تسلیم و رضا کا کھیل

نعیم ثاقب
مجھ سمیت چار لوگ حامد کے گھر بیٹھے بزنس، حالات حاضرہ اور دیگر موضوعات پر گپ شپ کر رہے تھے۔ حامدایک ملٹی نیشنل کمپنی کا نوجوان ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل پروفیشنل اور بے حد پریکٹیکل آدمی ہے اس نے مجھے اور ارسلان کو گھر کھانے پہ بلایا تھااور یہاں تقریباً پنتالیس سالہ بڑھی شیو والے اس اجنبی شخص سے میری پہلی ملاقات تھی۔ دو گھنٹے میں نہ اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا اور نہ ہی میں نے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔
ہم تینوں نے اپنی نئی پراڈکٹ کی لانچنگ، مارکیٹنگ پلان اس کے مثبت و منفی پہلوؤں پر تبادلہ خیال شروع کیا تو وہ خاموش بیٹھا ہماری باتیں سن رہا تھا۔ میں نے اس کو گفتگو میں شامل کرنے کی غرض سے پوچھا سر آپ کاکیا خیال ہے؟
بڑھی شیو والا اجنبی مسکرایا اور کہنے لگا حامد اپنی کمپنی کا بڑا زبردست ورکر ہے۔یہ جس ملک کے آفس کی ذمہ داری سنبھالتا ہے، اس کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔یہ محنتی اور اپنے کام سے بے حد مخلص ہے۔ آفس کے معاملے میں یہ کسی رشتہ دار، دوست یا مالی فائدے کی پرواہ نہیں کرتا اس کی اولین ترجیح اس کی کمپنی کا مفاد ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ اپنی کمپنی میں مقبول ہے اور اس کا گورا سی ای او بھی اس کی بات نہیں ٹالتا۔ایسے ہی ہے نا؟۔ اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ بالکل میں اور ارسلان بیک وقت بولے۔ آپ دونوں، اور بہت سے لوگ بھی ایسے ہی ہونگے مگر سوال تو یہ ہے کہ اصل کام میں ہم کتنے پرفیکٹ ہیں؟۔اصل کام میں ہماری کارکردگی کیا ہے؟ اجنبی کہنے لگا۔ سر یہ پچاس ساٹھ سالا زندگی کی حیثیت تو کچھ بھی نہیں اصل کھیل تو بعد کا ہے جو مستقل اورکبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔وہاں اچھی پرفارمنس کس کی ہوگی یہ سوچنے کی بات ہے اور وہاں سرخرو صرف وہی ہوں گے جو یہاں راضی بہ رضا ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں خود مالک ان آیات مبارکہ میں فرماتا ہے۔
(1)”اور لوگوں میں سے ایک شخص ایسا ہے‘جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کا سودا کر لیتا ہے‘‘(بقرہ: 207)۔ (2) ”بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے اُن کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا ہے‘ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں‘ پس مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں‘ اللہ کااس پر تورات‘ انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے‘ سو تم اپنے اس سودے پر‘جو تم نے اللہ سے کیا ہے‘خوشی مناؤ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘‘ (توبہ: 111)۔
جب بندے کو ”تسلیم و رضا“ کا کھیل سمجھ میں آجائے تو نمرود کے سامنے ڈٹ کر آگ کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ محبوب بیوی اور کمسن لخت جگر کو صحرا بیابان میں تنہا چھوڑ آتا ہے۔ بندہ اللہ کی رضا کے لیے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ پھر یہ تو ممکن ہی نہیں مالک کائنات بندے کو اطاعت و رضا کا صلہ نہ دے۔ وہ اپنے بندے کے لیے آگ کو گلزار بنا دیتا ہے۔ بیٹے کی پیاس بجھانے کی خاطر دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والی ماں کے عمل کو رہتی دنیا تک مثال بنا دیتا ہے۔ اور جب خلیل اللہ ذبح سے فارغ ہوکر آنکھوں سے پٹّی ہٹاتاہے تو مالک بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا لٹا دیتا ہے جب کہ ذبیح اللہ قریب کھڑا مُسکرا رہا ہوتا ہے۔ اور خدا یوں فرماتا ہے۔
”اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔ بے شک، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں“، سورۃ الصٰفّٰت،
اور جب باپ تسلیم و رضا کے مقام پر پہنچ جاتاہے تو مالک اولاد بھی ایسی سعادت مند بنادیتا ہے جو خوشی خوشی ذبح ہونے کو تیار ہو جاتی ہے اور قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے۔
ترجمہ:حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے کہا،ابّا جان! آپ کو جو حکم دیاجارہا ہے اسے کر ڈالئے۔ آپ انشاء اللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔ (سورہ الصّٰفّٰت،آیت201)
اور اللہ ربّ العزّت کو اپنے دونوں برگزیدہ اور جلیل القدر بندوں کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت، عبادت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری و ساری فرمایا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اور ہم نے بعد میں آنے والوں کے لیے ابراہیمؑ کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا (سورۃ الصٰفّٰت، 108:37)۔
بڑھی شیو والا اجنبی بولتے ہوئے رکا تو میں نے جانے کی اجازت مانگی کہ قربانی کے لیے جانور لینے جانا ہے۔ مشورہ دیں کون سا جانور لوں۔ اس پر اجنبی نے جواب دیا اس کا تو مجھے کوئی بہت تجربہ نہیں البتہ حضرت براء بن عازب سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں: ”رسولِ کریمؐ سے عرض کیا کہ کن جانوروں کی قربانی سے بچنا چاہئے تو آپؐ نے ہاتھ کے اِشارے سے فرمایا: کہ چار قسم کے جانور قربانی کے لئے دُرست نہیں ہیں۔ (1) جس کا لنگ ظاہر ہو‘ (2) جس کا کانا پن ظاہر ہو‘ (3) جس کی بیماری ظاہر ہو اور (4) اَیسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو،ہڈیوں کا پنجرہو۔ امیر المومنین حضرت سیّدنا علی ؑ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں رسولِ کریمؐ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان دیکھ لیں۔ نہ لمبائی میں چرے کان کی قربانی کریں اور نہ چوڑائی میں کٹے جانور کی قربانی کریں۔ (اِس میں زیادہ کا اِعتبار ہے، اگر آدھے سے کم چرا اور کٹا ہے تو قربانی ہو جائے گی۔ نبی کریمؐ نے ٹوٹے سینگ اور کٹے کانوں والے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ (سینگ سے مُراد خول نہیں بلکہ خول کے نیچے گُلی یا مغز ہے۔ اگر مغز پورا ہے تو قربانی جائز ہے۔ اگرچہ خول ٹوٹا ہو)۔(ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، موطا اِمام مالک، مشکوٰۃ، دارمی مسند احمد، شرح السنن الکبریٰ للبیہقی)
قربانی کے ثواب و اجر کے بارے میں“آپؐ نے ارشاد فرمایا ”قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے، ایک نیکی ہے۔“صحابہؓ نے عرض کیا ”اگر اون والا جانور ہو؟ (یعنی دنبہ ہو، جس کے بال بہت ہوتے ہیں)، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا”اس کے بھی ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے (مشکوٰۃ)۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں