پروٹوکول کلچر کا خاتمہ دیر آید درست آید

ملک منظور احمد
پاکستان کو آزاد ہوئے ہو ئے 74سال کا عرصہ ہو گیا ہے،آزادی سے قبل پاکستان جو کہ اس وقت برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا،طویل عرصے تک برطا نوی سامراج کی حکومت کے زیر سایہ رہااور کوئی بھی خطہ اور اس کے عوام اتنے طویل عرصے تک کسی بیرونی طاقت کے زیر اطاعت رہیں تو دو چیزیں ضرور رونما ہو ا کرتی ہیں۔ایک تو یہ غلام قوم رفتہ رفتہ اپنا کلچر اور تاریخ بھلا بیٹھتی ہے اور ذہنی طور پر غلامی کو قبول کر لیتی ہے اور دوسرا یہ کہ اپنے اوپر حکومت کرنے والی قوم کی روایت اپنانے کو فخر سمجھنے لگتی ہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم بھی آج تک متعدد ایسی چیزوں میں پھنسی پڑی ہے جو کہ برطا نوی سامراج کی باقیات میں شامل ہیں۔ برطانوی حکمران اس پورے بر صغیر کے حکمران تھے،اور ظاہر ہے ان کا تعلق اس سرزمین اور اس کے لوگوں سے دور دور تک نہیں تھا اور وہ اپنے آپ کو عوام سے بالا تر سمجھتے تھے اور عوام کو اپنے آپ تک رسائی نہیں دیتے تھے۔اس کی وجہ ان کے اس خطے کے عوام کے اوپر ایک خاص قسم کے احساس برتری کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کے مسائل بھی تھے۔ برطانوی حکمران اس بات کے خوف میں مبتلا رہتے تھے کہ کہیں کوئی عام آدمی انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے کیونکہ بہر حال وہ اس خطے میں ایک قابض قوت کی حیثیت رکھتے تھے۔لیکن اس کو ستم ظریفی کہا جائے کہ کچھ اور کہ سامراج کے جانے کے بعد ان کی اچھی چیزوں کو تو اپنایا نہیں اور نہ ہی کچھ ان سے سیکھ سکے لیکن ان کی تمام بری روایات کو گلے لگا لیا بلکہ اب تک گلے لگائے بیٹھے ہیں۔انہی بری روایات میں سے ایک روایت پروٹوکول کلچر کی ہے جس کو پاکستان کی اشرافیہ گلے لگائے بیٹھی ہے اور کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں انگریز تو چلے گئے لیکن ان کے جانے بعد جس حکمران طبقے نے جنم لیا وہ اپنے آپ کو انگریزوں کا وارث ہی سمجھ بیٹھے اور عوام سے اپنے آپ کو بالا تر سمجھتے ہو ئے عوام اور اپنے بیچ پروٹوکول اور سیکورٹی کے نام پر اونچی دیواریں کھڑی کر دیں اور اس حوالے سے صرف سیاست دانوں کو یا کسی ایک طبقے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
عدلیہ سے بیو روکریسی تک اور سیاست دانوں سے لے کر کاروباری افراد تک اس کلچر کے دلدادہ ہیں اور عوام کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم تم سے بالا ہیں۔ہم اگر اپنے اردگرد ہی نظر دوڑائیں تو ہمیں نجی گا ڑیوں پر بھی ایڈوکیٹ،ایم این اے،چیئرمین،اور پریس جیسی تختیاں آویزاں نظر آتی ہیں جن کو لگانے کا صرف اور صرف یہی مقصد ہو تا ہے کہ عوام کو یہ باور کروایا جائے کہ ہم آپ میں سے نہیں ہیں بلکہ بالا تر ہیں اور خواص کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہم آپ کی برادری میں سے ہی ہیں۔کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ عوام اور خواص کے درمیان یہ خلیج اس ملک کے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کررہی ہے اور کسی بھی ملک کے اصل وارث عوام ہی ہو تے ہیں اور ان کے بغیر کوئی بھی ملک چلا یا نہیں جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان طویل عرصے بعد پاکستان کو ملنے والے وہ حکمران ہیں جو کہ اس مسئلہ کے حوالے سے متحرک نظر آرہے ہیں اور نہ صرف متحرک نظر آرہے ہیں بلکہ اس حوالے سے عملی اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں۔وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ نے حالیہ دنوں میں وزراء سمیت حکومتی شخصیات، ریٹارڈ ججز اور ریٹا رڈ بیو رو کریٹس،سے اضافی پروٹوکول واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ لیکن خلاف توقع اس فیصلے کے خلاف احتجاج کی صدائیں حکومتی بینچوں سے نہیں بلکہ اپوزیشن بینچوں کی جانب سے اٹھتی ہو ئی سنائی دیں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد ایسی اپوزیشن شخصیات ہیں جو کہ حکومتی پروٹوکول حاصل کیے ہو ئے ہیں۔اپوزیشن لیڈر شہباذ شریف نے بھی اس حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ان کا اس حوالے سے موقف تھا کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی شخصیات سے سیکورٹی واپس لینا حکومت کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے اور کسی بھی سیاسی شخصیت کو کو ئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال ابتر رہی ہے اورا س عرصے کے دوران بہت سی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا،اور ان حملوں میں کئی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔سیکورٹی یقینی طور پر جس کسی کو بھی خطرہ ہے ہو اس کا حق ہے لیکن یہ سیکورٹی ضرورت کے عین مطابق ہونی چاہیے اور اس کا مقصد صرف سیکورٹی ہو نا چاہیے نہ کہ نمود و نمائش۔ یہاں پر یہ سوال بھی بنتا ہے کہ سیکورٹی اور پروٹوکول میں آخر فرق ہے کیا اور اس کی وضاحت کیسے کی جاسکتی ہے؟ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور پاکستان کے پاس محدود وسائل ہیں اگر اس حوالے سے مثال کے طور پر اسلام آباد شہر ہی کی بات کی جائے تو شاید اسلام آباد پولیس کی آدھی سے زیادہ نفری جو کہ پہلے ہی محدود تعداد میں ہے،وہ اب وی آئی پیز کو پروٹوکول دے گی یا پھر جرائم کی روک تھام اور عوام کی حفاظت کرے گی۔
وزیر اعظم عمران خان ماضی میں بھی سامراجی ذہنیت اور ذہنی غلامی کے ما ئینڈ سیٹ سے نجات پانے کی اہمیت پر زور دیتے آئے ہیں انھوں نے تو دنیا بھر میں پاکستانی سفارت کاروں کو بھی اپنے سامراجی رویے تبدیل کرنے کا مشورہ دے ڈالا تھا،بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے،لیکن پروٹوکول کلچر کا خاتمہ اب وقت کی ضرورت بھی ہے اور پرانی منفی روایات کو ختم کرکے ایک نئے دور میں داخل ہونے کا اہم تقاضا بھی ہے۔جتنی جلد اس کلچر اور اس کے ساتھ ساتھ سامراجیت کی باقیات سے ہمیں ورثے میں ملے ہو ئے دیگر ایسے کلچر ہیں جو کہ ملکی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان سے نجات حاصل کر لینا ہی بہتر ہے۔
(کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں