تبصرہ کتب

نام کتاب:بانجھ موسموں کا سفر (افسانے)،

مصنف:منظور راہی (لاہور )،سنِ اشاعت:2013ء،

صفحات:144، قیمت: 200روپے ناشر:فکشن ہائوس۔ بک سٹریٹ 39مزنگ روڈ ، لاہور،

تبصرہ نگار:ممتاز راشد ؔلاہوری (مدیر ِاعلی سہ ماہی ’’خیال و فن‘‘(لاہور /دوحہ)

منظور راہی کے افسانوی مجموعے ’’بانجھ موسموں کا سفر ‘‘ میں تئیس افسانے شامل ہیں، ان کا اسلوب ِتحریر جدید ادبی رویوں سے معمور ہے۔ سبھی افسانے تاثراتی نوعیت کے ہیں جن میں کہانی کا عنصر ’’اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے‘‘ کے مصداق نظر آتا ہے۔ منظر نگاری اور جزئیات نگاری پر اُن کی گرفت بڑی مضبوط ہے ۔ اس جزئیات نگاری مین بعض کومل نرم و نازک اور رومان پرور جملے بھی مل جاتے ہیں مثلاًمحبتوں اور عزتوں کی لاج رکھنے والے مخروطی ہاتھ، اماوَس کی رات ، ہیرے جواہرات کے لباس پہنے لوگ، مہین ریشم کے پردوں کے پیچھے کا ایکیوریم ، اپنی کولیگ کی پروموشن کا فنکشن ، آنگن میں چائے اور پکوڑوں سے لطف اندوز ہونا ، شاہ بلوط ،شہتوت ، کیکر اور یوکلپٹس کے درخت، نیک خاتون کی گود سے پھوٹتی روشنی کی کرنیں ، جھرنے کے پانی کوحصار میں لینے والی چمبیلی کی بیل ، املتاس کے پھول ، نئی کونپلیں پھوٹنے کی صدا،کانوں میں ترنم کاا لاپ، نئی گھڑی کا گَجر، ساحل سے ٹکرا کر نئی سیپیوں کو جنم دیتی موجیں ، مستقبل کے سنہرے خواب ، باغ میں کھِلے پھولوں کی پتیوں کالمس، دوستی اور اپنائیت کے جذبہ اور آئوٹنگ پر جانے سے ملنے والی ذہنی یکسوئی اور حاصل یہ کہ ’’سکون اور یکسوئی ہی انسان کی منزل ہے ‘‘۔
مگر منظور راہی کے ہاں زیادہ تر کیبیں اور جملے خاصے تندو تیز اور تلخ و ترش انداز کے ہیں مثلاً چمگادڑوں کی بھر بھڑاہٹ ، کنڈلی مارے سانپ ، بانجھ ذہن کے لوگ، سنڈاس خانے اور بساند پیلیامیں مبتلا چہرے، نتھنوں میں گُھسنے والی بساند، بھدی اور کرخت آوازیں، ذہن کے خلیوں میں کلبلاتے ہوئے بیمار سانپ، فاختہ کے انڈوں کو چاٹتے ہوئے اژد ہے۔ لمحہ لمحہ چہرے بدلتے ہوئے لا تعداد بیکٹیریاز ، ایوانوں کی ممٹیوں میں بیٹھے چغد، جسم پر ماس کے فاسِد ٹکڑے ،لبوں پر آئی چیخ اور کُرلاہٹ ، جسم پر بنی فصلیں ، جو دریحوں کو روکتی ہیں، جسم پراُگے ہوئے ٹکڑوں میں رستی ہوئی پیپ ، لمبے لمبے ڈگ بھرنے سے سوجے ہوئے پائوں ، خارش زدہ کتے، باسیوں میں گُھس کر غلاظت اور خارش بانٹتے کتے ، کتوں کو تنگ کرتی کتا مکھیاں، دماغ میں خارش کا بیکٹیریا ، نتھنوںمیں گھستی خارش زدہ کتوں کی بدبو، دریامیںشیون کرتی کشتیاں ، سانپوں کی پھنکار، کوّوں کا پنڈال ، گھٹا ٹوپ اندھیرے ، برف کی سل بنتے ہوئے باسی ، گدلے پانی پر کائی کی چادر ، امیدو نامید کے پتوار، چلچلاتی دھوپ میں سوکھے اور بے ثمر درخت، ٹڈی دل کا حملہ اور شہر سے بھاگتے لوگ، تنگ و تاریخ گلیاں ، اندھیرے کے اژد ہے ، قبر نما کمرے، پریشان کن سوچیں ، خوفناک دھماکوں اور مشینوں کا بے ہنگم شور، چیخ میں دراڑیں، عورتوں کی سینہ کو بی ،کرچی کرچی ہوتے خواب ، ایمبولینس کی سرخ بتی کا شور، کرم خوردہ باتیں اور کتابیں ، کلاشنکوفوں کے شور سے ختم ہوتے پرندے ، بے ترتیب ہوتی ہوئی سانسیں، ہائیٹ فوبیا ،اتنہائی کوڈ ستی ہوئی سانپ کی پھنکار، سانپ کی لہراتی ہوئی دو شاخہ زبان ، سرخ اور خوفناک نظر آتے منظر وجود کے ٹوٹے ہوئے کھڈرات، اداس پیڑوں کی کنوپلیں ، اکلاپا اور پادونں کی بیساکھیاں اور فون میں سرایت کرتاہواجدائی کا زہر وغیرہ جیسے کئی تحریری ٹکڑے ہیں جو منظور راہی کے سبھی افسانوں کواپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ اس افسانوی مجموعے میں ذکا ء الرحمن کا چا رصفحات ، غلام حسین ساجد کا پانچ صفحات، احمد عقیل روبی کا تین صفحات اور کنول فیروز اور امجد طفیل کے ایک ایک صفحے کے دیباچے شامل ہیں اور سبھی پر مغزہیں ، منظور راہی نے اپنے ایک صفحے کے پیش لفط میں نو دس معاونین کا شکریہ ادا کیا ہے اور اپنے اکلوتے جوان بیٹے محسن منظور کی اچانک حادثاتی موت کا ذکر کر کے فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ اسی بیٹے اور بہو نے یہ کتاب مرتب کی تھی ۔ انتساب بھی محسن ہی کے نا م ہے کتاب کی طباعت اوسط درجے کی ہے مگر مواد اپنے تخلیقی جملوں کے وفور کی وجہ سے اعلیٰ پائے کا ہے ۔ ہماری ادبی تنظیم ’’ادارہ خیال و فن ‘‘نے مارچ 2016ء میں آفتاب جاوید کے توسط سے اس کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کی تھی ۔ ’’آس ادبی فورم ‘‘ لاہور کے تحت اس کتاب کی رونمائی 13مئی 2016ء کو ہوئی۔

نام کتاب: امتزاج (شعری مجموعہ )
شاعر: اعتبار ساجد (لاہور)
سن اشاعت: 2016ء
صفحات : 144
قیمت : 270روپے
ناشر : قلات پبلشرز ۔ رستم جی لین ۔ جناح روڈ ، کوئٹہ
تبصرہ نگار : ممتاز راشدؔ لاہوری (مدیر اعلیٰ سہ ماہی ’’خیال و فن‘‘ (لاہور /دوحہ )

یہ کتاب نامور ادیب و شاعر اور ماہر تعلیم اعتبار ساجد کے فنِ شاعری کا شہکار ہے ۔ یہ ان کا 22واں شعری مجموعہ ہے ویسے انکی کتب 60سے زائد ہیں۔ انتساب انھوں نے اپنے محسن سینٹر زمرد حسین مرحوم اور ان کے بچوں کے نام کیا ہے ۔ 1975ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک بند کواڑوں پر‘‘ بھی قلات پبلشرزکے زیراہتمام جناب زمرد حسین نے شائع کرایا تھا ۔ اعتبار ساجد برسوں بلوچستان میں معلم رہے ہیں ۔پیش لفظ میں انھوں نے وہاں کے کئی احباب کو یاد کیا ہے، ان کی پیدائش ملتان کی ہے۔ کراچی اسلام آباد میں بھی رہے ۔ اب کوئی دس سال سے لاہور میں مقیم ہیں۔ انھوں نے پیش لفظ میں ان شہروں کے احباب کوبھی یادکیا ہے۔ پھر آٹھ صفحات کے مضمون ’’ترا میرؔ اکیلا روتا ہے ‘‘میں انھوں نے تین چار عشروں پہلے کے رسم و رواج اور روایات کو یاد کیا ہے۔ اپنے تاثر کے اعتبار سے یہ بہترین مضمون ہے ۔ شاعری صفحہ 27 سے شروع ہوتی ہے۔ تین نعتوںکے بعد آزاد نعتیہ نظم ’’طائف کا موچی ‘‘ہے ۔ چار صفحات کی اس نظم میں طائف کے ایک موچی کی حضور ؐ سے عقیدت کاپُرتا ثیر اظہار ہے۔ پھر تین سلا م ہیں، عقیدت بھرے سلام غزلیں صفحہ 41سے 116 تک ہیں۔ ہر صفحے پر ایک غزل ہے گویا 76غزلیں۔ کوئی پانچ اشعار کی ، کوئی چھ کی اور کوئی سات اشعار کی ۔غزل تو اعتبار ساجد کا خاص میدان ہے اور یوں یہ غزلیں قارئین کی خوب ’’غزلیاتی سیرابی‘‘کرتی ہیں۔ اس کتاب کے آخری انیتس صفحات پر سولہ نظمیں ہیں۔ کچھ نظمیں شخصیات کے لیے ہیں۔مثلاً ہمشیرہ مرحومہ کے لیے، سینٹر ز مرد حسین کی یاد میں ، مصور وخطا ط اسلم کمال کی نذر ۔۔۔ایک نظم ’’نذر ِوطن‘‘بھی ہے ۔ باقی نظمیں متفرق موضوعات پر ہیں، جن میں روحانی پہلو بھی ہیں مثلاً ’’چاندنی دسمبر کی ‘‘ اور ’’یادیں‘‘باقی رہ جاتی ہیں‘‘۔ نظموں میں بھی اعتبار ساجد کے جو ہر خوب کھلتے ہیں۔ غزل ہو کہ نظم ،اعتبار ساجد کے ہاں بنیادی اہمیت شعریت کی ہے اور یہی اس کتاب کا جو ہرِ حقیقی ہے ۔ میں 37برس قطر میں گذار کر ریٹائر ہو کر اپریل2014ء میں مستقلاً لاہور واپس آگیا تھا۔ تب سے ان دو برسوں میں ان سے بہت سی ملاقاتیں رہی ہیں۔ انھوں نے میرے چھ شعری مجموعوں کا انتخاب بھی کیا اور میری غزلوں، نظموں اور قطعات پر الگ الگ مضمون بھی لکھے ۔ یہ سب ایک ضخیم اور خوبصورت کتاب ’’آپ تنہائی میں کبھی ملیے‘‘ کی صورت میں ماوراء بکس لاہور نے 2015ء میں شائع کیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’امتزاج ‘‘ انھوں نے مجھے سترہ اپریل2016ء کو عنایت کی۔ اس کا مطالعہ بہت خوش کن رہا۔ ایک ایک شعر کا لطف لیا ۔ ذیل میں کچھ منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:

[one_half]آخری بوسہ دیا طفل کی پیشانی پر

اور پھر رات گئے باپ نے گھر چھوڑ دیا

ان مباحث سے کیا نکالو گے

تم یہاں والے ، ہم وہاں والے
اسی پہ نان و نمک کا مدار تھوڑی ہے

یہ شاعری ہے کوئی کاروبار تھوڑی ہے
خریدتے ہیں محبت سے جو کتاب مِری

تو اُن میں کوئی مِرا رشتہ دار تھوڑی ہے
[/one_half]

[one_half_last]نمودوو نام کی خواہش کو اپنی جیب میں رکھ

غزل، غزل ہے ، کوئی اشتہار تھوڑ ی ہے
بعض اوقات بڑے لطف و کرم کا انداز

مجھ کو اوقات کے اندر نہیں رہنے دیتا
کچھ تو ہو جاتی ہے مجھ سے بھی کہیں لغرش پا

اور کچھ وہ بھی سنبھل کر نہیں رہنے دیتا [/one_half_last]

صفحہ74کی سا ت اشعار کی تو پوری غزل ہی لاجواب ہے ، یہاں اس کے یہ دو اَشعار دیکھیں:۔

یہ خوف ہے ، کہیں مشہور ہی نہ ہو جائوں

سناہے شہرت ِفن تہمتوں سے بنتی ہے

درخت مَیںہوں ، مِرے دوست میرے بازو ہیں

مِری شناخت اِنہی ٹہنیوں سے بنتی ہے 

اور آخر میں ان کی طویل بحر کی غزلوں سے یہ دو خوبصورت اشعار ملاحظہ ہوں :۔

عمر کی پونجی دے کر ہم نے حرف کی قدرت حاصل کی

اور منافع کیا ملنا تھا، اور زیاں کیاکرنا ہے

یہ کہا تھا کِس نے فقیر بن ، کبھی دردؔ بن ، کبھی میرؔ بن

یہ بناوٹیں تجھے پی گئیں ، یہ نمائشیں تجھے کھا گئیں

جواب چھوڑیں