کوئی ٹیرررسٹ کہے اور کوئی بنیاد پرست

شفقت حسین
افغانستان میں قیام امن کے لئے بننے والا پاکستان، ایران، ترکی ازبکستان اور تاجکستان پر مشتمل نیا بلاک اپنی ہئیت ترکیبی کے اعتبار سے یقینا اپنا کردار ادا کرے گا اور یہ بھی ایک جوہری حقیقت ہے کہ اس طرح کے بلاک کی ضرورت اور افادیت بھی آج کی نہیں بلکہ برسوں پہلے سے اس حوالے سے توجہ مطلوب اور درکار تھی مگر دیر آید درست آید کے مصداق وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہئ ازبکستان میں ازبک صدر سے ملاقات کے دوران جو فیصلے کئے ہیں وہ اپنی معنویت کے اعتبار سے درست اور بڑے صائب ہیں کیونکہ ہمارے انتہائی قریبی اور ہمسایہ اور مسلمان ملک افغانستان کا امن وسط ایشیائی ریاستوں سمیت خطے کے بہت سے دیگر ممالک کے امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے کیونکہ اگر افغانستان میں صورت حال مثالی اور لائق رشک نہیں ہو گی تو لامحالہ اس سے ملک کی سرحدوں سے قریبی اور ساتھ ساتھ واقع ممالک بھی شدید بلکہ گہرے طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔ یہاں خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ ازبکستان وسط ایشیائی ریاستوں میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے لوگ بھی محنتی، مخلص اور ترقی پسند اور کاروباری ہیں،قدرتی معدنی وسائل بھی روز افزوں ہیں یہی وجہ ہے کہ پاک ازبک راہنماؤں نے ملاقات کے دوران 345 بلین ڈالرز کے معاہدے بھی کئے اور افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے ملکوں کے عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنے کے عزم کا اظہار بھی کیا جس کی تحسین ہی کی جانی چاہئے۔
لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس طرح کے بلاک کی ضرورت جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا آج پیش نہیں آئی بلکہ دنیا کے نقشے پر موجود ستاون اٹھاون مسلم ممالک پرمشتمل اسی طرح کا ایک بلاک کئی عشرے قبل تشکیل دے دینا چاہئے تھا۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کا اتحاد اور مسلم بلاک دنیا کی سپر اور ترقی یافتہ ریاستوں اور ملکوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے کا باعث بھی بنے گا۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم نے اسی طرح کے ایک بلاک کی تشکیل کا خواب دیکھا تھا بلکہ انہوں نے عرب ممالک کو اسرائیل اور مغرب اور یورپ اور امریکہ کے خلاف تیل کے ہتھیار کے استعمال کا مشورہ دیا تو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا ان کے ساتھ ساتھ کچھ اور مسلم شخصیات بھی امریکی دریدہ دہنی کا شکار ہوئی تھیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا تو نہیں ہونا چاہئے تھا کہ آئندہ کے کسی امکانی خوف کے پیش نظر اس طرح کے خواب تک دیکھنا بھی چھوڑ دیں مگر بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، کرنل قذافی کے پائے کی شخصیات ہم میں نہ رہیں۔حسنی مبارک، انوارالسادات اور امام خمینی بھی نہ رہے جو امریکہ کی آنکھ کا شہتیر سمجھے جاتے تھے اور جو ہر اسلام دشمن قوت کو نوکِ نعلین پر رکھا کرتے تھے۔
اگر پاکستان کی بات کریں تو یہاں بھی قائداعظم اور بعد ازاں قائد عوام کے بعد ہمارے ہاں مدبر سیاسی قیادت کا فقدان ہی رہا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک مرحلے پر ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ لکھ کر بااثر ممالک کو ایک پیغام ضروردیا تھا لیکن ان کا انداز حکمرانی چونکہ آمرانہ تھا لہٰذاپاکستان کے عوام کی ان کو تائید اور حمائت دل سے حاصل نہ تھی اس لئے ان کا ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ کا مطالبہ یا مشورہ یا انتباہ کارگرثابت نہ ہو سکا۔ جہاں تک معاصر اسلامی ممالک کا تعلق تھا ان کے سربراہان مملکت میں بھی ہوشمندی، جرأت رندانہ، بیباکی، بے خوفی اور کافرانہ اور مشرکانہ طاقتوں کے سامنے کھڑے ہونے کے عزم کا فقدان تھا یہی وجہ تھی کہ آج چار پانچ درجن مسلم ممالک خلاؤں اور ہواؤں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور انہیں دنیا میں باعزت طریقے سے جینے اور معاملات زندگی کرنے کا راستہ ہی سجھائی نہیں دے رہا۔ جبکہ ہمارا کام تو دنیا کی امامت اور زمانے کو لیڈ کرنا تھا لیکن شومئی قسمت اُلٹا ہم محکوم اور اغیار ہمارے حاکم بن گئے اور اس میں دیگر بہت سی وجوہات کے علاوہ شاید ایک اہم اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم مسلمان ممالک اپنے اپنے ہاں آج تک اپنی سیاسی قیادتوں کا انتخاب بھی باقاعدہ ہوش و حواس سے نہیں کرسکے۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کی زبوں حالی کا آغاز آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری خطبہ حجۃ الوداع کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا جب ختمی مرتبتؐ کے روح فرسا اور المناک وصال کے کچھ ہی عرصہ بعد خلافت، ملوکیت کی طرف ”مراجعت“کر گئی تھی اور امت مسلمہ اللہ تعالیٰ اور آنحضورؐ کے مقرر کردہ پیمانوں سے ہٹ کر اپنی اپنی پسند و ناپسند کے تحت اپنے اپنے حاکم کا انتخاب کرنے لگی۔
کیا کوئی ہمیں بتا سکتا ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھے ہونے کے باوجود امریکہ ہر مسلم ملک پر شب خون مارنا اپنا حق کیوں گردانتا ہے۔ کہاں افغانستان، کہاں عراق کہاں سعودی عرب اور کہاں پاکستان کون سی ایسی جگہ ہے جو امریکی غلبے کے اثر سے محفوظ ہے۔ حیف صد حیف بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آج چوالیس پنتالیس ممالک کی افواج پر مشتمل اسلامی فوج جس کے سربراہ ہماری پاک فوج کے سابق چیف جنرل (ر) راحیل شریف ہیں لیکن کوئی نہیں جو مسلمان دشمن قوتوں کو شٹ اپ کال دے سکے کہ جناب آپ کا ہمارے اندرونی معاملات سے کیا تعلق اور کس برتے میں آپ ہر جگہ منہ مارتے پھرتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ امت مسلمہ میں سے ہر کسی کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح امریکی، برطانوی، مغربی اور یورپی ویزہ لگ جائے۔ بائیکاٹ اغیار کی بنائی ہوئی اشیا کا نہیں بلکہ ان ممالک کے روا رکھے جانے والے رویوں کا ہونا چاہئے لیکن کسی میں ہمت ہی نہیں کہ کسی طاقت کو آنکھیں دکھا سکے اور اس کا بدیہی طور پر نتیجہ یہی ہے کہ ہمیں کبھی ٹیررسٹ کہا جاتا ہے اور کبھی انتہا پسند اور بنیاد پرست لیکن ہم نے جواب الجواب میں کبھی یہ نہیں کہا کہ ہاں ہم شعائر اسلام اور اپنے مذہبی عقائد و نظریات کے اعتبار سے بنیاد پرست ہیں۔ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کے سچے پیروکار ہیں اور رسولؐ کائنات کا اسوہئ حسنہ ہمارا جادہئ منزل ہے۔
قارئین! میں ذیل میں نہائت دکھی دل سے اپنی نعتیہ اور دُعائیہ انداز میں کہی گئی چند لائنیں پیش کرتا ہوں جو کچھ یوں ہیں: ملاحظہ کیجئے۔
تلخیاں ساری زمانے کی بھلا دیتا ہوں
جب بھی لاتا ہوں تصور میں تیرا عکسِ جمال
میں کہ ہر چند فراموش نہیں کر سکتا
ترا فیضانِ نظر اور تیرا لطف کمال
یا رسول اللہؐ کرم کیجیو! بحق زہراؑ
کہ ترے جودو سخا کی کوئی حد ہے نہ مثال
کل تلک غلبہئ اسلام تھا ہر سُو لیکن
امت مسلمہ کیوں آج ہوئی رو بہ زوال
کوئی ٹیررسٹ کہے اور کوئی بنیاد پرست
ہم زمانے میں ہیں بدنام بھی اور خستہ حال
تری عظمت پہ بھروسہ سے جبھی تو خود پر
میں نے طاری ہی نہیں ہونے دیا اضمحلال
ہم گدا گر ہیں ترےؐ در کے ترےؐ در کے فقیر
سن فقیروں کی صدا آج ابھی کل پہ نہ ٹال
(کالم نگار سیاسی‘سماجی اورمعاشرتی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں