کیا افغانستان کے فارسیوانان پاکستان کی ریاستی و ارضی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں ؟۔۔۔حسّان خان اباسِینی

خُدائے علّام کا شُکر بجا لاتا ہوں کہ مَیں افغانستان کی سب سے بڑی زبان فارسی، دوسری سب سے بڑی زبان پشتو، اور تیسری سب سے بڑی زبان اُزبَکی پڑھ سکتا ہوں۔ اِس لیے مَیں بِلامُبالغہ یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ مَیں افغانستان اور وہاں کے مَردُم کے بارے میں اُن اکثر پاکستانیوں سے زِیادہ جانتا ہوں جو یا تو افغانستان کی کوئی بھی زبان نہیں جانتے اور انگریزی یا اُردو کے ثانوی منابِع سے افغانستان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، یا اگر جانتے ہیں تو فقط پشتو جانتے ہیں جِس کی افغانستان کی نَوِشتاری دُنیا میں زیادہ سے زیادہ شراکت‌داری فقط پینتیس فیصد ہے۔ یعنی پشتو جاننے والے پاکستانیان بھی فقط پینتیس فیصد افغانستانی مَردُم کی رائے سے آگاہ ہونے کا اِمکان رکھتے ہیں۔ جبکہ افغانستان و مردُمِ افغانستان کے بارے میں جاننے کے لیے جو اہم‌ترین و مُفیدترین زبان فارسی ہے اُس کو پاکستان میں شاید فقط دس پندرہ لاکھ لوگ کِسی قدر پڑھ سکتے ہیں، اور اُن میں سے بھی اکثر کی توجُّہ کلاسیکی فارسی ادبیات یا کِشوَرِ ایران کی جانب رہتی ہے لہٰذا وہ بهی افغانستان کے  واقعات سے ناآگاہ ہی رہتے ہیں۔

پاکستان میں اِس صورتِ حال کا سب سے بڑا ضرر یہ رہا ہے کہ یہاں شُروع سے اب تک افغانستان کو “پشتونستان” یا “پشتونوں کا مِلّی وطن/ریاست” سمجھا گیا ہے اور ہم میں سے اکثر اشخاص اِس حقیقت سے کُلّاً بےخبر رہے ہیں کہ افغانستان (تاریخی نام: خُراسان) میں پشتونان کے علاوہ دیگر کئی اقوام بھی بستی ہیں جو مجموعی طور پر پشتونوں سے زیادہ ہیں اور پشتونان کی کُل تعداد کے بارے میں اندازہ لگاتے ہوئے تمام بَینُ‌المِلَلی شُماریاتی ادارے متّفق ہیں کہ افغانستان کے مردُم میں اُن کا کُل تناسب بیالیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے، اور ذہن میں رہے کہ یہ بھی کوئی حتمی اندازہ نہیں ہے، کیونکہ تاجِکان اُس چالیس بیالیس  فیصد تناسُب کو بھی زیرِ سوال لاتے ہیں اور اُن کی مجموعی تعداد کو تیس بتّیس فیصد جِتنی بتاتے ہیں۔ افغانستان کے پشتونان تو گاہے بہ گاہے یہ بےاساس دعویٰ بھی کرتے آئے ہیں کہ وہ افغانستان میں اسّی فیصد ہیں، لیکن اُن دعوؤ ں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ ہرگز لائقِ توجُّہ نہیں ہیں۔ جبکہ جو ذرا ہلکا ہاتھ رکھتے ہوئے پشتونوں کا تناسُب ساٹھ فیصد بتاتے ہیں، اُن کے پاس بھی اُس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ نہ تو تا حال افغانستان میں کبھی مردُم‌شُماری ہوئی ہے جِس کی بُنیاد پر ویسا دعویٰ کیا جا سکے، اور نہ کبھی کِسی غیرجانِب‌دار بَینُ‌المِلَلی ادارے نے افغانستان میں پشتونوں کی تعداد بیالیس فیصد سے زیادہ بتائی ہے۔ اگرچہ ایسے اِدارے ضرور ہیں جِنہوں نے پشتونوں کی تعداد کے بارے میں چهتّیس سینتیس فیصد کے عدد کا اندازہ لگایا ہے۔ یعنی یہ بات سب پر واضح ہو جانی چاہیے کہ افغانستان میں خواہ پشتونوں کو سب سے بڑا قومی گروہ قبول کر لیا جائے، تب بھی وہ اکثریت میں نہیں ہیں۔ ویسے ہی جیسے پاکستان میں پنجابیان اگرچہ سب سے بڑا قومی و لسانی گروہ ہیں (۳۹٪)، لیکن وہ پاکستان میں اکثریت قطعاً نہیں کہے جا سکتے، اور پاکستان کی دیگر اقوام مجموعی طور پر پنجابیوں سے زیادہ ہیں۔

tripako tours pakistan

ہمارے مُلک میں خواہ غیرپشتونان ہو، خواہ عام پشتونان ہوں، یا خواہ پشتون قوم‌پرستان ہوں، اُن کی غالب اکثریت ہمیشہ افغانستان کو پشتونوں کے زاویے سے دیکھتی ہے، اور افغانستان کے غیرپشتونوں کو ہمیشہ نادیدہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ میں نے لِکھا ہے ہمارے غیرپشتونوں کو تو افغانستان کی کوئی زبان ہی نہیں آتی (یہاں فارسی جاننے والے اُتنے زیادہ نہیں ہے)، لہٰذا اُن کے پاس براہِ راست افغانستان کو سمجھنے کا کوئی وسیلہ نہیں ہوتا۔ وہ افغانستان کو پاکستان کے پشتونوں کے توسُّط سے سمجھتے آئے ہیں۔ اب جو ہمارے پشتون برادران و خواہران ہیں، وہ بھی فقط پشتو جانتے ہیں، لہٰذا وہ افغانستان کے فقط پشتوزبانان سے اِرتِباط و تَماس میں آتے ہیں، اور یہ تصوُّر ذہنوں میں بِٹھا لیتے ہیں کہ تورخم سے مزارِ شریف تک، اور بدَخشان سے ہِرات تک، افغانستان مین فقط پشتونان ہی پشتونان اور فقط پشتو ہی پشتو ہے۔ ہمارے پاکستانی پشتون عوام کی اکثریت ، الحمدللہ، غَیرقوم‌پرست ہے اور قوم‌پرستی و نسل‌پرستی کو بجا طور پر منفور چیز سمجھتی ہے اور اُس کی بجائے خِطّے کی سب مُسلمان اقوام کے درمیان مُسلمانی اُخُوّت و دوستی پر باور رکھتی ہے، اور وہ نہ فارسیوانوں سے کِسی قِسم کا بُغض و بیزاری رکھتے ہیں اور نہ وہ فارسی کے دُشمن ہیں، بلکہ اُن کی اکثریت تو آپ کو فارسی کی مُحِب، اور فارسی شعر و ادبیات پر عش عش کرتی نظر آئے گی۔ اگر وہ افغانستان کی فارسیوان اکثریت کو نادیدہ رکھتے ہیں اور اُن کے حال سے بےخبر رہتے ہیں، تو اُس کے عقب میں کوئی قوم‌پرستانہ تعصُّب یا فارسیوانوں/فارسی کی دُشمنی نہیں ہے، بلکہ وہ فارسی سے عدمِ آگاہی کی وجہ سے فارسیوانوں سے اِرتِباط و تَماس کے اِمکانات سے محروم رہتے ہیں۔

دوسری جانب ہمارے پاکستانی پشتونوں کے جو قوم‌پرستان ہیں وہ افغانستان کے بارے میں سراسر نادانی و جہالت و قومی تعصُّب کا نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ آپ کو افغانستان کے بارے میں یہ چیزیں کہتے نظر آئیں گے جِن کا واقعیت اور حقیقی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے: “افغانستان پشتونوں کا مِلّی وطن ہے” (حالانکہ ایسا قطعاً نہیں، بلکہ افغانستان آئینی طور پر افغانستان میں رہنے والی ہر قوم کا وطن ہے)، “افغانستان پشتونوں کا بڑا وطن اور بڑا گھر ہے” (حالانکہ پچھتّر فیصد پشتونانِ جہان پاکستان کے شہری ہیں)، “افغانستان پانچ ہزار سال سے پشتونوں کا وطن ہے” (حالانکہ چودہویں پندرہویں عیسوی صدی تک حالیہ افغانستان، جِس کا نام خُراسان تھا، میں فقط قندھار کے اطراف میں پشتونوں کی اکثریت تھی)، “افغانستان میں ستّر اسّی فیصد پشتونان ہیں” (حالانکہ پشتونوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بیالیس فیصد ہے)، “فارسی فقط کابُل اور پنجشیر میں بولی جاتی ہے” (فارسی‌گویان افغانستان کی ہر ولایت میں موجود ہیں اور فارسی مُلک کے ہر نُقطے میں اقوام کے درمیان زبانِ رابطہ ہے اور وہاں کی اکثریتی گُفتاری و نوِشتاری زبان ہے)”، “کابُل پشتونوں کا پایتخت اور دِل ہے” (حالانکہ غزنَوی دور سے اِس دمِ تحریر تک کابُل ایک فارسیوان و فارسی‌گو شہر ہے)، “افغانستان میں فقط پشتونان رہتے ہیں اور فارسیوانان لائقِ توجُّہ تعداد نہیں رکھتے” (حالانکہ یہ پوری طرح غلط بات ہے)، “پشتو افغانستان کی مِلّی زبان ہے” (حالانکہ افغانستان کی کوئی مِلّی زبان ہی نہیں ہے، اور وہاں دو سرکاری زبانیں ہیں: فارسی و پشتو۔ اور گیارہ سو سال قبل سامانیوں کے زمانے سے ۱۹۶۰ء کے عشرے تک افغانستان/خُراسان کی سرزمین کی واحد سرکاری زبان فارسی رہی ہے)، “افغانستان میں دیگر اقوام بھی اب پشتو اپنا چُکی ہیں” (حالانکہ میں نے تا اِمروز کِسی فارسیوان کو پشتو میں لِکھتے نہیں دیکھا، اور جِتنی پشتو مَیں اِس ایک سال میں فیس‌بُک پر اشعار اور اِقتِباسات کی شکل میں لِکھ چُکا ہوں، کِسی فارسیوان نے انٹرنیٹ پر گُذشتہ دس سال میں بھی نہ لِکھی ہو گی)، “افغانستان کی سرزمین پر ہمیشہ پشتونوں کی حاکمیت رہی ہے” (حالانکہ ہوتَکیوں اور دُرّانیوں سے قبل افغانستان پر کِسی بھی مُدّت میں پشتونوں کی حاکمیت نہیں رہی)، اور اِن سب سے بڑی جہالت یہ قَول کہ: “افغانستان میں فارسی نہیں بلکہ دری بولی جاتی ہے جو فارسی سے مختلف زبان ہے، اور فارسی ایرانیوں کی زبان ہے” (حالانکہ فارسی اور دری ایک ہی زبان ہیں) وغیرہ وغیرہ۔

علاوہ بریں، افغانستان اور پاکستان کے افغان-پشتون قوم‌پرستوں سے بہ حیثِ پاکستانی گُفتُگو کرتے ہوئے اکثر اوقات یہ چیز دیکھنے کو مِلتی ہے کہ جب اُن کی توجُّہ افغانستان کے غیرپشتونوں کی جانب موڑی جائے، اور اُن سے یہ کہا جائے کہ جِس افغانستان کو وہ از سر تا پا پشتون مُلک و ریاست تصوُّر کرتے ہیں وہاں تو پشتونوں کے علاوہ بھی درجنوں قومیں رہتی ہیں جِن کی اکثریت فارسی بولتی ہے، اور تاجکان و ہزارَگان و اُزَبکان و وغیرہ وغیرہ تو مجموعی طور پر پشتونوں سے زیادہ ہیں تو وہ عُموماً اُن فارسیوانوں اور غیرپشتونوں کی افغانستان میں مَوجودی کو کم سے کم کر کے اور بالکل غیر‌اہم بتانے کی کوشش کرتے ہیں، یا پھر یہ گِھسا پِٹا جُملہ دُہراتے ہیں کہ: “افغانستان میں کوئی تاجِک و ہزارہ و اُزبَک و اَیماق و تاتار وغیرہ نہیں ہے، بلکہ سب افغان ہیں اور سب ایک مِلّت ہیں”۔ بےشک، یہ چیز میں بھی کامِلاً قبول کرتا ہوں کہ افغانستان کے جُملہ مردُم السِنہ و اقوام و نسل کے تفاوُتوں سے قطعِ نظر ایک افغانستانی مِلّت ہیں، اور یقیناً ایک مِلّت ہی ہونے چاہییں، اور ایک مُشتَرَک ریاست اور سرزمین کے شہری و باشندے ہونے اور برادر مُسلمان اقوام ہونے کے باعث اُن ہمہ افغانستانی اقوام کے مابَین صمیمی اُخُوّت و محبّت و اِحتِرام ہونا چاہیے اور اُن کو قومی و لِسانی تعصُّبات اور قوم‌پرستی کی بربادکُن لعنتوں سے ہمیشہ اِجتِناب کرنا چاہیے, اور اُن سب کو مِل کر اور واحد افغانستانی مِلّت بن کر اپنے مُلک اور اپنے مردُم کی ترقّی و تعالی کے لیے کوششیں کرنی چاہییں۔ لیکن پشتون قوم‌پرستوں کی اُس گِھسے پِٹے جُملے سے یہ غرَض ہوتی ہے کہ افغانستان میں پشتونوں کے علاوہ کوئی قوم اپنا مُنفَرِد و مُستَقِل وُجود نہیں رکھتی، بلکہ جُملہ غیرپشتونان اپنے وُجود کو پشتونوں میں ضم کر چُکے ہیں، اور وہ پشتونوں سے مختلف فِکر، آراء، آئڈیالوجی، تاریخ، ثقافت، اور تمنّائیں نہیں رکھتے، بلکہ ہر موضوع میں وہ پشتونوں (خُصوصاً پشتون قوم‌پرستوں) کے ساتھ ہم‌خیال و ہم‌آواز ہیں۔ اُن پشتون قوم‌پرستوں کے نزدیک افغان/افغانستانی مِلّت سے بھی بُنیادی طور پر فقط پشتونان ہی مُراد ہوتے ہیں، اور دیگر اقوام کے بارے میں وہ تصوُّر کرتے ہیں کہ وہ پشتونوں کی بالادستی کو قبول کر کے اُن میں کامِلاً مُدغَم ہو چُکے ہیں (یا پِھر اِجباراً اُن کو پشتونیت اور پشتون قوم‌پرستی میں مُدغَم کرنے کی آرزو رکھتے ہیں)۔ حالانکہ یہ بِالکُل خِلافِ واقعیت بات ہے، اور افغانستان کی غیرپشتون اقوام پشتونوں سے جُداگانہ مُنفَرِد قومی و سیاسی وُجود رکھتی ہیں، اور کئی اہم سیاسی و ثقافتی و تاریخی و لِسانی موضوعات پر پشتونان اور غیرپشتونان ہرگز ہم‌فِکر و ہم‌رائے نہیں ہیں۔ جالبِ توجُّہ چیز یہ ہے کہ پاکستانی پشتون قوم‌پرستان زبانِ فارسی کا ایک جُملہ بھی پڑھ سمجھ نہیں سکتے، لیکن اُس کے باوُجود اُن کو حتمی یقین ہوتا ہے کہ وہ افغانستان کی فارسیوان اقوام کے افکار و آراء سے آگاہ ہیں، اور اُس کو وہ پشتون قوم‌پرستوں کے افکار و آراء جیسا ہی بتاتے ہیں۔

ایک سب سے زیادہ بارِز مِثال خطِ ڈیوَرنڈ کا مسئلہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ افغانستان کی پشتون غلبے والے والی حکومتوں اور وہاں کے پشتون قوم‌پرستوں اور بیش‌تر عام پشتونوں نے ۱۹۴۷ء سے اب تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان کی بَینُ‌المِلَلی سرحد (جِس کو خطِ ڈیورَنڈ/ڈیورَنڈ لکیر بھی کہا جاتا ہے) کو سرکاری طور پر قبول نہیں کیا ہے اور اُس کو “فرضی لکیر” پُکارتے ہیں، اور وہ پاکستان میں دریائے سِندھ کے ساحِل تک کی اراضی پر افغانستان کی مِلکِیت کا دعویٰ رکھتے ہیں، اور اُن کا نعرہ یہ رہا ہے کہ خَیبر پختونخوا اور بلوچستان “افغان سرزمین” ہے جِس پر پاکستان (“پنجاب”) کا ناجائز قبضہ ہے، اور وہ ایک روز اُس “افغان سرزمین” کو “پنجاب” اور “پنجابیوں” سے آزاد و بازگُذار کرائیں گے۔ در حالے کہ افغانستان کے پشتونوں کے بجُز کوئی بھی دیگر ریاست، یا کوئی بھی بَینُ‌المِلَلی عالَمی اِدارہ اُس اِدِّعائے ارضی کو درخورِ اِعتِناء نہیں سمجھتا، اور اُس پر گُفتُگو کو بھی ضِیاعِ وقت سمجھتا ہے، اور اُس سرحد کو ہر جگہ قبول‌شُدہ بَینُ‌الِملَلی سرحد ہی مانا جاتا ہے۔ حتّیٰ کہ پاکستان کے پشتونان کی غالب اکثریت بھی خطِ ڈیورَنڈ کو بَینُ‌الِملَلی سرحد کے طور پر قبول کرتی ہے، اور پاکستان سے کٹ کر افغانستان سے جُڑنے کی خواہش نہیں رکھتی اور پاکستان کو اپنا مُلک مانتی ہے اور خود کو پاکستانی مِلّت کا جُزء سمجھتی ہے۔ یعنی اِس مسئلے میں حقِّ خوداِرادیت کے اُصول کو بھی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ رہی بات افغان حُکومت کے دعوے کی قانونی حیثیت کی، تو اُس دعوے کی پرِ کاہ جِتنی بھی قانونی حیثیت یا وزن نہیں ہے، اور افغان حُکومت اور افغان-پشتون قوم‌پرستوں کے ہاتھوں میں پوچ نعروں کے بجُز کوئی ایسی چیز نہیں ہے جِس کی بِنا پر وہ کِسی بھی عالمی عدالت کا در کھٹکھٹا کر دعویٰ کھڑا کر سکیں اور پاکستان سے “افغان سرزمین” کی بازگُذاری کے لیے درخواست یا قانونی چارہ‌جُوئی کر سکیں۔ لہٰذا اُن دعووں کا وُجود فقط افغان-پشتون قوم‌پرستوں کے نعروں یا ذہنوں کے تصوُّرات میں ہیں، کِسی حقیقی اور ٹھوس جگہ میں نہیں۔

افغان-پشتون قوم‌پرستان ہمارے سامنے یہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ خطِ ڈیورنڈ کے بارے میں جو دعویٰ وہ کرتے ہیں، وہ کُل افغانستانی مِلّت کا دعویٰ ہے، اور افغانستان کی ہر ایک قوم اور وہاں کا ہر ایک فرد اُن کا ہم‌خیال ہے اور اُنہی کی طرح “اٹک کو فتح کرنے” کی آرزو میں پیچ و تاب کھاتا رہا ہے۔ در حالے کہ یہ بات ہرگز دُرُست نہیں ہے، اور مَیں آپ کے سامنے پوری ضمانت اور کامِل دِیانت کے   ساتھ کہہ رہا ہوں (اگر کوئی شخص اِثبات کر دے کہ مَیں غلط‌بیانی کر رہا اور من‌گَھڑَت دُروغ کہہ رہا ہوں تو مجھ کو جو بھی پاداش دی جائے، قبول ہے!) کہ افغانستان کے تاجِکان اِس رائے کے بِالکُل مُخالف ہیں، اور امراللہ صالِح جیسے چند ایک اَرگی حُکّام کو چھوڑ کر، اٹھّانوے نِنّانوے فیصد تاجِک/فارسیوان