غمِ حیات ملا فکر و آگہی بن کر جو اپنی ش…

غمِ حیات ملا فکر و آگہی بن کر
جو اپنی شے تھی ملی مجھ کو زندگی بن کر

خود اپنی ذات میں ہے زخمِ زندگی بن کر
اب آدمی بھی ہراساں ہے آدمی بن کر

اس ایک شخص کو چاہا تھا ٹوٹ کر میں نے
جو میرے پاس سے گزرا ہے اجنبی بن کر

اس آرزو کی امانت سنبھال کر رکھو
وہ آرزو جو رہے دل میں تشنگی بن کر

جہاں جہاں بھی تری یاد ساتھ ساتھ گئی
قدم قدم پہ ملی دھوپ چاندنی بن کر

(شبنم نقوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

جواب چھوڑیں