غلام فریدا اوہدی اوہ جانے۔۔ڈاکٹر صغریٰ صدف


یہ ایک مصرعہ نہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ ہے۔مکتبِ فکر ہے،سنہری اصول ہے،عملی اظہار ہے۔صوفیا کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ ان کا کوئی ایک مصرع روح میں اتار لیا جائے تو یقین کی طاقت سے بے کار الجھنوں کا قفس تارتار ہو جاتا ہے اور انسان خود کو کائنات کے رنگ برنگے گلشن میں پاتا ہے جہاں بے عمل جیون پودوں کو پانی دینے پر مامور ہوتا ہے۔مالی محنت اور لگن سے کائنات کے صحن کو سرسبز بنانے کی جستجو کرتا ہے۔سبزے پر زندگی کا انحصار ہے۔ وہ دیہاڑی دار کی طرح محنت کرتا اور اجر خدا پر چھوڑ دیتا ہے۔اس کا اجر پھل اور پھول ہیں۔میاں محمدبخش نے کہاتھا ۔۔۔
مالی دا کم پانی دینا تے بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھَل پھُل لانا لاوے یا نہ لاوے
بھر بھر مطلب ذوق و شوق سے اپنا کام کرنا،تمام توانائیاں حرکت میں لانا اور پھر کرم کی امید رکھنا اس قادرِ مطلق سے جو کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ خواجہ فرید کے اس مصرعے کو یقین کی طشتری پر سجالیں تو زندگی کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے، زندگی کا خوبصورت چہرہ سامنے آ جاتا ہے،فیصلہ ہو جاتا ہے کیا کرنا ہے ، کس طرف جانا ہے، کیسے جانا ہے،رستہ جگنوؤں سے بھر جاتا ہے کیونکہ صوفیا اپنی زندگی بھر کی ریاضت، باطن کی رہنمائی،خدا اور رسولؐ کے عشق سے بہرہ ور ہو کر دانش کے اس مقام تک رسائی پاتے ہیں جہاں ہر حقیقت صاف پانی میں واضح دکھائی دینے لگتی ہے۔
گندگی اور بدصورتی دل کے اس دریا کو گدلا کرتی ہے جو نظر کے آئینے سے جڑا ہے۔ نظر کاآئینہ دل کی روشنی سے دیکھتا ہے۔اگر وہ شفاف ہو جائے تو ہر طرح کا گدلاپن ختم ہو جاتا ہے اور زندگی کی کشتی رواں ہو جاتی ہے۔ہمارا بیشتر وقت دوسروں پر تنقید بلکہ دوسروں کے اعمال کا تجزیہ کرنے میں گزر جاتا ہے۔ لیکن ہماری تمام تر تنقید تحقیق اور تجزیہ دوسروں کی برائیاں ڈھونڈنے میں صرف ہوتا ہے ہمارا خیال دوسروں کا محاسبہ کرنے اور ہماری سوچ دوسرے کے اعمال بلکہ خیالات کی فکر مندی کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے۔ اس فکرمندی میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں بھی کچھ کرنا تھا،ہمیں بھی خدا نےکسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے دوسروں کے محاسبے میں ہم اپنی ڈیوٹی، اپنا فرض، اپنا منصب اور اپنی ذمہ داری بھول جاتے ہیں اور یہ عمل جب اجتماعی رویہ بن جائے تو بے عملی قومی ابتری بنتی جاتی ہے۔ میرے لئے یہ ایک مصرعہ نہیں بلکہ زندگی کا فلسفہ ہے کہ وہ جو آپ پر تنقید کر رہا ہے، جو آپ پر کیچڑ اچھال رہا ہے، جو آپ کو برا کہہ رہا ہے آپ اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں،اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اپنا فریضہ نبھانے کا آغاز کریں۔ دھوپ کا رونا رونے کی بجائے پودوں کو پانی دینا شروع کریں۔ بے گھر اور مجبور لوگوں کی تصاویر شیئر کرنے کی بجائے کسی پناہ گاہ، کسی سائبان کی تعمیر کے لئے دیوار اٹھانی شروع کریں۔ عمل کی نیت خیر بانٹنے اور زندگی کو خوبصورت بنانے کے عزم سے لبریز ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار نے اپنی تقریر کے آغاز میں یہ شعر پڑھا تو ان کی تمام حکمتِ عملی واضح ہوگئی۔وہ اس کے بعد ایک لفظ کہے بغیر خدا حافظ کہہ دیتے تو بھی یہ ایک مکمل پیغام اور اعلان تھا۔بجٹ کے اعدادو شمار اور تقابلی جائزے میسر ہو جاتے ہیں لیکن دل کے جذبے،رویے اور ذہن کے آئینے کی جھلک نہیں دکھائی دیتی۔ یہ شعر ان کی تمام تر حکمت عملی،فکری رحجان اور نظریاتی کاوشوں کا آئینہ ہے۔ ۔آج تک ہر بجٹ تنقید کا نشانہ رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی میں سہولتوں کا اضافہ بھی مہنگائی کا باعث بنتا ہے۔ عالمی منظرنامے پر چیزوں کے ریٹ،مانگ اور حیثیت اوپر نیچے ہونے سے قیمتیں متعین ہوتی ہیں۔ تنقید کرنی مقصود ہو تو مثبت چیزوں میں بھی کیڑے نکال کر دکھائے جاسکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بجٹ مثالی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ بجٹ بنانے والے پیش کرنے والے اور جن کے لیے بجٹ بنایا جاتا ہے وہ سب انسان ہیں، فرشتے نہیں۔ میرے لیے اس بجٹ میں اسپورٹس پالیسی،نئے گراؤنڈ اور 15 تحصیلوں میں سپورٹس کمپلیکس، ضلعی ترقیاتی بجٹ میں اضافہ اور 1122 کو باقاعدہ محکمے کا درجہ دینا زیادہ اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔تحصیلوں کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کا اعلان دراصل لوگوں کو ان کے دروازے پر سہولتیں اور امکانات فراہم کرنا ہے جس سے بڑے شہروں میں آبادی کا سیلاب کم ہوگا۔ کھیل نوجوانوں کی طاقت کا مثبت عملی اظہار ہے ۔طاقت کے دریا پر بند باندھ دئے جائیں تو وہ سیلاب یعنی تخریب میں بدل جاتا ہے۔کاش ہر فرد خواجہ فرید کے اس کلام کو زندگی کا پیمانہ بنا کر عمل کی رہگزر پر سفر شروع کردے۔ترقی اور تبدیلی صرف چند لوگوں کی محنت سے نہیں بلکہ اکثریت کی حرکت سے آتی ہے۔
غلام فریدا اوہدی اوہ جانے
ساکوں اپنی توڑنبھاون دے
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)




بشکریہ

جواب چھوڑیں