عامّۃُ‌النّاس، دانِش‌وَران، اور اہلِ سیاست کا اِس چیز پر اِجماع ہے کہ خِط ڈیورَنڈ کوئی “فرضی لکیر” نہیں ہے، بلکہ دو مُستَقِل ریاستوں کے درمیان ایک قبول‌شُدہ بَینُ‌الِملَلی اور بَینُ‌الرِّیاستی سرحد ہے، اور وہ پشتونستان‌خواہی اور لروبرخواہی کو افغانستان کے لیے اُمُّ‌المصائب پُکارتے ہیں جو اِتنے سالوں میں افغانستان اور مردُمِ افغانستان کے لیے اِبتِلاؤں کے بجُز کِسی چیز پر مُنتَج نہیں ہوا ہے اور افغانستانی پشتونوں کے بہ شُمول تمام مردُمِ افغانستان اُس دعوے کی وجہ سے مصائب کے قُربانی بنتے آئے ہیں، اور وہ پشتون قوم‌پرستوں اور روایتی افغان مُقتَدِرہ کے واہی و پوچ دعوؤں کو انتہائی درجے کی حماقت اور مردُم‌فِریبانہ کہتے ہیں، اور خطِ ڈیورَنڈ کو قبول نہ کرنے کو اور پاکستان کی ارضی سالمیت و تمامیت کو نہ ماننے کو افغانستان کے مسائل اور بدبختیوں کی جڑ اور ایک زہرناک لعنت کہتے ہیں جو اب تک اُن کو ڈستی آئی ہے کیونکہ یہی چیز پاکستان کو افغانستان کے اُمور میں براہِ راست مُداخلت کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے، اور اُسی کے سبب سے پاکستانی ریاست چار دہائیوں سے افغانستان میں مُداخلت کر کے افغانستانی ریاست کو تباہ و برباد کروا کر بِالآخِر اُس کو زانوؤں پر لے آئی ہے کیونکہ پاکستانی ریاست پشتون قوم‌پرستوں کی حماقتوں کی وجہ سے افغانستانی ریاست و حُکومت کو اپنی ریاستی سالمیت اور ارضی تمامیت کے لیے خطرہ جانتی ہے اور اُس خطرے کو ہمیشہ کے لیے برطرف کرنا ضروری سمجھتی ہے، جبھی پاکستان ستّر کی دہائی سے وہ کچھ کرتا آیا ہے جو وہ کرتا آیا ہے (بدقسمتی سے جِس نے افغانستان کی تباہی و ویرانی میں کِردار ادا کیا ہے اور مَیں پاکستانی ریاست کے اُس کِردار اور اُن اِقدامات پر فخر نہیں کر سکتا)۔

گُذشتہ روز افغانستان کے صدرِ مملکت آقائے اشرف غنی نے  طالبان  سے مُخاطِب ہو کر اسّی سال سے چلے آ رہے دعوائے ارضی کو دُہراتے ہُوئے کہا کہ اگر وہ مُحِبِّ وطن ہیں تو وہ وعدہ کریں کہ اُنہوں نے خطِ ڈیورنڈ کو قبول نہیں کیا ہے اور قبول نہیں کریں گے۔ یہ خبر بہ یک وقت افغانستان کے پشتو اخباروں و صفحوں نے بھی فیس‌بُک پر شریک کی، اور فارسی اخباروں و صفحوں نے بھی۔ پشتو اخباروں میں تو افغانستانی پشتون فیس‌بُک کاربَران (یُوزَرز) کے ویسے ہی تبصرے تھے جیسے توقّع کیے جا سکتے تھے۔ یعنی “پنجاب” اور “پنجابیوں” کے لیے قبیح دُشنامیں، “پشتونستان کی ‘پنجاب’ سے آزادی کے لیے ہم اپنے آخری خون کا قطرہ تک بہا دیں گے” اور “جب تک ایک افغان بھی زندہ ہے ہم ڈیورنڈ کو قبول نہیں کریں گے” اور “آمو سے اباسین تک ہماری پشتون/افغان خاک ہے” اور “جو بھی ڈیورنڈ کو قبول کرے وہ خائنِ مِلّی ہے” جیسے بُلندبانگ لیکن پوچ و مضحکہ‌خیز و بےمعنی نعرے اور باتیں ہی زیادہ‌تر نظر آئیں۔ جبکہ دوسری جانب فارسی اخباروں میں منظر بِالکُل ہی مختلف تھا۔ وہاں ہر فارسیوان بِلااِستِثناء اشرف غنی، افغان-پشتون قوم‌پرستوں، اور لروبرخواہوں کا تمَسخُر اُڑاتا اور اُن پر بہ شِدّت تنقید کرتا نظر آیا، اور سب یک‌زبان تھے کہ یہ نعرہ بالکل پوچ، احمقانہ اور فُضول ہے، اور اِس مردُم‌فِریب اور احساساتی (جذباتی) نعرہ لگانے والوں کو اب مردُم‌فِریبی اور اِحساساتی دُنیا سے بیرون آ کر حقیقت کی دُنیا میں آنکھیں کھول لینی چاہیے، اور اُن سب کا اِجماع و اتِّفاقِ رائے تھا کہ خطِ ڈیورنڈ ایک بَینُ‌المِلَلی سرحد ہے جِس کو وہ پوری طرح قبول کرتے ہیں، اور نِصف پاکستان پر دعوائے ارضی کو دیوانے کا خواب سمجھتے ہیں جِس میں افغانستان کے لیے تباہی ہی تباہی ہے، اور جب تک اُس سرحد کو سرکاری طور پر قبول نہیں کر لیا جاتا، وہ افغانستان اور اُس کے مردُم کے لیے بدبختیوں کا باعث بنتی رہے  گی۔ بہ خُدا! اِس میں ہرگز کوئی دروغ نہیں ہے، اور نہ فقط کل، بلکہ مَیں نے ہمیشہ تقریباً تمام تاجِکوں اور دیگر فارسیوانوں کو اِسی فِکر کا حامِل پایا ہے، اور میں صد فیصد صداقت و راست‌کاری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ افغانستان کے تاجِکوں/فارسیوانوں کو پاکستانی ریاست کی خاک پر مِلکِیت کا کوئی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ اُس کے برعکس وہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد کو دِل سے قبول کرتے ہیں اور افغانستانی حُکومت سے بھی اِس چیز کا مُطالبہ کرتے ہیں کہ خطِ ڈیورنڈ کو سرکاری طور پر قبول کیا جائے، اور وہ پختونخوا و بلوچستان کو پاکستان سے جُدا کروا کر افغانستان کا جُزء بنوانے میں ہرگز کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

اپنے اِن تجرِبوں اور مُشاہدو‌ں کی بِنا پر میں یہ نتیجہ نِکالتا ہوں کہ پاکستانی ریاست کے مفادات میں ہے کہ وہ افغانستان کے فارسیوانوں کے ساتھ اپنے روابِط بہتر کرے اور اُن کی جانب دوستی و احترام کا ہاتھ بڑھا کر اُن سے دوستی کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ اگر پاکستانی ریاست اپنی ریاستی و ارضی سالمیت و تمامیت کے بارے میں فِکرمند ہے اور افغانستان کے پشتون قوم‌پرستوں کی جانب سے اُس کے عدمِ قبول کو ناراحتی و تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اُس کا تریاق وہاں کے فارسیوانان ہیں جو پاکستانی ریاست ہی کی مانند برتری‌جُو پشتون قوم‌پرستی کو اپنا دُشمن جانتے ہیں اور خطِ ڈیورنڈ کے مسئلے پر پاکستانی ریاست کے ساتھ ہم‌خیال ہیں، اور اگر پاکستانی ریاست چاہتی ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان روابط دوستانہ و برادرانہ ہو جائیں تو اُس میں بھی وہاں کے فارسیوانان مُعاوِنت کر سکتے ہیں کیونکہ اُن کا ایک بڑا حِصّہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا آرزومند ہے اور پاکستان کے ساتھ دُشمنی کو ہرگز افغانستان اور مردُمِ افغانستان کے مفادات میں نہیں سمجھتا، اور پاکستان سے دُشمنی کو مُضِر چیز سمجھتا ہے، اور اِس چیز کا تمنّائی ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنے تمام اِختِلافات کو دُور کر کے باہمی احترام و دوستی و برادری کی فضا میں دو خوب ہم‌سایوں کے طور پر زندگی گُذاریں اور ایک دوسرے کی نابُودی کی بجائے ایک دوسرے کی معموری کی آرزو میں رہیں۔ اور سب سے اہم‌تر بات یہ کہ افغانستان کے فارسیوانان کے پاکستان اور پاکستانیوں سے اگر اختلافات ہیں تو اُن کی نوعیت فقط سیاسی ہے، وہ پشتون قوم‌پرستوں کی مانند پاکستان کی نابودی کے خواہاں نہیں ہیں اور پاکستانیوں سے (پشتون قوم‌پرستوں کی زبان میں “پنجابیوں/گُل خانوں” سے) نفرت نہیں رکھتے، بلکہ کئی فارسیوانان تو مجھ کو مردُمِ پاکستان کے لیے صادِقانہ اِظہارِ احترام کرتے اور اُن کو مِہر و تکریم کے الفاظ کے ساتھ یاد کرتے نظر آئے ہیں جو افغانستان کے پشتون قوم‌پرستوں سے بعید ہے جِن کی زبانیں “پنجابیوں” کے لیے ایسے شرم‌آور کلِمات سے آلودہ نظر آتی ہے کہ دِل خُون روتا ہے کہ عبدالرّحمان بابا رحمة اللہ علیه کی پُرمعرِفت اور خوبصورت پشتو زبان کِن پست جُہَلاء کے ہاتھوں میں لگ گئی ہے۔ میں اِس کو پاکستانی ریاست کی حماقت سمجھتا ہوں کہ اُس نے نوّے کے عشرے میں اپنی غلط خارجہ پالیسیوں کے سبب سے فارسیوانوں کو اپنا سیاسی دُشمن و حریف بنا لیا تھا، حالانکہ وہ بِالقُوّہ پاکستان کے ساتھ خوب روابط رکھنے والے دوست بننے، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی و نزدیکی کے لیے پُل بننے کا اِمکان رکھتے تھے اور ابھی بھی رکھتے ہیں، اور اگر پاکستان اُن کا طرفدار و حامی بن کر اُن کی سیاسی تقویت کی کوشش کرتا تو وہ لروبرخواہی جیسے مسائل کا خاتمہ کروا سکتے تھے جو پاکستانی ریاست کے لیے ۱۹۴۷ء سے دردِ سر بنتے آئے ہیں اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی روابِط کو زہرآلود رکھتے آئے ہیں، اور عاقبتِ کار پاکستانی اور افغانستانی ریاستیں ماضی کے نِزاعوں اور دُشمنیوں کو پسِ پُشت ڈال کر نئے سِرے سے ایک دوستانہ مُستَقبِل کا آغاز کر سکتی تھیں۔

Advertisements

merkit.pk

پاکستانی ریاست کو یہ نُکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ افغانستان کے فارسیوانان پاکستان کی ریاستی و ارضی سالمیت و تمامیت کے لیے خطرہ نہیں ہیں، اور وہ مَردُمِ پاکستان سے نفرت نہیں رکھتے، بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ اختلافات کے خاتِمے اور باہمی روابِط میں بہتری کے آرزومند ہیں۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں