جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط3)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور 

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

والا حساب رہا۔

حماس ایکٹیوسٹ

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری قسط کا آخری حصہ
کانتا نواس (جسے یہ مختصراً کے۔ ہاؤس کہتے تھے) نریمان سینٹر میں جو میرین ڈرائیو پر تاج محل ہوٹل کے قریب واقع تھا وہاں دو کمرے دیئے ہوئے تھے۔ جہاں وہ اپنی خالہ کے ساتھ رہتی تھی، یہ خالہ ایک بوڑھی بیوہ تھی اور نریمان سینٹرکا کانتا نواس، بمبئی میں اولڈ ہوم سینٹر کے طور پر مشہور تھا۔بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ اس کے تیسری منزل کس کے پاس تھی۔یہاں موساد کے تین افسر بیٹھتے تھے۔جن کا دائرہ کار باکو (آذر بائی جان)سے لے کر سوئل(جنوبی کوریا) تک تھا۔ نیپال پاکستان، بنگلہ دیش، تبت، ایران، خلیج عرب کی ریاستیں اور افغانستان ان کی توجہ کا خاص مرکز تھے۔چین کا وہ علاقہ جو پاکستان سے ملتا ہے اور کشمیر میں بھی ان کا بڑا کام تھا۔

تیسری قسط
دراصل ہندوستان سے لوگوں کی غیر ممالک میں نقل مکانی کا آغاز پہلی جنگ عظیم سے ہی ہوگیا تھا۔اب ان کی ایک خاصی بڑی تعداد ان ممالک میں آباد تھی۔ خلیجی ریاستوں میں تو وہاں کے اصل باشندوں سے زیادہ ہندوستانی آباد تھے اور آپس میں بہت جڑ کر رہتے تھے۔خدا نہ کرے کسی پاکستانی کا ان سے واسطہ پڑ جائے نوکری ہو یا ترقی یا کاروبار یہ کوشش کرتے تھے کہ وہاں سے بھاگ لے۔کسی طور وہ اسے آگے بڑھنے نہ دیتے تھے۔

موساد کو ہندوستانی آپریٹرز کے ذریعے مشرق ِ وسطی اور دیگر ممالک میں کام کرنے میں یہ سہولت ہوتی تھی کہ اس میں اخراجات کم، کوورCover بہترین اور دشمنی بونس میں ملتی تھی۔عربوں کی خفیہ پولیس جسے مخبرات کہتے ہیں۔ان کو بہت کم شک ہوتا کہ کون معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں۔وہ اسی خیال میں رہتے تھے کہ ہندوستان سے لوگ ان کے ملک میں محض کام کرنے،اپنی غربت دور کرنے اور ہندوستانی فلمیں دیکھنے آئے ہیں۔

یہ کوئینی ہی تھی جس نے موساد والوں کو قائل کیا کہ اپنی شدید جذباتی فطرت اور احساس ِ محرومی کے باعث تاملوں کو خود کش حملے کرنے کی ترغیب دینا بہت آسان ہوگا۔ ذہن ہے ،سوچنے پر آئے تو کہیں سے کہیں نکل سکتا ہے، اس طرح کے حملے اسرائیل میں فلسطینیوں نے بھی بہت کئے۔جب یاسر عرفات کی تنظیم کا زور توڑنے کے لئے اسرائیل نے حماس کی تشکیل اور حمائیت کرنا شروع کی تو یہ حملے انہوں نے بھی جاری رکھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہر حملے کے بعد اسرائیل کا اثر و رسوخ فلسطین پر جبر و تسلّط بڑھتا گیا ،اُن کی نئی بستیاں آباد ہوتی چلی گئیں اور حفاظتی دیوار بھی انہی حملوں کے بعد بنی۔عالمی رائے عامہ بھی ان کے حق میں ہوتی چلی گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ ان حملوں کی ترغیب اور فروغ کے سرے خود اسرائیلوں کے ہاتھ میں ہوں۔

تامل ایلام
آج رپٹ جائیں
انڈیا کلب
اوبرائے ممبئی

سارا کھیل مائنڈ  مینجمنٹ کا ہے۔ لگتا تھا کہ ان سب حملوں کا پروگرام ایک سوچے سمجھے ہوئے  منصوبے کے تحت چلایا جارہا ہے اور اُن کے ایجنٹ ہر اس تنظیم میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے جو اس طرح کے حملوں کو اپنے عزائم اور مفادات کے فروغ کے لئے استعمال کر رہی تھیں۔

دنیا بھر میں ماہرِ نفسیات کی ایک خاصی بڑی تعداد یہودیوں کی ہے۔ خود سگمنڈ فرائڈ آسٹریا کا یہودی تھا اور کارل جنگ جو دنیا میں Analytical Psychology میں بڑا نام ہے فرائڈ کا گہرا دوست تھا اور اپنی کتابوں پر بہت مشورے اس سے لیا کرتا تھا۔

پالی ہِل

خود کش حملے ماہرین نفسیات کے نزدیک انتقام، محرومی اور کسی مقصد کے حصول  کے لیے جان   دینے کی خاطرکیے جاتے ہیں۔ ان حملوں کے لئے جان نچھاور کرنے کے لئے بے تاب نوجوانوں کے دل و دماغ کا کنٹرول حاصل کر کے انہیں اپنے مذموم مقاصد کی خاطر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی پبلسٹی ویلیؤبہت تھی ایسے ہر حملے پر دُنیا بھونچکا رہ جاتی تھی۔

پاکستان میں گرفتار ہونے والے ایک ایسے ہی مذہبی جنونی ماسٹر مائنڈ سے جب دوران تفتیش سوال کیا گیا کہ ایک خود کش بمبار کتنے دن میں تیار ہو جاتا ہے تو اس نے سب کو یہ بتا کر ورطہء حیرت میں
ڈال دیا تھا کہ اگر اس کی ذہنی تربیت ایک خاص نہج پر پہلے سے ہوئی ہو تو وہ ایسا بمبار صرف تین دن میں تیار کرسکتا ہے۔

مرلی بالاسنگھم سے اس کی یعنی کوئینی کی پیشہ ورانہ واقفیت تھی۔ کئی مرتبہ کوئینی کو اپنے ادارے کی جانب سے اس سے ملاقات کا موقع ملتا تھا اور مرلی ہی نے اسے تامل ایلام والوں تک رسائی مہیا کی۔دونوں کے ادارے، باجی ادارے تھے۔کراچی کے ایک پولیس انسپکٹر نے اپنی اردو میں تحریر کی جانے والی رپورٹ میں Sister-Concern ۔ کا آسان اردو ترجمہ یہی کیا تھا۔

سکوٹی

مرلی اسے اکثر کھانے پر لے جاتا تھا جہاں قیمتی شراب بھی ہوتی۔ خیال تھا کہ کسی دن وہ بہک جائے گی اور شراب کے نشے میں، برسات کی کسی رات،بہتی ہوئی،اس کے قدموں میں “آج رپٹ جائیں تو ہمیں نہ اٹھائیو کہتی ہوئی “سمٹ جائے گی۔

کوئینی کو ہدایت تھی کہ وہ اس کے ساتھ کھانے یا ملاقات پر کسی اہم جگہ نہ جائے۔ نہ کسی بڑے ہوٹل میں اور نہ ہی کسی پبلک مقام پر۔گو کہ ان کے دائرہ ملاقات میں انڈیا کلب، اوبرائے شیرٹن اور تاج محل قریب قریب واقع تھے۔ کوئینی کو اسکے اپنے ادارے نے ایک کلائی کی گھڑی دی ہوئی تھی۔ جس میں خاص بات یہ تھی کہ اگر اس کی گفتگو کو ٹیپ کیا جارہا ہوتا یا بطور ثبوت خفیہ کیمرے سے فلم بنائی جارہی ہوتی تو  اس میں الارم بج جاتا تھا۔جب مرلی سے ایک ملاقات کے دوران جو پالی ہل کے ایک ریسٹ ہاؤس میں ہوئی یہ الارم بجا تو مرلی کو بڑی حیرت ہوئی۔مگر کوئینی نے کہا اصل میں وہ الارم سیٹ کرتے وقت am کی بجائے غلطی سے 5.30 pm سیٹ کربیٹھی تھی۔موسم بہت خوبصورت ہے اور جگہ بھی ،کیوں نہ لان میں کرسیاں ڈال کر بیٹھیں۔ یوں مرلی کا پہلے سے کیا ہوا  انتظام چوپٹ ہوگیا۔البتہ اس کے اپنے کس کر باندھے گئے جوڑے میں ایک چھوٹے سے سیل جتنا ٹرانسمیٹر تھا جو با آسانی اس کے پرس میں رکھے بلش آن کے خوبصورت بکس کی طرح کے بنے ہوئے ٹیپ ریکارڈر کو گفتگو کے سگنل پہنچا کر اسے ٹیپ کرنے میں مدد دے رہا تھا۔

مرلی سے ملاقات کا دوسرا اہتمام یہ تھا کہ وہ ہمیشہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرے۔نہ اپنی scooty اور نہ ہی مرلی کی فراہم کردہ کوئی ٹرانسپورٹ۔اس ہدایت کے پس منظر میں یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ مرلی اور اس کا ادارہ بھارت سرکار سے وابستہ تھے۔ان کی گاڑیوں کے نمبر ان کے پاس ضرور ہوتے تھے جو ان کو tail یعنی تعاقب کرتے تھے اور اسکی اپنی اسکوٹر بھی رجسٹرڈ نمبر پلیٹ کی تھی۔ ہدایت یہ بھی تھی کہ اس کی موجودگی میں وہ کسی لبریشن ٹائیگر سے نہ ملے۔جب وہ اپنے کمرے پر واپس آجائے تو پہلی فرصت میں وہ ٹیپ اور اپنی رپورٹ موشے بن یامین کے حوالے کرے جو ان کے ادارے کا وہاں کی برانچ کا سربراہ تھا اور اپنی بیوی فرشتے پری زاد ، جو ایک ہندوستانی ایرانی بہائی تھی اسکے ساتھ کانتا نواس میں ہی رہتا تھا اور ایرانی یہودی تھا۔

دھنو
شوبھا
شیوراسن
شوبھا اور دھنو،خودکش حملہ آور
جیکٹ

لبریشن ٹائیگر میں وہ اپنے زیادہ تر روابط ان کی خواتین ایجنٹوں سے رکھے، ان سے ہمیشہ پبلک مراکز بالخصوص خوب رش والے شاپنگ کے مراکز اور ان میں یا پاس پڑوس میں واقع ریستورانٹس میں ملے۔کوئینی کو حیرت ہوتی تھی کہ یہ تامل ایجنٹ لڑکیاں بہت پڑھی لکھی،بہت ذہین مگر بہت غریب تھیں۔ اسے ہدایت تھی کہ وہ ان کے لئے کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا تحفہ ضرور لے کر جائے۔کسی کو اگر پیسوں کی ضرورت ہو تو وہ انہیں دینے میں ہچکچاہٹ نہ کرے۔کھانے پینے کا بل بھی خود ہی ادا کرے۔ان تمام ملاقاتوں میں کوئینی کو پہلی دفعہ یہ معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر کی آپس میں گہری رشتہ داریاں بھی تھیں۔عام حالات میں دہشت گرد تنظیمیں اس بات کا اہتمام کرتی ہیں کہ رشتہ داروں کو ایک سیل میں ہرگز نہ شامل کیا جائے مگر شاید  تامل ایلام کا طریقہ واردات انہی رشتہ داریوں کی وجہ سے مضبو ط تھا۔

اگر مردوں سے ملنا لازم ہو تو اپنے ساتھ ایک خاص قسم کے کیمیکل میں ڈوبا اپنا سوئس چاقو ضرور ساتھ رکھے اور موقع پڑنے پر اسے استعمال کرلے۔اس سے زخمی ہونے والے کی موت کچھ دیر بعد ہی واقع ہو جائے گی، یہ کیمیکل ایسا تھا کہ اس کی علامات پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ظاہر نہیں ہوتی تھیں۔اس کیمیکل کا زہر خون کو گاڑھا کردیتا تھا جس سے کچھ دیر بعد دل بند ہوجاتا تھا۔

ہری بابو،فوٹو گرافر
نلینی اور موراگن گرفتاری کے موقع پر
موراگن

کوئینی کو یہ چاقو استعمال کرنے کی کبھی بھی ضرورت پیش نہ آئی۔ لبریشن ٹائیگر کے مرد ایجنٹ ایک پیکر شرافت ہوتے تھے۔ ساری ملاقات میں اسے اکّا اکّا کہتے نہیں تھکتے تھے، جو تامل زبان میں دیدی یعنی بڑی بہن کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ان تمام ایجنٹوں کو یہ خصوصی ہدایت تھی کہ تحریک کے لئے کام کرنے والی ہر لڑکی ان کے لئے بہن کی طرح معتبر اور واجب الاحترام ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس ایک ہدایت کی خلاف ورزی سے اور ایک دوسری ہدایت کی پابندی کی وجہ سے ایک ان کی وہ ساری سازش بے نقاب ہوئی جس کے تحت انہوں نے راجیو گاندھی کو ہلاک کیا۔اس گروپ میں جو منصوبے کے لئے خاص طور پر تامل ایلام والوں نے ایک بھائی بھاگیہ ناتھن اور اس کی بہن سمیت ایک عورت جس کا نام نلینی تھا۔ ان دونوں کو اس ساری سازش کے اہم ترین رکن بے بی سبرامنیم نے ان دونوں غریب اور قرضوں کے ستائے ہوئے  بھائی بہن کی بھرتی کی تھی۔انہیں کے گھر دھانو اور شھوبا ساہلینی (جو شیواراسن کی کزن تھیں) جافنا سے آن کر شیواراسن سمیت ٹھہری تھیں۔شیواراسن، سبرامنیم کے واپس جافنا سری لنکا واپس لوٹ جانے کے بعد اس گروپ کا انچارج تھا۔دھانو کا کام اس خودکش جیکٹ میں سیئے ہوئے بم کو عین اسوقت پھاڑنا تھا جب وہ راجیو گاندھی کے بالکل قریب ہو کر انہیں پھولوں کا ہار پہنائے۔اس کے بیک اپ کو طور پر شھوبا ساہلینی کو رکھا گیا تھا کہ کسی وجہ سے اگر دھانو کے ارادے بدل جائیں تو اسے استعمال کیا جاسکے۔

ان دنوں ہندوستان میں درمیانہ مدت کے انتخابات کا اعلان ہوچکا تھا اور راجیو گاندھی سری پرم پودر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرنے آرہے تھے۔اس پوری کاروائی کے پہلے دو Dry-Run ہوئے۔دوسرے ڈرائی رن میں دھانو نے سکیورٹی کے تمام حصار کامیابی سے عبور کرکے راجیو گاندھی کے حریف وی پی سنگھ کے پیر بالکل اس انداز میں ہار ڈالنے کے بعد چھوئے جیسے اسے راجیو گاندھی کے ساتھ کرنا تھا۔ یہ دونوں لیڈران کرام چونکہ ان دنوں وزیر اعظم نہ تھے لہذا ان کی سکیورٹی زیڈ لیول کی نہ تھی، ایسا ہوتا تو شا ید یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پاتا۔

جس ہدایت پر عمل کرکے ان کی یہ سازش بے نقاب ہوئی وہ یہ تھی کہ تامل اپنی ہر کارروائی کی تصویریں ضرور بناتے تھے، جو بعد میں ان کے لیڈرپربھاکرن کو دکھائی جاتی تھیں۔ اب کی دفعہ انہوں نے ایک غریب فوٹوگرافر ہری بابو کو، شوبھا فوٹوز اینڈ نیوز ایجنسی کے ذریعے اس کام کے لئے شامل کیا۔اس بدنصیب کو یہ علم بھی نہ تھا کہ  دھانو بیگم نے اپنے بلاوز کے نیچے خودکش جیکٹ چڑھائی ہوئی ہے۔وہ تو اس خوش فہمی میں رہا کہ دھانو چاہتی ہے کہ یہ تصویر جس میں وہ ہندوستان کے ہونے والے وزیرِاعظم کے گلے میں ہار ڈال رہی ہے بطور ایک یادگار اس کے پاس ہو۔ وہ واردات کے وقت عمدہ شاٹ کی طلب میں بالکل قریب چلا گیا اور ان بدنصیب سولہ لوگوں میں شامل ہوا،جو اس واردات میں بشمول راجیو گاندھی کے اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ہلاکت کے بعد اس کا کیمرہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا جس میں ان تمام لوگوں کی تصاویر محفوظ تھیں جو اس واردات کے وقت آس پاس منڈلا رہے تھے۔

پریانیکا اور نلینی

البتہ جس ہدایت کی خلاف ورزی ہوئی وہ یہ تھی کہ تحریک میں شامل خواتین کو بہن سمجھو۔ نلینی کے تعلقات اس   سازش کے ایک اہم رکن بم بنانے کے ماہر موراگن سے ہوگئے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔جب وہ اس قتل کے بعد تروپاٹھی۔ مدراس کی ایک چھوٹی سی بستی میں چھپتے پھرتے تھے۔۔

