دھماچوکڑی۔۔سلیم مرزا – مکالمہمکالمہ


صبح میں وہاڑی کیلئے تیار ہورہا تھا تو بیگم کہنے لگی ۔
“آپ تو شاعر نہیں ،آپ کا مشاعرے میں کیا کام “؟
کیا بتاتا کہ ،میں وہ غبارہ ہوں جو محبوبہ کی سالگرہ پہ اس کے گھر جاتے ہوئے سیانہ بندہ ساتھ لے جاتا ہے کہ شاید۔۔۔ ۔
میں نے کہا “بھلیے لوکے، جب چار یار مل ملا کر شراب کی بوتل لائیں اور ان کے پاس مرغا کھانے کے پیسے نہ ہوں تو وہ منہ کا ذائقہ بدلنے کو بیس روہے والا ککڑ نمکو کا پیکٹ لے لیتے ہیں ۔
“آپ ککڑ نمکو بننے کی بجائے کسی استاد سے  شاعری کیوں نہیں سیکھ لیتے “؟شانی اور سعید دونوں آپ کے دوست بھی ہیں “۔
میں نے کہا
” نیک بخت شاعری میں کوئی کسی کا دوست نہیں ۔ایک متشاعرہ سے دونوں کے بارے مشورہ کیا تھا ۔کہنے لگی
“سادھو کا وزن کم  ہے  اور شانی کی بحر بہت بڑی  ہے ۔
استادگی کیلئے مناسب تو پھر فضل گیلانی بچتا  ہے ۔مگر وہ مردانہ شاگرد نہیں رکھتا۔”
کامونکی سے وہاڑی پہنچنا بجائے خود ایک کہانی  ہے ۔اڈے پہ پہنچ کر عدنان بھٹہ صاحب کو فون کیا ۔کہنے لگے کپڑے پہن کر آتا ہوں ۔
کہا “ایسے ہی آجائیں ۔مجھے کوئی پرابلم نہیں ”
کہنے لگے ۔”عوامی اثاثے عوام سے چھپا کر رکھنے کا رواج  ہے ۔”
عدنان آصف بھٹہ آیا تو صرف ٹراؤزر شرٹ پہنے ہوئے تھا ، میں نے اثاثوں کا بغور جائزہ لیا ، وہ پانامہ والے کیس میں اقامے سے بھی کم تھے ۔
اتنی تھوڑی کرپشن پہ تو اینٹی کرپشن والوں کو شرمندہ ہونا چاہیے۔؟
عدنان بھٹہ سرکاری پولٹری فارم میں رہتا ھے اور مزے کی بات اسے بھی گھر کہتا ھے ۔
وہاں پہ اتنے سارے مرغے مرغیاں تھے کہ
ہرشاخ پہ  ککڑ بیٹھا تھا
اور شاعر سارے منجی تے
ایسے افسران کے بچے عموما ًماں پہ جاتے ہیں ۔
اس لئے اس کی بیٹی فاطمہ کی ذہانت اور خوبصورتی بھٹے کے بالکل برعکس تھی۔ اس کی پیاری پیاری باتوں کے درمیان ہی ساجد ہدائت اور نعیم گمراہ لاہور سے تشریف لے آئے ۔ساجد ہدایت  بہترین کالم نگار اور اس وقت تک شاندار انسان رہتا  ہے، جب تک فری نہ ہوجائے ۔چنانچہ جیسے ہی حکیم سعید قریشی اور حفیظ اللہ بادل ٹیکسلا کے مضافات سے پہنچے ، ہدایت  سے بھٹک گیا ۔بس ساجد رہ گیا ۔
شاہد ماکلی، فضل گیلانی اور کالے بادل ایک ساتھ امڈے ۔انہیں جرگے کی شکل میں لان میں بٹھایا گیا ،عدنان بھٹہ کے اشارے پہ مقتول مرغوں کے لواحقین نے درختوں اور چھتوں پہ چڑھ چڑھ کر مہمانوں کو گالیاں دیں ۔ ایک مرغے کی اخلاق باختہ گالی پہ عمار یاسر مگسی نے مجھے پہچان لیا ۔کتنی دیر تک خوش ہوتے رہے ۔کہ مرغا ٹھیک کہہ رہا تھا۔
حفیظ اللہ نے مجھے حوصلہ دیا کہ عمار مگسی سال میں ایک آدھ گول سر والےبندے کو پہچان لیتا  ہے ۔ ۔تین چار دن بعد بھول جائے گا ۔
بارش کے ساتھ لوڈشیڈنگ کی تو سمجھ آر ہے تھی مگر یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ عابد سیال کو کئے گئے مذاق کا جواب ارشد شاہین کیوں دے رہا  ہے ۔
کھانے میں ان مبینہ دیسی مرغوں کا روسٹ تھا جن کے لواحقین لاپتہ ہونے کا واویلا کر رہے تھے۔اور اسٹیبلشمنٹ دیسی مرغ کڑاہی کے ساتھ فروٹ ٹرائفل کھارہی تھی ۔
“بارش کے دوران ندیم بھابھ  کی آمد ان کی محبتوں کی آئنہ دار تھی ” فقرے سے اندازہ لگالیں کہ کتنی بے تکلف ملاقات ہو گی ۔اس دوران سنائے جانے والے فحش لطیفوں میں بھابھہ سے عقیدت صاف دکھائی دیتی ۔
منتظمین مشاعرہ میں آصف عدنان بھٹہ ۔بیس مقتول مرغے اور تیس کے قریب ان کی بیوائیں اور یتیم چوزے تھے ۔
سامعین میں ایک خصی کتا ۔ایک بیوہ بلی اور بارش کے بعد سواتین سو مینڈک تھے ۔
دریوں پہ مشاعرے کے آغاز سے پہلے صدر عابد سیال کے نیچے صوفے کی گدی رکھی گئی تاکہ صدارت نرم رہے اور صدر محفل کے علمی اور ادبی قد میں اضافہ ہوسکے ۔
ہر اچھی غزل کے بعد انتظامیہ والے صدارت کی نرمی ، اور ادبی قد چیک کرنے کی بے ادبی کرتے رہے ۔
مقامی شعراء کو داد ساری غیر مقامی تھی ۔ کتا پہلی بار اس وقت بھونکا جب پہلے مہمان شاعر نے اپنا پہلا شعر پڑھا ۔بس پھر سماں بندھ گیا بعد کا عالم یہ تھا کہ جیسے کوئی اچھا شعر آتا، کتا بھونکتا ،واہ واہ کی آوازیں بعد میں آتیں ۔میرے اور سادھو کے پیچھے کالے کچھے میں لیٹا حفیظ اللہ جاگ جاتا ۔گیلانی اندھیرے میں بوتل پکڑاکر کہتا
“لا مرزا ”
ندیم بھابھہ نے آصف بھٹہ کے کان میں کہا
” یار کتے سے بھی ایک آدھ غزل سن لیتے ہیں “بھٹہ شرمندہ نہیں ہوا کہنے لگا
“پیسے بہت مانگتا  ہے ۔اتنا بجٹ ہوتا تو خالد شانی اور شاکربلچ کو میانوالی سے نہ بلوالیتا ”
نیم نشے نما تاریکی میں مجھے لگا جیسے دریوں پہ مینڈک لکن میٹی کھیل رہے تھے ۔
سعید سے پوچھا تو اس نے کسی اور کھیل کا بتایا جسے صرف مفتی کھیل سکتے ہیں ۔
میں نے چیک کرنے کیلئے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کے شعلے سے مینڈک چھوکر دیکھا ۔
موٹا مینڈک اچھلا اور غائب ہوگیا ۔چیخ پتہ نہیں کس نے ماری ۔گالی شائد منصور فیض نے دی ، شاہد ماکلی نے اسے ٹوکا تو آصف بھٹہ نے سب کو شور مچانے سے منع کردیا
“حضرات اندھیرے کی آوازیں دور تک جاتی ہیں “اب پتہ نہیں تنبیہہ کی تھی یا تجربہ شیئر کیا تھا۔ پھر کوئی نہیں بولا ۔
میں نے بس گیلانی کی بوتل پکڑاتے آخری سرگوشی سنی ۔
“مرزا ۔۔۔لافیر ”
مشاعرہ عروج پہ تھا لیکن مرزا وہاں نہیں تھا ۔۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں