موسمی آفتیں : ہم چیزیں کیسے بناتے ہیں؟ (پانچواں باب) – بل گیٹس

اکاون ارب ٹن سالانہ کا 31 فیصد

یہ جگہ مدینہ واشنگٹن سے آٹھ میل ڈرائیو پرہے، جہاں میں اور ملینڈا رہتے ہیں(طلاق سے پہلے) یہ سیاٹل میں ہماری فاؤندیشن کا ہیڈ کوارٹرزہے۔ دفتر جانے کے لیے، مجھے دریائے واشنگٹن سے گزرنا پڑتا ہے، اسے Evergreen Point Floating Bridge کہا جاتا ہے، گوکہ یہاں رہنے والا کوئی بھی اسے اس نام سے نہیں پکارتا، ان لوگوں کے لیے یہ 520پُل ہے، اُس ریاستی شاہراہ کا نام جویہاں سے گزرتی ہے۔ یہ 7,700 فیٹ لمبا دنیا کا طویل ترین تیرتا ہوا پُل ہے۔

میں جب بھی اس پُل سے گزرتا ہوں، ایک لمحے کے لیے اس معجزہ پر داد دیے بغیر نہیں رہتا۔ اس لیے نہیں کہ یہ دنیا کاسب سے طویل پُل ہے بلکہ اس لیے کہ یہ تیرتا ہوا پُل ہے۔ کس قدر عظیم الشان ڈھانچہ ہے، جسے ٹنوں تارکول، کونکریٹ، اور فولادسے بنایا گیا، اور پھر ہر وقت سیکڑوں گاڑیاں اس پر سفر کررہی ہوتی ہیں، اس سارے وزن کے ساتھ یہ پُل تیررہاہے۔ یہ ڈوبتا کیوں نہیں؟ اس کا جواب انجینئرنگ کا معجزہ ہے، جوحیرت انگیز مادہ کونکریٹ کی مددسے یہ صورت اختیار کرسکا ہے۔ ایک نظر میں یہ بہت عجیب معلوم ہوتا ہے، فطری طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کس طرح کونکریٹ کا یہ بھاری ڈھانچہ تیر بھی سکتا ہے؟

اگرچہ یہ سچ ہے کہ کونکریٹ کواس طرز پرکام میں لایا جاسکتا ہے کہ وہ تیر سکے، اس قدر ٹھوس کے ہسپتال کی دیواروں میں نیوکلئیر لہریں جذب کرسکے، اسے کھوکھلے سانچے بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے 77ہوا اور پانی سے بھرے چپٹے پیندے pontoons، جواس پُل کوسہارا دیے رکھتے ہیں۔ یہ ہر ایک ہزاروں ٹن وزنی ہے، اور اس قدر تیرنے کے قابل ہے کہ دریا کی سطح پرٹھیرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی اس قدر پختہ ہے کہ پُل اور دوڑتی گاڑیوں کی آمدورفت بھی سہار سکے۔

تم اگر اپنے ارد گرد کا جائزہ لو، کونکریٹ کے کارنامے ہر طرف نظرآئیں گے۔ یہ ہرطرح کی خرابی اور بوسیدگی سے محفوظ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید طرز کی عمارتوں کی تعمیرمیں کثرت سے استعمال کی جاتی ہے۔ اگر تم ہائیڈرو پاور کی اہمیت کے قائل ہوتوڈیموں کی تعمیر میں کونکریٹ کی ضرورت کواچھی نظر سے دیکھوگے۔ اگلی بار جب تم مجسمہ آزادی دیکھنے جاؤ تواُس کے پائے ستون کا جائزہ لینا، جس کی تیاری میں ستائیس ہزار ٹن کونکریٹ استعمال کیا گیا ہے۔

امریکا کے عظیم مؤجد تھامس ایڈیسن کو بھی کونکریٹ میں بڑی دلچسپی تھی۔ اُس نے پورے پورے مکان کی تعمیر میں کونکریٹ استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اُس نے کونکریٹ سے فرنیچر تک بنانے کا خواب دیکھا، جیسے خواب گاہ وغیرہ کا فرنیچر، یہاں تک کہ کونکریٹ کا ریکارڈ پلئیر تک ڈیزائن کرڈالا۔ گوکہ ایڈیسن کے یہ خیالات ٹھوس شکل اختیار نہیں کرسکے۔ مگرہم پھر بھی کونکریٹ کا بہت زیادہ استعمال کررہے ہیں۔ ہرسال سڑکوں کی تعمیر، تعمیر نو، عمارتوں اورپُلوں کی تیاری کے لیے، تنہا امریکا نوکروڑ ساٹھ لاکھ ٹن سیمنٹ بناتا ہے، جوکونکریٹ کا سب سے اہم جُز ہے۔ یہ فی فرد تقریبا چھ سو پاؤنڈز بنتا ہے۔ اور جب کہ ہم اس کے سب سے بڑے صارف بھی نہیں۔ سب سے بڑا صارف چین ہے، جس نے اکیسویں صدی کے ابتدائی سولہ سال اتنا کونکریٹ استعمال کیا ہے کہ جتنا امریکا نے پوری بیسویں صدی میں نہیں کیا۔

ظاہر ہے، سیمنٹ اور کونکریٹ وہ واحد مواد نہیں کہ جن پرہماری تعمیرانحصار کرتی ہو۔ فولاد بھی ہے، جوہم گاڑیوں، جہازوں، ریلوں، ریفری جریٹروں، اسٹووز، فیکٹری مشینوں، خوراک کے ڈبوں، اور کمپیوٹرز وغیرہ کی تیار ی میں استعمال کرتے ہیں۔ فولاد بہت مضبوط، سستا، اور پائیدار ہوتا ہے۔ یہ لا محدود طورپراز سرنواستعمال کے قابل بھی ہوتا ہے۔ یہ کونکریٹ کے ساتھ مل کر بھی بہترین کردار ادا کرتا ہے۔کونکریٹ میں جب فولاد کی سلاخیں شامل ہوتی ہیں، ایک جادوئی تعمیری مواد حاصل ہوتا ہے، جوٹنوں وزن سہار سکتا ہے، اور ہلانے جلانے سے ٹوٹتا بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زیادہ تر اپنی عمارتوں کی تعمیر میں کونکریٹ کا طاقت ورآمیزہ استعمال کرتے ہیں۔ امریکی جتنا سیمنٹ استعمال کرتے ہیں اتنا ہی فولاد بھی کام میں لاتے ہیں۔ یوں یہ بھی سالانہ فی فرد چھ سو پاؤنڈز فولاد بنتا ہے۔ اس میں وہ فولاد شامل نہیں جوبار بار استعمال کیا جاتا ہے۔

پلاسٹک بھی ایک حیرت انگیز مادہ ہے۔ بہت ساری اشیاء کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کپڑوں سے کھلونوں، فرنیچر، گاڑیوں، سیل فون وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پلاسٹک سے تیار کی جانے والی اشیاء کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم پلاسٹک کے بارے میں اچھا تاثر نہیں ہے، یہ تاثر کچھ اتنا غلط بھی نہیں ہے۔ مگریہ بہت کچھ اچھا کام بھی کررہی ہے۔ جیسا کہ میں اس وقت اپنی میز پرجب نظر دوڑاتا ہوں، بہت ساری چیزیں پلاسٹک سے بنی نظر آتی ہیں: میرا کمپیوٹر، کی بورڈ، مانیٹر، ماؤس، اسٹیپلر، فون، وغیرہ وغیرہ۔ پلاسٹک جدید طرز کی گاڑیوں کی کارکردگی میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے، اس طرح گاڑی کا اپنا وزن صرف دس فیصد رہ جاتا ہے۔

یہاں شیشہ بھی ہے، ہماری کھڑکیوں میں، جگ اوربوتل میں، گاڑیوں میں بھی ہے۔ فائبر آپٹک تار بھی ہیں، جو تیز ترین انٹرنیٹ رابطے ممکن بناتے ہیں۔ ایلومینیم سے بجلی کی لائنیں، دروازوں کی کنڈیاں، ریلیں، جہاز وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ کھاد دنیا کی بیشتر خوراک کا انتظام کرتی ہے۔ سالوں پہلے میرا خیال تھا کہ کاغذ کا کرداراب شاید ختم ہوجائے، مگرلگتا ہے یہ بھی ابھی کام میں لایا جاتا رہے گا۔

مختصرا یہ کہ ہم جوکچھ بھی تیار کرتے ہیں، بناتے ہیں، صنعت سازی کرتے ہیں، وہ سب بجلی کی مانند جدید زندگی کا لازمہ بن چکے ہیں۔ ہم یہ سب چیزیں چھوڑ نہیں سکتے۔ بلکہ جوں جوں آبادی بڑھے گی، ان اشیاء کا استعمال بڑھتا چلا جائے گا۔ گوکہ یہ کہانی ساری دنیا میں دوہرائی جائے گی، مگر سب سے ڈرامائی مقام شنگھائی ہے۔ اس ضمن میں اس کا ذکر بار بار آئے گا۔لوگ زیادہ سے زیادہ کمارہے ہیں۔ طرز زندگی میں زیادہ سے زیادہ بہتر ی لا رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پرتعیش ہوتے جارہے ہیں۔ اچھی سے اچھی تعلیم اور صحت ہے، اورجوانی میں مرنے کے امکانات کم سے کم ہورہے ہیں۔ .اگر کسی کوغربت مٹانے میں کوئی دلچسپی ہے تواسے ایک اچھی خبر سمجھنا چاہیے۔ مگراس ساری چمک دمک تلے تاریک سائے منڈلارہے ہیں۔ یہ ساری انسانی صناعی گرین ہاؤس گیسیں خارج کررہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ، یہ سب ساری دنیا کا ایک تہائی کاربن خارج کررہے ہیں۔ کوئی ایسا عملی طریقہ موجود نہیں، جو اس ساری صنعت سازی میں کاربن خارج کیے بغیرکارآمدثابت ہوسکے۔ ترجمہ: ناصر فاروق

(جاری ہے)

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 2 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں