تیری طلب میں ایسے گرفتار ہو گئے ہم لوگ خود بھ…

تیری طلب میں ایسے گرفتار ہو گئے
ہم لوگ خود بھی رونقِ بازار ہو گئے

کیا خواب تھا کہ کچھ نہیں ٹھہرا نگاہ میں
کیا عکس تھا کہ نقش بہ دیوار ہو گئے

حدِّ نظر بچھا تھا تری دید کا سماں
جو راستے تھے سہل وہ دشوار ہو گئے

ان کو بھی اپنے نام کی حرمت عزیز تھی
جو تیرا ساتھ دینے پہ تیار ہو گئے

More

جواب چھوڑیں