نلینی کی طبیعت اپنے حمل کی وجہ سے بہت خراب ہوگئی اور یہیں سے سارا بھانڈا پھوٹا۔ ان کی گرفتاری پر مامور ٹیم کو پہلی لیڈ اس حوالے سے ہی ملی۔گو ٹیم کے بیشتر ممبران نے زندہ گرفتاری کے خوف سے خود کو زہر کا کیپسول  جو ہر وقت ان کے گلے میں بطور لاکٹ لٹکا رہتا تھا کھاکر جان دے دی مگر نلینی اپنے آشنا موراگن کے ساتھ گرفتار ہوئی جسے بعد میں راجیو گاندھی کی صاحبزادی پریانکا گاندھی نے جیل میں ملاقات کرکے معافی دے دی۔

پریما داسا کی موت
شیخ یاسین

آپ اگر قتل کی اس بھیانک سازش کا بغور جائزہ لیں تو ایک بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اس کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں کوئی سقم نہیں تھا۔اس کے اہم کردار سری لنکا سے آئے۔ اس پر ایک سال سے زیادہ کی منصوبہ بندی کی گئی۔سارا نیٹ ورک ایک شہر مدراس میں ترتیب دیا گیا۔مقامی لوگوں کو جو اس میں شامل ہوئے بھاگیہ ناتھن نے بہت احتیاط سے نہ صرف منتخب کیا بلکہ تحریک کے حوالے سے ان کی ذہنی تربیت بھی خوب ٹھونک بجا کر کی گئی۔ان کی غربت کا خوب فائدہ اٹھایا گیا۔کسی کو ٹارگٹ کے بارے میں کوئی معلومات پہلے سے بہم نہ  کی  گئیں۔حملے کے ڈرائی رن بہت مکمل انداز میں کئے گئے۔خودکش جیکٹ کی تیاری سے حملے تک جو کردار اہم تھے وہ سب کے سب سری لنکا سے منتخب کرکے لائے گئے اور انہیں جائے واردات تک الگ الگ اطمینان سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچنے کی سہولت دی گئی۔۔حملے کے بعد سب اطمینان سے رکشہ اور بس سے فرار ہوئے۔یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پس پردہ کچھ ایسے کردار تھے جن کے نہ صرف بڑے سیاسی محرکات تھے جو راجیو گاندھی کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوجانے کی صورت میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ راجیو گاندھی ہندوستان کو سری لنکا کی علیحدگی پسند تنظیموں سے دور کرنا چاہتے تھے۔اسی مقصد کے لئے وہاں ایک امن فوج بھی انہوں نے بھیجی تھی۔اب وہاں کے صدر پریما داسا تھے جن سے راجیو جی کے مراسم بہت اچھے تھے۔ان عناصر پر شبہ ہے کہ انہوں نے پہلے تو راجیو گاندھی جی کو قتل کرایااور دو سال بعد ایک خودکش سائیکل بمبار کے ذریعے لیبر ڈے پر پریما داسا جی کو قتل کیا گیا۔

اس تمام سازش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے اندر بہت اہم لیول کے افراد شامل تھے۔تاملوں کے کئی گروپ براہ راست اسرائیل کی مدد اور رہنمائی حاصل کرتے تھے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے صرف پانچ ہفتے قبل ہی راجیو گاندھی کو اس طرح کے حملے سے باخبر کیا تھا۔انہیں اس حملے کی سن گن کہاں سے ملی، یہ لمحہء فکریہ ہے۔کیا جنوب اور شمال کی جوعلاقائی اور لسانی تقسیم ہندوستان کی اہم ایجنسیاں  تھیں، اس نے جان بوجھ کر اس حملے کی تیاریوں سے مرلی بالاسنگھم جیسے لوگوں نے مرکز کو بے خبربھی رکھا اوران کی یعنی راجیو گاندھی جی کی جان بچانے کی خاطر خواہ کوئی احتیاطی تدبیر بھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔فارسی میں کہتے ہیں “دید و باز دید” یعنی دیکھتا چلا گیا۔ مہاتما بدھا کہا کرتے تھے “جو میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے۔”

Advertisements

merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk




بشکریہ

جواب چھوڑیں