صرف ایک مسکراہٹ کام دکھا گئی

ندیم اُپل
ٰیہ واقعہ ہے چند روز پہلے کا،منظر ہے واپڈا ہاؤ س کے قریب چیئرنگ کراس کے ریڈ سگنل پر ایک ٹریفک وارڈن جب ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار کو روکتا ہے۔ٹریفک وارڈ ن کی طرف سے اعتراض یہ آتا ہے کہ مذکورہ نوجوان کے پاس ہیلمٹ نہیں ہے۔نوجوان جس کے لباس،چہرے کی پریشانی اور حلیے سے اس کی غربت جھلک رہی ہوتی ہے وہ انتہائی ادب کے ساتھ ٹریفک وارڈن سے درخواست کرتا ہے کہ وہ غریب،بیروزگار اور لاچار ہے،گھر پر بیمار باپ ہے اس لیے اسے چھوڑ دیا جائے وہ ہیلمٹ لینے کی سکت نہیں رکھتامگر اس کے باوجود ٹریفک وارڈن اس کا چالان کرنے پر بضد دکھائی دیتا ہے۔اب تو نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو جاتے ہیں مگر ٹریفک وارڈن کا دل پھر بھی نہیں پسیجتا اور نوجوان سے کہتا ہے اچھا تم ایسا کرو وہ سامنے ٹریفک سارجنٹ کھڑا ہے اسے جا کراپنا مسئلہ بتاؤ۔مذکورہ نوجوان کچھ ڈرا ڈرا سا اس سارجنٹ کے پاس جاتے ہی اس کے قدموں میں بیٹھ کر اپنی قمیص کے دامن سے اس کاجوتا صاف کرنے لگتا ہے۔ اس خیا ل سے کہ شاید اس کے دل میں رحم آجائے ساتھ ساتھ دونوں ہاتھ جوڑ کر چالان کی معافی کی اپیلیں بھی کرتا جا رہاہے۔یہ دلچسپ منظر ریڈ سگنل پر کھڑے دوسرے لوگ بھی چپ چاپ مگر بڑی دلچسپی سے دیکھنے لگتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی جرات مند ایسا نہیں ہے جو آگے بڑھ کر سارجنٹ سے اس نوجوان کی سفارش کرے یا اپنی جیب سے اس کا چالان بھر دے۔
سارجنٹ جو فرعون کا دماغ اور سینے میں ہٹلر کا دل رکھتا ہے اس پر غریب نوجوان کی آہ و پکار اور التجاؤں کا کچھ اثرنہیں ہوتا۔وہ بلند آواز میں کہتا ہے۔”اوئے میرے نال ڈرامے نہ کر چل بوجے وچوں اپنا شناختی کارڈ کڈھ کے میرے حوالے کر۔تیرا بس چلان ای ہووے گا۔قصہ مختصر اس نوجوان کا رونا پیٹنا سب بیکار جاتا ہے۔ سارجنٹ اس کا شناختی کارڈلے کر دو سو روپے چالان کی پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے اور نوجوان کے غمزدہ چہرے سے یوں لگتا ہے گویا اس کے ہاتھ میں بلیک وارنٹ تھما دیے گئے ہوں اور وہ اپنے مقدر کو کوستا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔
اب اسی تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں۔اسی دوران جب دوبارہ سرخ سگنل ہوتا ہے تو ایک لمبی شاندار چمچماتی گاڑی اشارے کے پاس سارجنٹ کے بالکل قریب آکر رکتی ہے جس کے اندرایک خوبصورت دوشیزہ سٹیرنگ پر موجود آئی فون پر نظریں جمائے موجود ہوتی ہے۔وہی سارجنٹ جس نے کچھ دیر پہلے ایک غریب نوجوان کا لوگوں کی بھیڑ میں تماشہ بنایا تھا بڑے ادب سے ڈرتے ڈرتے گاڑی کے بند شیشے پر ٹک ٹک کرتا ہے۔دوشیزہ گاڑی کا شیشہ نیچا کرکے سارجنٹ کو یوں دیکھتی ہے جیسے سگنل پر کھڑے گداگر کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔سارجنٹ انتہائی ادب سے اس دوشیزہ سے جب لائسنس کا پوچھتا ہے تو جواب میں دوشیزہ کی قاتل مسکراہٹ سے ایسا گھائل ہوتا ہے جسے قلم الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔دوشیزہ کے پاس لائسنس تو نہیں ہوتا مگر مسکراتے ہوئے اس کا ٹریفک سارجنٹ کو یہ کہنا کہ سوری،نہیں ہے صرف اس ایک لفظ اور مسکراہٹ کے بعد سارجنٹ انتہائی ادب سے سیلوٹ مار کر دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔جو کام غریب نوجوان کے آنسو نہ کر سکے وہ دوشیزہ کی ایک قاتل مسکراہٹ کر گئی۔
ٹریفک وارڈن اور ٹریفک سارجنٹ نے ایک ہی وقت میں انصاف اور قانون کے جو دو مختلف معیار اور رویے دکھائے اسے دیکھ کر ایک ہی سوا ل سامنے آتا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کہاں ہے اور انصاف کہاں ہے؟میرٹ کہاں ہے اور گڈ گورننس کہاں ہے۔ایک غریب نوجوان کی التجائیں منت سماجت اور آنسو اسے دو سو روپے کے چالان سے نہ بچا سکے جبکہ لاکھوں مالیت کی چمچماتی گاڑی میں بیٹھی ناز ک اندام حسینہ کی ایک قاتل مسکراہٹ کے صدقے میں اسے پورے پروٹوکول کے ساتھ سیلوٹ مار کر جانے دیا گیا۔ہمارے وزیر اعظم جو اکثر کہتے ہیں ہمارے معاشرہ اس لیے ٹھیک نہیں ہوتا کہ یہاں بڑے بڑے چوروں ڈاکوؤں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹا سا جرم کرنے والے برسوں جیلوں میں گلتے سڑتے رہتے ہیں
سطور بالا میں ہم نے جو دو واقعات اور مناظر پیش کیے ہیں یہ وزیر اعظم کے بیان کی سچائی اور حقیقت کو بیان کرتے ہیں مگر کیا فائدہ ا س کے باوجود سڑکوں اور چوراہوں پر عوام کے سامنے انصاف اور قانون کی دھجیاں بکھرتی دکھائی دیتی ہیں۔قریب سے گزرتے کسی راہگیر میں بھی اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتی کہ قانون کا دوہرا معیار پیش کرنے والوں کا ہاتھ پکڑ سکے۔لاہور ٹریفک چیف اگر ایک دن خود سادہ کپڑوں میں لاہور کی سڑکوں اور چوراہوں پر یہ سارے کھیل تماشے دیکھیں تو انہیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کیاکچھ ہو رہا ہے ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ جن دو ٹریفک اہلکاروں کے رویوں کا ذکر ہم نے کیاہے ضروری نہیں سب ایسے ہی ہوں بلاشبہ ہماری ٹریفک فورس میں اکثریت اچھے اورفرض شناس اہلکاروں کی ہے مگر اچھی شہرت اور ساکھ کوتباہ کرنے والے چندافراد ہی کافی ہوتے ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضروت ہے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں