زوالِ مغرب؟۔۔اسلم اعوان – مکالمہمکالمہ


کابل پہ طالبان کا کنٹرول مکمل ہوتے ہی امریکی سرپرستی کی حامل افغان حکومت کا تیزی سے خاتمہ خطے میں بڑی جیوسٹریٹیجک تشکیلِ نو کا محرک بن گیا۔ جوں جوں امارتِ اسلامیہ افغانستان میں دوبارہ مستحکم ہوتی جائے گی‘ توں توں مغربی دنیا پہ بے یقینی کے سائے گہرے ہوتے جائیں گے۔ ناقص سٹریٹیجک سوچ، کمزور پالیسی اور ٹرمپ کی ”امریکا فرسٹ‘‘ خارجہ پالیسی کی وراثت میں افغانوں کیلئے پیش کردہ بہتر مستقبل کے وعدوں اور گزشتہ 20 سالوں میں ان کی امیدوں کیلئے اکٹھی ہوتی مغربی اشرافیہ کا بیانیہ اس شکست میں بہہ گیا ہے‘ مہذب دنیا جسے تسلیم کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ اگرچہ پچھلے بیس سالوں کے دوران امریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں‘ بین الاقوامی ادارے‘ اقوام متحدہ سے لے کر نیٹو تک‘ سب نے افغانستان کا رخ موڑنے کیلئے لامحدود خزانہ لٹایا لیکن افغانستان کی فلاح کے سب وعدے جھوٹے اور گمراہ کن نکلے۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں تو اس رویے کی بدولت صرف امریکی ساکھ برباد ہوئی تھی لیکن اس ناکامی کی بدولت مغربی حکمرانی کے ماڈل کا پورا وجود اور یورپی تہذیب کا پانچ سو سالہ شکوہ خاک میں مل گیا۔ بلاشبہ سقوطِ کابل سے پہنچنے والا نقصان سائیگون کے زوال سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ اگرچہ اس بار امید تھی کہ اس جنگ کا مستقبل مختلف ہو گا، مردوں اور عورتوں کی نئی نسل مغربی تعلیم سے بہرور ہو چکی تھی، انہیں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار سے بھی متعارف کرا دیا گیا تھا، وہ پُرامن اور منظم مستقبل سے ہم آغوش ہونے کو تیار تھے، مگر انہیں اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ یہ نسل ابھی تک کابل کی بدعنوان باڈی پالیٹکس سے اپنے ملک پر حکمرانی کی پوزیشن سنبھالنے کیلئے بالغ نہیں ہوئی تھی۔ خطرات میں گھرا ان کا روشن مستقبل اپنی بقا کی خاطر اب دیارِ مغرب کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کچھ خاص وجوہات کی بنا پر افغانستان میں تیزی سے ابھرتی ہوئی صورتحال نے امریکا اور یورپ‘ دونوں میں بہت سے تجزیہ کاروں اور امورِ خارجہ کے ذمہ داران کو حیران کر دیا ہے۔
بین الاقوامی مورخین ایسے وقت میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں جب وہ اپنے سماجی سائنسدانوں کے طویل مدتی نقطہ ہائے نظر پیش کر سکتے تھے کہ کس طرح جدید دنیا نے ترقی کی نہ کہ کس طرح کی ہماری خواہش ہے، مگر افسوس کہ ماضی سے سبق سیکھا گیا نہ اسے اجاگر کیا گیا بلکہ طاقت کے نشے میں اپنے منصوبوں پہ خواہشات سے مملو سوچ کو غالب رکھا۔ دوحہ کی ڈبل سپیک ڈپلومیسی کے ذریعے سفارتکاروں کو یہ باور کرایا گیا کہ طالبان اب بدل چکے ہیں مگر افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس سے سارے مفروضے غلط ثابت ہوئے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے، کابل ڈوب گیا اور مغرب کے ہمنوا جلاوطنی کا راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان کے پڑوسیوں سے انسانی المیے کو روکنے کی خاطر سرحدیں کھولنے کی اپیل کی ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایران اور ترکمانستان طویل عرصے تک کثیر تعداد کیلئے پناہ گزین کیمپ بنانے کیلئے تیار ہو جائیں‘ تب بھی مغربی مدد کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہو گا۔ تاحال ایسی کسی امداد کا اہتمام ہوگا نہ مغربی ممالک کیلئے ایسا کرنا ممکن نظر آتا ہے۔ وہ تو کابل میں پھنسے پناہ گزینوں کو بچانے کیلئے بھی مناسب اہتمام نہیں کر پا رہے۔
یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جو افغان مغربی وعدوں پر یقین اور ان کے حصول کیلئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے‘ وہ اب دھوکا اور ترکِ وفا کے احساس میں گھِر گئے ہیں۔ یورپی یونین ان کے تحفظ کی خاطر کوئی قدم نہیں اٹھا سکی اور کسی صورت میں یہ توقع بھی نہیں کہ وہ تہران کے ساتھ تعاون کرے گی۔ امریکا اب بھی ایران پہ پابندیاں لگانے میں مشغول ہے۔ یہاں اس المیے کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔ ہجرت کی ایک نئی لہر جلد ابھرسکتی ہے۔ افغان مہاجرین کے پاس واحد آپشن صرف یورپ ہے۔ جلد ہی شام کی طرح‘ افغان مہاجرین بھی یورپ کا مسئلہ بن جائیں گے۔ یورپ اس صورتحال کے لیے قطعاً تیار نہیں ہے۔ شام کی آبادی خانہ جنگی سے پہلے 21 ملین تھی۔ افغانستان کی آبادی تقریباً 38 ملین ہے۔ اگر کوئی فوری کارروائی نہ کی گئی تو ایک بار پھر 2015ء جیسی بے مثال ہجرت جیسا بحران کھڑا ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کی کتنی حکومتیں نئے مہاجرین کی آمد سے بچنے کے قابل ہوں گی؟ کیا یورپی ممالک کے پاس نئی لہر کو ایڈجسٹ کرنے کے کافی معاشی وسائل موجود ہیں؟ یورپی یونین تو ابھی اپنی نئی خارجہ پالیسی کی توضیح سے بھی قاصر ہے۔ وہ غیر مستحکم دنیا میں اپنی سرحدوں کا دفاع تک نہیں کر سکتی کہ فطری طور پر وہ نہایت کمزور ہے۔ جرمنی‘ جو یونین کی سب سے مضبوط طاقت تھا‘ اب بھی اپنے ماضی سے اس قدر پریشان ہے کہ وہ اپنے مفروضوں اور یورپی یونین کے خطرات کی حقیقت پسندانہ تشخیص پر مبنی خارجہ پالیسی نہیں بنا سکا۔ ان حقائق کی وجہ سے یورپی یونین اب افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات کو حیرانی اور غیر یقینی سے دیکھ رہی ہے۔
5 اگست کو یورپی یونین کے چھ ممالک‘ آسٹریا، بلجیم، ڈنمارک، جرمنی، یونان اور نیدرلینڈز نے یورپی یونین کی ایگزیکٹو برانچ پر زور دیاکہ وہ افغان حکومت کے ساتھ بات چیت تیز کرے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ مہاجرین کی ملک بدری رک سکے۔ پچھلے کچھ دنوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی پسپا ہو چکے، ان کی شکست سے فائدہ اٹھانے والا چین پہلا ملک ہوگا، روس کیلئے بھی کچھ مفادات موجود ہیں؛ تاہم مغرب کی وراثت افغانستان، عراق اور لیبیا میں گھٹیا مداخلتوں کے سوا کچھ نہ ہوگی۔ واضح مقاصد کا حصول اور جلد باہر نکلنے کی حکمت عملی ہمیشہ کسی بھی مداخلت کی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ اس کیلئے ایک واضح تفہیم کی ضرورت تھی۔ ایک بار جب جنگی مداخلت کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو وہاں رہنے کا وقت، اپنی طاقت کا درست تخمینہ، قابلِ حصول اہداف اور ”دلوں اور دماغوں‘‘ کی تسخیر کی پالیسی بھی ہونی چاہیے لیکن مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں داخل ہونے کا طریقہ صحیح نہیں تھا۔ محسوس ہوتا ہے کہ آج کی امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس سچائی یا حقیقت کے سوا کوئی ہنر نہیں۔ سینیٹ کے اقلیتی رہنما مچ میک کونل نے افغانستان میں صدر بائیڈن کی حکمت عملی کو ‘لاپروائی‘ قرار دیا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے انہیں طالبان کے ناقابلِ قبول غلبے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود بائیڈن کی افغانستان میں حکمت عملی بہرحال ان کے اس نعرے کیلئے ناقص اشتہار کے سوا کچھ نہیں کہ ”امریکا واپس آ گیا‘‘۔ ایسا لگتا ہے کہ مغرب کیلئے تیزی سے اپنے قوت کو اکٹھا کرنے کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ افغانستان‘ مغرب دشمن عناصر کی پناہ گاہ کے طور پر ڈراؤنا خواب واپس آ رہا ہے۔ افغان طالبان کی فتح مغربی تہذیب کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ ہم اس بات سے انکار نہیں کریں گے کہ مغربی تہذیب نے سائنسی اور سماجی علوم جیسے شعبوں میں بھرپور وراثت چھوڑی ہے، ایسی دولت لوگوں کو دیر تک فائدہ پہنچاتی رہے گی لیکن اسی کی آڑ میں مغرب پوری دنیا کی دولت اور مارکیٹوں کو بھی بے دریغ لوٹتا رہا۔ مغرب کے اسی طرزِ عمل کی بدولت دنیا بھر میں نہ ختم ہونے والی جنگیں شروع ہوئیں اور سیاسی، معاشی اور جغرافیائی طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھاری بوجھ پڑتا رہا۔ خاص طور پر مغرب کی جانب سے اپنے سیاسی معیارات کے زبردستی نفاذ کی پالیسی ترقی پذیر ممالک کو ترقی کے اُس مستحکم راستے کو تلاش کرنے کی اجازت نہ دے سکی جو ان کی اپنی ثقافتی اور تاریخی روایات کے مطابق ہوتا۔
مغربی دانشوروں کے نزدیک افغان تنازع کا حتمی نتیجہ یہی ہے کہ امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد ہار اور پاکستان جیت گیا ہے؛ تاہم یقینا کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوئی، حالات کا دھارا بدل بھی سکتا ہے۔ اگرچہ امکانات کافی کم ہیں۔ وسیع پیمانے کے نقصانات کے باعث سیاسی تھکن کے جو آثار ہویدا ہوئے انہوں نے اہم مغربی کھلاڑیوں کو اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔ وہ اب اس نئی حقیقت پر غور ضرور کریں گے کہ افغان جنگ سے انہیں معاشی مفادات بہت کم ملے لیکن اسی جنگ کے کارن چین اور امریکا کے درمیان وسیع تر سٹریٹیجک مقابلہ تیزی سے عالمی بساط پہ حاوی ہوگیا۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں