معذور سیاستدانوں کے لیے دو فیصد کوٹہ۔۔خالدمسعودخان


اللہ تعالیٰ ہدایت بخشے ہمارے سیاستدانوں کو کہ سچ بولنا ان کے نزدیک شاید دنیا کا سب سے ناپسندیدہ کام ہے‘ مگر یہ کمبخت سچ ہے بڑی بری شے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی منہ سے نکل جاتا ہے‘ جیسے اپنے شاہد خاقان عباسی صاحب جیسے سینئر اور منجھے ہوئے سیاستدان کے منہ سے سچ نکل گیا ہے۔ موصوف اتنے سمجھدار سیاستدان ہیں کہ سچ بولنے کی ان جیسے تجربہ کار اور جہاندیدہ سیاستدان سے ہمیں قطعاً کوئی امید نہیں تھی‘ مگر سچ کبھی کبھار سر چڑھ کر بولتا ہے‘ سو ایسے میں بندے سے غلطی ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی انسان خطا کا پتلا ہے اور اپنے شاہد خاقان عباسی صاحب کون سا مریخ سے آئے ہیں کہ معصوم عن الخطا ٹھہرتے۔ سو غلطی سے ہی سہی، مگر بہرحال سچ ان کے منہ نکل گیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے طنز کا تیر چلاتے ہوئے سچ بول دیا اور کہا کہ اگر ان سے (پی ٹی آئی والوں سے) ملک نہیں چل رہا تو بتا دیں، میں نواز شریف کو واپسی کا کہوں گا‘ یعنی اگر پی ٹی آئی والے اپنی حکومت چلانے میں ناکامی کا اعتراف کر لیں تو وہ (شاہد خاقان عباسی) مسلم لیگ ن کے مفرور قائد میاں نواز شریف کو حکومت چلانے کے لیے واپس پاکستان آنے کا کہیں گے۔ اس بیان سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ اگر حکومت چلانے کی بات ہے تو وہ میاں نواز شریف کو واپس پاکستان آنے کا کہیں گے اور ظاہر ہے وہ حکومت جیسی بھاری ذمہ داری اٹھانے کے لیے تو پاکستان تشریف لا سکتے ہیں‘ مگر رسیدیں دکھانے جیسے معمولی کام کے لیے بوجہ بیماری واپس آنے سے عاری ہیں۔ الغرض اگر اقتدار میں واپسی کی بات ہو تو واپس آنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر احتساب کا سامنا کرنا ہو، رسیدیں دکھانی ہوں، منی ٹریل فراہم کرنی ہو تو میاں صاحب شدید علیل ہیں اور پاکستان واپسی سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
میاں صاحب آج سے تقریباً پونے دو سال قبل وسط نومبر 2019ء میں جان لیوا مرض کے علاج کے بہانے لندن تشریف لے گئے تھے؛ تاہم اس دوران نہ وہ کسی ہسپتال میں داخل ہوئے اور نہ ہی باقاعدہ طور پر کسی ڈاکٹر کے زیر علاج رہے۔ اس عرصے میں ان کی صحت بھی ما شا اللہ خاصی ٹھیک رہی اور اس دوران ان کی ہوٹل گردی کی تصاویر بھی نظر آتی رہیں‘ لیکن آٹھ ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے لندن جانے والے میاں صاحب واپس آنا بھول گئے۔ گھر والوں اور پارٹی ورکروں کے بقول وہ شدید بیمار ہیں اور اس حالت میں وہ پاکستان واپس نہیں آ سکتے۔ دوسری طرف وہ لندن میں گھوم پھر بھی رہے ہیں‘ اور بغیر علاج ان کے پلیٹ لیٹس بھی اب نارمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ میاں صاحب کو صحت و تندرستی عطا کرے‘ وہ وہاں کھابے بھی اڑا رہے ہیں اور موج میلا بھی کر رہے ہیں‘ لیکن جیسے ہی ان کی پاکستان واپسی کی بات کی جائے‘ ان کی دخترِ نیک اختر فرماتی ہیں کہ آپ ان کی زندگی کی گارنٹی دے دیں تو وہ واپس آ جائیں گے۔ کیا اس جہانِ فانی میں کوئی شخص یا ادارہ کسی انسان کی زندگی کی گارنٹی دے سکتا ہے؟ ان کی جیل سے رہائی اور لندن روانگی کے معاملے میں بھی یہی ضمانت مانگی گئی تھی۔ ظاہر ہے یہ ضمانت یا یقین دہانی کوئی بھی نہیں دے سکتا تھا‘ لہٰذا ان کی زندگی کی حکومتی ضمانت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی ضمانت ہو گئی اور وہ پھر ایسے گئے کہ واپس آنا ہی بھول گئے اور پچاس روپے کے سرکاری کاغذ پر میاں شہباز شریف کے لکھے ہوئے بیان حلفی کی قیمت پچاس روپے سے گرتے گرتے ایک دمڑی کی بھی نہ رہی۔ نہ کسی نے ضامن کو سمن بھیجا اور نہ ہی بیان حلفی کی خلاف ورزی پر کسی نے میاں شہباز شریف کو بلا کر پوچھا۔ آئین پاکستان تو اپنے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق کا حامل قرار دیتا ہے، لیکن کیا ہمارا قانون امیر اور غریب کو یکساں انصاف فراہم کرتا ہے؟

ہمارے سیاستدانوں کی بیماریاں بہت ہی سمجھدار ہیں۔ جب تک وہ اقتدار میں رہتے ہیں بیماریاں ان سے دور بھاگتی ہیں اور جونہی وہ اقتدار سے علیحدہ ہوں اور ان سے ان کے اقتدار کے دوران والی بد عنوانیوں کے بارے میں پوچھ تاچھ شروع کی جائے تو وہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ کسی کی کمر میں درد شروع ہو جاتا ہے اور کسی کے پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں۔ چلیں آئین کی دفعہ 62، 63 کو تو بھول جائیں لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ ارکان پارلیمنٹ سے حلف اٹھانے سے قبل میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ طلب کیا جائے؟ اگر عام سی سرکاری نوکری کے لیے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ ضروری ہے تو اقتدار کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے والوں کو خرابیٔ صحت کی صورت میں اس اہم ذمہ داری پر کیسے متعین کیا جا سکتا ہے؟
مجھے اس سے ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ میں تب بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں داخل ہی ہوا تھا کہ یہ واقعہ سننے کو مل گیا۔ اس سارے قصے کا راوی ہمارا دوست منیر چوہدری تھا۔ منیر چوہدری میرا لنگوٹیا تھا اور مجھ سے یونیورسٹی میں ایک سال سینئر۔ ہماری دوستی کالج کے زمانے سے تھی اور ہم دو مختلف کالجوں کے طالب علم ہونے کے باوجود بہت ہی گہرے دوست تھے اور اس دوستی کی وجہ تب کالجوں میں ہونے والے بین الکلیاتی مباحثے اور مشاعرے تھے۔ ہماری دوستی انہی مباحثوں کے دوران مختلف کالجوں میں ہونے والی بین الکلیاتی تقریبات کے دوران شروع ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ بہت ہی پختہ ہو گئی۔ منیر چوہدری سیاسیات کے شعبہ میں تھا اور میں بزنس ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں‘ مگر وہ اپنی کلاس ختم ہونے پر نیو کیمپس سے بس پر چڑھ کر اولڈ کیمپس آ جاتا یا میں اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس چلا جاتا۔ ہماری جوڑی جامعہ کی شاید سب سے مضبوط تعلق والی جوڑی کے طور پر مشہور تھی۔ چوہدری کے پاس بڑی مزیدار خبریں ہوتی تھیں۔

Advertisements

merkit.pk

tripako tours pakistan

ایک دن بتانے لگا کہ اس کے شعبے میں ایک نیا لیکچرر آیا تھا اور اس نے گلگشت کالونی میں رہنے کے لیے کسی گھر کا بالائی پورشن کرایہ پر لے لیا تھا۔ چار چھ دن کے بعد وہ وائس چانسلر کے پاس گیا اور اس سے کہنے لگا کہ اس سے کرایہ پر لیے اس بالائی پورشن کی سیڑھیاں نہیں چڑھی جاتیں لہٰذا اس کے لیے کسی مناسب سے گرائونڈ فلور والے گھر کا بندوبست کیا جائے۔ وائس چانسلر نے اس لیکچرر سے کہا کہ میرے آپ سے دو سوال ہیں‘ پہلے آپ ان کا جواب دیں۔ پہلا یہ کہ اوپر والے پورشن پر مشتمل یہ گھر آپ نے کرایہ پر لیا تھا یا میں نے آپ کو زبردستی دلوایا تھا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ اٹھائیس، انتیس سال کی عمر میں بھی اگر دس بارہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے تو آپ کو یونیورسٹی کی نوکری جوائن کرنے کے لیے لازمی فراہم کیا جانے والا میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ کس نے دیا ہے؟ یہ سن کر لیکچرر صاحب جواب دینے کے بجائے خاموشی سے رفوچکر ہو گئے۔
خورشید شاہ گزشتہ دو سال سے بقول پیپلز پارٹی والوں کے جیل میں ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موصوف گزشتہ دو سال سے مسلسل ہسپتال میں ہیں اور مزے کر رہے ہیں۔ شرجیل میمن (شہد والے) کو پکڑا تو وہ بھی ہسپتال پہنچ گئے اور جب سے باہر آئے ہیں ما شا اللہ سو فیصد تندرست ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جس طرح بینکوں وغیرہ سے عدم نادہندگی کا سرٹیفکیٹ ضروری ہے‘ اسی طرح کاغذات نامزدگی داخل کرواتے وقت ہر امیدوار سے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ طلب کیا جانا چاہئے۔ اب ایسی صورت میں صحت کے ہاتھوں مار کھائے ہوئے سیاستدان کیا کریں اور کہاں جائیں؟ ظاہر ہے معذور سیاستدانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ میری تجویز یہ ہے کہ اسمبلی کے ارکان کے لیے بھی دیگر سرکاری ملازمتوں کی طرح دو فیصد معذوروں کا کوٹہ مخصوص کر دیا جائے۔ آئین پاکستان خواہ کاغذی طور پر ہی سہی، تمام شہریوں کو برابر کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اس شق پر عمل کرنے سے قانون کا بھی بول بالا ہو جائے گا اور معذور سیاستدان بھی اکاموڈیٹ ہو جائیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)




بشکریہ

جواب چھوڑیں