کشمیر کامقدمہ | Khabrain Group Pakistan

لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفےٰ
کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لئے پاکستان کا بحیثیت قوم بیانیہ کیا ہے؟ میں پچھلے کالموں میں جو معروضات پیش کر چکا ہوں اس سے لوگ اختلاف تو کر سکتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے کیونکہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ بہت سے لوگوں کے لئے بہت تکلیف دہ ہے اس لئے کہ آج کی ہماری سیاسی اشرافیہ منظر نامے پر نظر آتی ہے اور جس بے رحمی سے ہم نے اگر کوئی بیانیہ تھا تو اس کو تار تار کر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن مہم زوروں پر ہے تو اس میں دیئے گئے بیانات ان کے مضمرات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا بحیثیت قوم جائزہ لینا ہمارا فرض ہونا چاہئے لیکن اس سلسلے میں ہم اپنی روائتی کم فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی نقطہ ہائے نظر کی بنیادوں پر اپنے اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کا دفاع بھی کر رہے ہیں اور اپنے مخالفین پر تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اگر ہم غور کریں تو بہت واضح ہے کہ الیکشن کی یہ مہم کشمیر‘ کشمیریت یا کشمیریوں کے حق خودارادیت کے بجائے اپنے اپنے انتہائی محدود مفادات کی جنگ ہے۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے آپ کو قومی سطح کے لیڈر سمجھنے والے یہ سیاسی بونے تاریخ اور جغرافیے سے نابلد ہونے کے علاوہ پاکستان کی سلامتی کے سب سے بڑے مسئلے پر کوئی ایک بھی بیانیہ صحیح طور پر پیش نہیں کر سکے۔
جہاں اس مقدمے میں بہت سی خامیاں اور جھول ہیں وہاں ایک اور بات بہت بڑی خامی جو نظر انداز کر دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جس اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں ہم کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں وہ بدقسمتی سے بون بائنڈنگ ہے۔ آسان لفظوں میں اس کے معنی یہ ہیں کہ اقوام متحدہ اس قرارداد پر عملدرآمد کرانے کا پابند نہیں ہے۔ اس قرار داد کی وجہ سے طاقت یا دوسرے ذرائع کا استعمال جو آپ کو سوڈان میں نظر آیا، انڈونیشیا میں نظر آیا۔ وہی راستہ کشمیر کے سلسلے میں اپنانے کا پابند نہیں ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس مقدمے کا تناظر ہی کمزور ہے اس پر طرہ یہ کہ پچھلے 72 سالوں میں ہم کشمیر پر ایک مستند اور صحیح بیانیہ ترتیب دینے میں بھی ناکام رہے ہیں اور مقدمے کی آج تک کی تیاریوں میں جھول بھی اس قدر زیادہ ہیں، اس کی کامیابی کی امید اگر کسی کوہے بھی تو اس شخص کی خوش فہمی پر داد دینے کو دل کرتا ہے۔
1993ء کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش نظر رہے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں جہاں 26 دوسرے ممالک کے لوگ بھی تربیت کے لئے آئے ہوئے تھے تو حسب روایت اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شہریار خان کو مدعو کیا گیا تا کہ وہ زیر تعلیم افسروں کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی جزئیات سے آگاہ کریں اور حاضرین میں موجود لوگوں کے سوالوں کا جواب دے کر یہ واضح کریں کہ اس وقت کی حکومت اور ریاست بحیثیت مجموعی خارجہ پالیسی کے میدان میں کہاں کھڑی ہے۔ یہ ایک اہم موقع ہوتا ہے جس میں پہلے سیکرٹری خارجہ اور بعد میں سربراہ مملکت پاکستان کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کرتے ہیں۔ اس اہم موقع پر سیکرٹری خارجہ صاحب نے جو بیان دیا وہ پاکستانیوں سمیت سب کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ شہر یارکا فرمانا تھا کہ ”دراصل کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک خطہ ارضی کی جنگ ہے“ اگر کسی قاری کو یہ بیان سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے تو عام فہم لفظوں میں اس کا مطلب یہ تھا کہ کشمیر ایک نظریاتی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل پاکستان کی تکمیل کے ساتھ جڑا ہوا ہے بلکہ ہمیں صرف اس خطہئ ارضی کی ضرورت ہے اور ہماری ساری کوشش صرف اس حد تک ہی ہے۔ اب مجھے کوئی بتائے کہ یہ بیانیہ لے کر چلنے والے ملک کا دنیا میں کون ساتھ دے گا؟ بہرحال اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو مرحومہ کو یہ سب کچھ بتایا گیا جس کے بعد انہوں نے کورس کے شرکا کے ساتھ اپنے تبادلہ خیالات میں یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی حد تک یہ ایک نظریاتی جنگ ہے اور تحریک تکمیل پاکستان کا پہلا اور شاید آخری نکتہ ہے۔
رونا اس بات کا ہے کہ دفتر خارجہ کے ایک انتہائی کہنہ مشق سفارت کار جو اس وقت دفتر خارجہ کو لیڈ کر رہے تھے ان کی پاکستان کے اس کلیدی مسئلے کے بارے میں سوچ اور اس کے نتیجے میں ترتیب پانے والا بیانیہ نہ صرف ہمارے بنیادی بیانئے سے متصادم تھا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بھی تھا غلط تو تھا ہی۔ اس کے نتیجے میں ترتیب دی جانے والی خارجہ پالیسی کا حال کیا ہو سکتا ہے؟ اس کے بارے میں بات کرنا بھی ایک تکلیف دہ امر ہے۔ اگر کبھی موقع ملے اور اگر یہ ممکن ہو تو یہ معلوم کرنے میں کوئی خرج نہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارتکار کشمیر کا مقدمہ کن بنیادوں پر اور کس حد تک اور کہاں تک لڑتے رہے ہیں۔ غیر ممالک کی پبلک اوپنین کو پاکستان کے حق میں بلکہ مطلوبہ کشمیریوں کے حق میں کس حد تک اس کی رائے عامہ کو ہموار کر سکتے ہیں۔ دنیا میں موجود کتنے تھنک ٹینکس کو قائل کیا گیا ہے دنیا کی کون کون سی بڑی یونیورسٹیوں میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے اور پانچ اگست 2019ء کے بعد سوشل میڈیا یا دنیا کے الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کو پاکستان کے بیانئے کے بارے میں وضاحت سے پیش کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ہم کس حد تک کامیاب رہے ہیں، صرف بیان بازی سے اور وہ بھی چند گنے چنے دنوں کی مناسبت سے۔ دل کے پھپھولے پھوڑنے کا یہ سلسلہ تو جاری ہے اگلے کالم میں میری کوشش ہو گی کہ میں شملہ معاہدے کے بارے میں پائے جانے والے بہت بڑے ابہام کو دور کرنے کی کوشش کروں۔ اصل میں تو یہ کام ہمارے دفتر خارجہ کا تھا لیکن کیا کہئے کہ وہ بھی اس سلسلے میں بھارتی بیانئے کی تائید ہی کرتا رہا۔
(کالم نگار دفاعی وسیاسی تجزیہ نگار
اورسابق کورکمانڈر منگلا ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں