس جنگ کا میزانیہ بھی کوئی مرتب کرے گا۔یہ جنگ تو اس عہد کی خوفناک جنگ تھی جو ایک یا دو سال نہیں پورے دو عشروں پر محیط تھی۔ تاریخ انسانی کی اس طویل ترین جنگ کا نتیجہ کیا نکلا؟




بشکریہ

جواب چھوڑیں