جنوبی پنجاب صوبہ……! | Khabrain Group Pakistan

نجیب الدین اویسی
88ء میں ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو گھر بھیجا۔ دوبارہ الیکشن غیر جماعتی کا اعلان کیا۔ 15اگست انڈین یومِ آزادی کے موقع پر صحافی کے سوال پر ضیاء الحق نے کہا میں ایسے دس غیر جماعتی الیکشن کراؤنگا۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا میں جب تک صدر ہوں میں ہمیشہ غیر جماعتی الیکشن کراؤں گا۔ مگر کاتب تقدیر نے کچھ اور ہی لکھا ہوا تھا۔ 17اگست یعنی عین دو دن بعد وہ خود اس دنیا میں نہ رہے۔ بینظیر بھٹو شہید نے سپریم کورٹ میں جماعتی الیکشن کیلئے رٹ کی جو منظور ہوئی، عدالت عظمیٰ نے جماعتی الیکشن کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ ان الیکشن میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشتیں حاصل کیں۔
ادھر مقتدر حلقوں نے پی پی کے خلاف تمام جماعتوں کو اکٹھا کرکے الائنس کی صورت میں متفقہ امیدوار میدان میں لے آئے۔اسکے باوجود قومی اسمبلی میں پی پی کی نشستیں سب سے زیادہ تھیں۔ 97ء کے الیکشن سے قبل قومی و صوبائی الیکشن میں تین دن کا فرق ہوتا تھا۔ 88ء میں ان تین دنوں میں IJI نے خوب پراپیگنڈہ کیا۔ خاص طور پر پنجاب میں جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ۔ یہ نعرہ گلی کوچوں میں،دیواروں پر لکھائی، پمفلٹ کے ذریعے خوب پھیلایا گیا۔ جس کے نتیجے میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں IJIچند سیٹوں کے اضافے کیساتھ پہلے نمبر پر آگئی۔ میاں محمد نواز شریف دوسری بار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے۔ میرے ذاتی خیال میں اس نعرے کے بعد پنجاب کی عوام کے دل میں یہ بات پوری طرح محو ہوگئی۔ انہوں نے اپنے دل و دماغ میں یہ فیصلہ کر لیا میاں محمد نواز شریف ہی پنجاب کا لیڈر ہے چنانچہ آج بھی پنجاب کی اکثریت میاں محمد نواز شریف کو ووٹ کرتی ہے۔
88ء میں پیپلز پارٹی نے سرائیکی علاقے میں سرائیکی صوبے کا نعرہ لگایا۔ 2008ء میں سید یوسف رضا گیلانی بطور وزیر ِ اعظم ہمیشہ سرائیکی صوبے کا نعرہ لگاتے رہے۔ پیپلز پارٹی کے اس نعرے کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ق)، تحریک انصاف و دیگر جماعتوں نے بھی اس صوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ مگر بعض جماعتوں نے سرائیکی کا لفظ استمعال کرنے کی بجائے جنوبی پنجاب کا نام دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو بڑے جہاندیدہ سیاستدان تھے انہوں نے 73ء کے آئین میں نئے صوبوں کیلئے آئین میں ایسی گرہ لگا دی کہ نئے صوبے بننے ناممکن حد تک مشکل ہوگئے۔جس صوبے سے نیا صوبہ تشکیل پانا ہو وہاں کی صوبائی اسمبلی دو تہائی سے نئے صوبے کی منظوری دے، پھر قومی اسمبلی میں دو تہائی سے وہ پاس ہو، اسی طرح سینٹ تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
دراصل بھٹو کو معلوم تھا اگر قومی اسمبلی کی سادہ اکثریت سے صوبے بننے لگے تو جس پارٹی کی مرکز میں حکومت ہوگی وہ آسانی سے نئے صوبوں کا اعلان کر دیگی۔ یوں کراچی علیحدہ صوبہ بن گیا تو سندھی وڈیروں کا مستقبل تاریک ہوجائیگا۔اگر کراچی علیحدہ صوبہ ہو تو غوث علی شاہ، جام صادق، وزیراعلیٰ سندھ ہونگے۔ سونے کی چڑیا کراچی سے تو کوئی صدیقی، قریشی(اردو بولنے والوں میں سے) وزیراعلیٰ ہوگا۔ جب رضا ربانی کی سربراہی میں اٹھارہویں ترمیم کیلئے میٹنگز جاری تھیں میں نے جنوبی پنجاب کے اس وقت کے تمام ایم این ایز کو لیٹرز لکھے۔ آئین میں ترمیم کی جائے، قومی اسمبلی کی سادہ اکثریت نئے صوبوں کے قیام کی منظوری دے سکے۔ جیسا کہ ہندوستان میں لوک سبھا کی سادہ اکثریت نئے صوبوں کی منظوری دے سکتی ہے۔ افسوس! اس وقت کے کسی ایم این اے نے میرے خط کا جواب نہ دیا۔دراصل کوئی بھی سیاسی جماعت نئے صوبوں کے حق میں نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کو خدشہ ہے نئے صوبوں کی اگر مثال قائم ہوئی تو پھر کراچی صوبہ بنانا ناگزیر ہو جائیگا۔مسلم لیگ (ن) پنجاب کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے کوئی بھی جاگیردار اپنی ذاتی جاگیر سے کسی بھی طرح ایک قطعہ زمین سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا۔تحریک انصاف کو یہ ڈر ہے جنوبی پنجاب صوبے کے بننے کے بعد اپر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کو کوئی قوت نہیں روک سکتی۔
اے این پی جو اپنے آپ کو نیشلسٹ جماعت کہتی ہے وہ نئے صوبوں کی حمایت سے اسلیے ہچکچاتی ہے کہ ہزارہ صوبہ نہ بنانا پڑے۔2018ء کے الیکشن سے قبل جنوبی پنجاب صوبی محاذ تشکیل دیا گیا۔میرے نزدیک تو اسکا واحد مقصد ان لوگوں کو بالواسطہ تحریک انصاف میں شمولیت کرنے میں شرمندگی کا احساس تھا۔ کیونکہ وہ سارے مختلف ادوار میں بہت سی پارٹیوں میں رہ چکے تھے۔انتخابات سے چند روز قبل طے شدہ پروگرام کے مطابق جنوبی پنجاب محاذ تحریک انصاف میں ضم کر دیا گیا۔تحریک انصاف نے الیکشن کے دوران جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو خوب اچھالا۔ جس کا انہیں کافی فائدہ ہوا۔ جنوبی پنجاب کی پچاس قومی اسمبلی کی نشتوں میں سے مسلم لیگ(ن) کو صرف گیارہ نشتوں پر کامیابی ملی۔تحریک انصاف حکومت بنانے کے بعد اس پر جنوبی پنجاب صوبے کا پریشر شروع ہوگیا۔تحریک انصاف کو معلوم ہے اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنایا تو اپر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت ہے وہاں مسلم لیگ(ن) اقتدار میں آجائیگی۔تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا اعلان کردیا۔ اس اعلان کیساتھ ایک نئی سیاسی جنگ شروع ہوگئی، سیکرٹریٹ ملتان ہوگا یا بہاولپور؟ اعلان کیا گیا ایڈیشنل چیف سیکرٹری بہاولپور، ایڈیشنل آئی جی ملتان بیٹھا کریگا۔ بالا آخر دونوں جگہ سیکرٹریٹ کا اعلان کر دیا گیا۔
میری میانوالی، بھکر، لیہ کے اپنے دوستوں سے بات ہوئی انہیں بہاولپور میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ پر تحفظات ہیں۔ انکے بقول ہمارے لیے لاہور اور بہاولپور ایک جیسے فاصلے پر ہیں۔حال ہی میں جنوبی پنجاب کے سیکریٹریٹ کو اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس میں بنانے کا اعلان کیا گیا۔ بہاولپور کے ہر مکتب فکر کے افراد نے اس پر احتجاج کیا۔ وہ جماعت جو گورنر ہاؤسز، وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان کر چکی ہے۔ یونیورسٹی کو دفاتر بنانے پر بضدکیوں ہے؟۔ماضی بعید میں مخدوم یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے اسلامیہ یونیورسٹی کے اسی کیمپس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم سرائیکی صوبہ بنائینگے اس کا کیپیٹل بہاولپور ہوگا۔اس وقت تمام سامعین کھڑے ہو کر نعرے بازی شروع کردی ہمیں کیپیٹل نہیں اپنا صوبہ چاہیے۔ ہم سرائیکی صوبے کے مخالف نہیں مگر ہمارا اپنا صوبہ بہاولپوربھی بحال ہونا چاہیے۔ میرے ذاتی خیال میں پاکستان میں بارہ صوبے بنا دیے جائیں تو عوام کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں