اپوزیشن کے الزامات درست نہیں

خیر محمد بدھ
چند روز قبل پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دی تاکہ آئندہ انتخابات کو غیرمتنازعہ بنایا جا سکے ہمارے ہاں الیکشن ہمیشہ سے متنازعہ چلے آرہے ہیں کامیاب ہونے والے الیکشن کو شفاف اور ہارنے والے دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں اصغر خان کیس میں تو الیکشن میں مداخلت پر معاملہ اعلی عدالت تک چلا گیا ہمارے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں شاکی ہیں کہ الیکشن منصفانہ نہیں ہوتے لیکن حیرت کی بات ہے کہ جب ریفارمز کی بات ہوتی ہے تو وہ اس بات پر متفق نہیں ہوتے۔ یہ ہمارے سیاسی نظام کا المیہ اور سسٹم کی ناکامی ہے جس سے جمہوریت بد نام ہو رہی ہے اس میں حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں پہلا یہ کہ پرانا نظام ہی چلنے دیا جائے تاکہ الزامات اور شکایت کا سلسلہ جاری رہے یا پھر نظام اور طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے تاکہ الیکشن منصفانہ ہو جمہوریت مستحکم ہو عوام کا اتحاد بحال ہو سال 2016میں سینٹ کمیٹی نے اصلاحات تجویز کیں جن میں دیگر باتوں کے علاوہ اوپن بیلٹ کی تجویز بھی شامل تھی لیکن ان تجاویز پر عمل نہ ہو سکا پھر الیکشن ایکٹ 2017 نافذ ہوا لیکن 2018 کے انتخابات جو اس ایکٹ کے تحت ہواہے انہیں بھی متنازعہ بنا دیا گیا اور حال ہی میں ڈسکہ اور کراچی میں ہونے والے ضمنی الیکشن کو متنازعہ بنایا گیا۔
موجودہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے ممبران پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی بنائی جس میں اپوزیشن ارکان بھی شامل تھے کمیٹی نے بل کو منظور کیا جس کے بعد یہ بل قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیا ان اصلاحات میں سابق قانون میں تقریبا ً 62 ترامیم کی گئیں جن میں ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینPEVM کا استعمال بیرون ملک پاکستانیوں کا وٹ کا حق بہت اہم ہے الیکشن ایکٹ کی دفعات 99 اور 103 میں ترمیم کی گئی اس طرح سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کی سیاسی جماعت کی کم ازکم ممبرشپ دس ہزار ہوگی جب کہ ہر سیاسی جماعت ہر سال ایک جنرل کنونشن بھی منعقد کرے گی او ر پولنگ سٹاف اور افسران کی تعیناتی سے متعلق شکایت کے ازالے کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا انتخابی فہرستیں نادرا کی مدد سے رجسٹرڈ ووٹرز کی بنیاد پر بنائی جائیں گی نہ کہ آبادی کی بنیاد پر ان اصلاحات پر الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ان اصلاحات پر عمل کرنے کے لیے آئینی ترامیم ضروری ہے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے الیکشن میں شفافیت تو آئے گی کیونکہ بائیو میٹرک سسٹم نادرا سے منسلک ہو گا تاہم ووٹ خفیہ نہیں رہے گا لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ اس سے دھاندلی اور بوگس ووٹنگ کے امکانات ختم ہوجائیں گے ان انتخابی ریفارمز سے امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے جنرل الیکشن میں دھاندلی ممکن نہیں ہو گی اور آزادانہ منصفانہ الیکشن کی راہ ہموار ہوگی جو تحفظات الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے آئے ہیں اس پر بحث ہو سکتی ہے اور اصلاحات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
اپوزیشن کا یہ الزام کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا درست نہ ہے یہ بل سٹینڈنگ کمیٹی کو قاعدے کے مطابق بھیجا گیا اس کمیٹی میں اپوزیشن اراکین شامل ہیں کمیٹی کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے اکثریت سے منظور ہوا انتخابی فہرستوں میں تصحیح Correctionکاکام نادرا کو اگردیا گیا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ نادرا کا سسٹم بہت کامیابی سے چل رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی ہر زمانے میں متنازعہ رہی ہے اور سیاسی جماعتیں کمیشن کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو اگر ووٹ کا حق دیا گیا ہے تو یہ احسن قدم ہے البتہ اس کا طریقہ کار کیسے ہوگا یہ ووٹنگ آن لائن ہوگی یا پولنگ سٹیشن ہوں گے اس بارے میں ابہام دور کر کے وضاحت دینا ضروری ہے اس طرح اس تجویز پر بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی نشستیں سیٹSeats مقرر کی جائیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے ممبر شپ کی تعداد اورکنونشن کا انعقادبہت مناسب ہے الیکشن کمیشن کے اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں ہے کہ چھوٹی پارٹیوں کے لئے ممبر شپ کا ہدف پورا کرنا ممکن نہ ہوگا اگر ان جماعتوں کے دس ہزار ممبر ہی نہیں تو پھر انہیں سیاست میں آنے کا کیا شوق ہے انہی چھوٹی جماعتوں نے ہی حکومتوں کو بلیک میل کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے ریفارمزمیں ایک اور اہم معاملے کو بھی حل کردیا گیا ہے امیدواروں کے صادق اور امین کے بارے میں فیصلے سے متعلق درخواستوں کی جانچ پڑتال Secrutiny لکھنے کا دن ہی کٹ آف تاریخ مقرر کیا گیا ہے اس سے غیر یقینی صورتحال ختم ہو جائے گی اور طویل مقدمہ بازی کا بھی خاتمہ ہو گا وزیراعظم نے اپوزیشن سے تعاون کی درخواست کر کے ان جماعتوں کو موقع دیا ہے کہ اگرچہ قومی اسمبلی سے اصلاحات کا بل قانونی طریقے سے منظور ہو چکا ہے تاہم اب بھی وہ اپوزیشن کی تجاویز اور خدشات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں یہ بہت اچھی آفر ہے یہ بل ابھی تک قانون نہیں بنا ہے بلکہ یہ سینٹ آف پاکستان میں زیر غور ہے۔ یہاں پر بحث ہو گی اور اگر سینٹ اسے منظور نہیں کرتا تو پھر یہ دوبارہ قومی اسمبلی میں جائے گا ماضی میں ہر الیکشن متنازعہ رہا کبھی آر او الیکشن کہا گیا اور کبھی کوئی اور الزام لگایا گیا لیکن اس کے باوجود اصلاحات نہ کی گئیں یہ کریڈٹ پی ٹی آئی حکومت کو جاتا ہے کہ اس نے سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کر کے بل منظور کرایا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اپوزیشن جماعتیں آنے والے جنرل الیکشن کو شفاف اور منصفانہ اور غیر متنازعہ بنانے کے لیے اپنی تجاویز دیں اس بل میں سقم یا کمزوری ہوسکتی ہے ترمیم یا تنسیخ کی گنجائش بھی موجود ہے ماضی میں RTS سسٹم فیل ہوگیا سیاہی بھی کام نہ کر سکی تو پھر EVM کی کوشش کرنی چاہیے ایتھوپیا جیسے ملک میں یہ سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے دیگر ممالک میں استعمال ہو رہا ہے یہ بہترین موقع ہے اس معاملے پر اتفاق رائے سے قانون سازی ہونی چاہیے کیونکہ اصلاحات کی کامیابی کے لئے صرف ٹیکنیکل مدد کی ضرورت کافی نہیں بلکہ سیاسی اتفاق Consensusبہت ضروری ہے کہ آنے والے جنرل الیکشن غیر متنازعہ ہوں۔ تمام جماعتوں کو اس معاملے میں سنجیدگی اور جلدی سے الفاظ کو لانا چاہیے کیونکہ جنرل الیکشن کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مشینوں کی ضرورت ہوگی اور انEVM کو تیار کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ قانون منظور ہونے کے بعد ہی مجوزہ انتظامات کرنے ہوں گے۔ وہ بھی الیکشن کی تاریخ سے پہلے۔
(کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں