ہاتھی حمدی کیسے گرفتار ہوا؟افسانہ نگار-عزیز نشیں (ترکی)/مترجم-انیس گوپانگ

استنبول پولیس ہیڈکوارٹر سے تمام صوبائی تھانوں کو یہ پیغام موصول ہوا کہ:
“عمر پینتیس سال،وزن دو سو کلوگرام،سنہری بال،تین دانت ٹوٹے ہوئے،عقل داڑھ مصنوعی طریقے سے بھری ہوئی،ناسی پٹیوں والا سوٹ پہنے ہوئے،تقریبا گنجہ ہونے والا،بھوری آنکھیں مذکورہ بالا شخص اور سابقہ سزایافتہ دوکھے باز “ہاتھی حمدی” نامی شخص ہمارے دو سپاہیوں کی نیند جو کہ “ہاتھی حمدی” پر تین دن اور تین راتیں چوکی دینے کی وجہ سے انہیں آئی تھی،کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگیا ہے۔

ہماری جاچ پڑتال کے بعد یہ  یقین ہوگیا ہے کہ”ہاتھی حمدی” بھاگ چکا ہے۔اگر وہ آپکے علاقے میں آئے یا آپکے کسی بھی پولیس تھانے میں آئے یا پھر آپکے کسی بھی پولیس والے سے کوئی پتہ یا راستہ پوچھتے پایا جائے تو اسے برائے مہربانی کہیں کہ ہم آپکے شدید منتظر ہیں اور یہ کہ ہم سے زیادہ انتظار نہیں کروائے اور کوئی بھی موزوں وقت جو اسے صحیح لگے،ٹائم نکال کر استنبول پولیس ہیڈکوارٹر میں پیش ہوجائے۔خطرناک ملزم”ہاتھی حمدی”کی شناخت کے لیے اسکی تصویر بھیجی جاتی ہے”۔
بہت دور دراز کے کسی دیہاتی علاقے کے کسی تھانے کے دو سپاہی محو گفتگو تھے۔
“رمضان،میرے بچے وہ شخص جو ابھی کچھ دیر پہلے شربت پی رہا تھا، یقیناً ً ہاتھی حمدی”ہی ہوگا”
“ہاں،بالکل ہوسکتا ہے،ذرا اسکی تصویر نکالو۔پہلے نے تصویر نکال کر اپنے ساتھی کو دکھائی۔”ارے یہ نہیں،یہ تو تمہاری اپنی تصویر ہے”.
“ہاں”یہ تو میری تصویر ہے،یہ میں نے چھٹی کے دن کھنچوائی تھی۔بتاؤ  میں کیسا لگ رہا ہوں”؟؟
“بس ٹھیک ہی ہو مگر افسوس کہ  تم تصویر میں مسکرانا بھول گئے۔اب “ہاتھی حمدی” کی تصویر نکالو۔سپاہی نے جیب سے بہت ساری تصاویر نکالیں اور “ہاتھی حمدی”کی تصویر تلاش کرنے لگے۔”یہ تصویر میرے بیٹے کی ہے اور تب کی ہے جب میں ملٹری سروس میں تھا”
محمود یہ کون ہے؟؟رمضان نے ایک تصویر کو دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
کون؟؟یہ، کیا نام ہے اسکا،ہاں یہ دود علی ہے،ہیروئن کا اسمگلر۔ساری تصاویر آپس میں گڈمڈ ہو گئی ہیں،تم جلدی سے “ہاتھی حمدی” کی تصویر نکالو۔محمود اور رمضان “ہاتھی حمدی”کی تصویر تلاش کرنے لگے۔جلدی سے ڈھونڈو وہ شربت پی چکا ہوگا اور پھر سے فرار ناہو جائے!!یہ مل گئی،یہی ہوگی شاید، ہاں یہی ہے۔دونوں سپاہی اس قریب کھڑے شخص کے نزدیک گئے۔

tripako tours pakistan

“بھاگنے کی کوشش مت کرنا, وہیں رک جاؤ۔سپاہیوں نے بغور تصویر کا جائزہ لیا پھر اس شخص کو غور سے دیکھنے لگے۔”اب الٹے گھوم جاؤ”سپاہی پیٹھ کی طرف سے اسے پھر دیکھنے لگے۔”رمضان یہ تو تصویر والا شخص نہیں لگ رہا”محمود نے کہا۔تم چھوڑو اس بات کو کہ یہ تصویر والا شخص ہے کہ نہیں،رمضان نے کہا۔یہ سپرنٹینڈنٹ صاحب پر ہی چھوڑ دو کہ وہ خود ہی طئے کرے کہ یہ”ہاتھی حمدی” ہے کہ نہیں۔ہوسکتا ہے کے انہیں کوئی یکسانیت نظر آجائے۔
کہیں اور کسی دور دراز کے علاقے کی کسی بازار کی نکڑ پر دو سپاہی آپس میں باتیں کررہے تھے۔”کتنی افسوس اور شرمندگی کی بات ہے کہ ہم سارا دن گھوم پھر رہے ہیں مگر”ہاتھی حمدی” کو ابھی تک گرفتار نہیں کرسکے”.
“کہیں یہ سامنے بیٹھا شخص”ہاتھی حمدی”تو نہیں؟؟
“ہو بھی سکتا ہے”چلو اسی سے ہی معلوم کرتے ہیں۔دونوں اس شخص کے نزدیک گئے۔
“جناب آپکا نام کیا ہے”ایک سپاہی نے پوچھا
“مصطفیٰ”

ایک سپاہی نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا یہ تو اپنا نام مصطفیٰ بتا رہا ہے۔تو کیا یہ اپنا نام”حمدی” بتائے گا۔یہ تو اپنا نام چھپا رہا ہے۔دوسرے نے کہا۔اسے لگتا ہے کہ ہمیں بیوقوف بنائے گا اور ہم بن جائیں گے۔
“جناب ہمارے ساتھ چلو،آپکو گرفتار کیا جاتا ہے”
کسی دیہاتی علاقے کے کسی کافی شاپ میں دو سپاہی آپس میں باتیں کررہے تھے۔
ایک نے دوسرے کو بتایا کہ “کل میں نے تین”ہاتھی حمدی” گرفتار کیے تھے،مگر سپرنٹینڈنٹ صاحب کو ان میں سے کوئی بھی پسند نہیں آیا”. دوسرے نے ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ”بالکل،ہمارے سپرنٹینڈنٹ صاحب کو کسی بھی بات پر آمادہ کرنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔
“ہششش ششش”آہستہ بولو،اور سامنے اس بندے کو دیکھو جو چائے پی رہا ہے۔
“ارے ہاں بھائی۔۔۔یہ تو وہی لگ رہا ہے”.

مگر تار میں تو لکھا ہے کہ ہاتھی حمدی موٹا ہے،لیکن یہ چائے پیتا شخص تو کافی دبلا پتلا ہے،جیسے ہڈیوں کا ڈھانچہ”اسکا وزن کم بھی تو ہوسکتا ہے،مسلسل بھاگتے رہنا کوئی آسان کام نہیں”سچ کہہ رہے ہو،مگر ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہاتھی حمدی سفید فام ہے لیکن یہ تو گندمی رنگت کا ہے”ایک سپاہی نے تردید کی۔ “پہاڑوں پر پیدل بھاگتے رہنا کسی کی بھی رنگت کو خراب کر سکتا ہے”دوسرے نے وضاحت کی۔پہلے سپاہی نے پھر پوچھا کہ”ذرا اس شخص کے بال تو دیکھو،کتنے سیاہ اور گھنے ہیں جبکہ”ہاتھی حمدی” کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ گنجہ ہونے والا ہے۔دوسرے سپاہی نے کہا،”اتنا فرق ہو ہی جاتا ہے،یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہاتھی حمدی نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے وگ کا استعمال کیا ہو۔
تو ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں،چلو اسے گرفتار کر لیں اگر دیر ہوئی تو یہ ایک بار پھر فرار ہوجائے گا۔وہ اس شخص کے نزدیک گئے۔”آپکا نام کیا ہے”؟؟
“حمدی”اس نے جواب دیا۔
دونوں سپاہی ایک دوسرے کو معنی  خیز نگاہوں سے دیکھنے لگے اور مسکراتے ہوئے کہا کہ
“یکدم تھانے چلو،اٹھو جلدی کرو۔وہ شخص گھبراہٹ کا شکار ہو گیا اور کہنے لگا کہ “کیوں جناب،کیا ہوا،مجھے کیوں گرفتار کیا جاتا ہے”؟؟
سپاہی نے گرجتے ہوئے کہا کہ”سوال مت کرو،کیا ہوا،وہ تمہیں تھانے چل کر بتائیں گے۔
ایک اور علاقہ تھا جو بہت دور تھا۔وہاں ایک دو کلومیٹر پکی سڑک تھی۔اسی پکی سڑک پر دو سپاہی ایک راہگیر کو حراست میں لیئے ہوئے تھے۔
“اپنا منہ کھولو” سپاہی نے اسے کہا
“جناب میرے منہ میں کچھ بھی نہیں ہے”راہگیر نے کہا
دوسرے سپاہی نے کہا کہ”اگر واقعی تمہارے منہ میں کچھ بھی نہیں تو پھر کھولتے کیوں نہیں،اپنا منہ کھولو۔

راہگیر نے جیسے ہی اپنا منہ کھولا تو دونوں سپاہی اس کے دانت گننے لگے۔”ایک سپاہی نے دوسرے سے کہا کہ خط میں دیکھو کے کتنے دانت ٹوٹے ہوئے لکھے ہوئے ہیں؟؟
دوسرے سپاہی نے خط کھولا اور دونوں سپاہی پڑھنے لگے۔ “اس میں لکھا ہے کے تین دانت ٹوٹے ہوئے ہیں اور عقل داڑھ مصنوعی طریقے سے بھری ہوئی ہے”سپاہی نے دانت گننا شروع کیئے۔”ایک۔۔۔دو۔۔۔تین۔۔۔چار،سیدھے کھڑے رہو،مجھے الجھاؤ مت۔”ایک۔۔۔دو۔۔۔تین۔۔۔چار۔۔۔۔چوبیس۔ارے یہ کیا، اسے تو چوبیس دانت ہیں۔سپاہی پریشان ہوکر کہنے لگا۔
دوسرے سپاہی نے راہگیر سے کہا” تمہیں پتا ہے کہ کتنے دانت کم ہیں تمہارے؟؟
“آٹھ جناب” راہگیر خوفزدہ ہو کر کہنے لگا۔یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ثبوت گم کرنے کی نیت سے تم نے اپنے دانت خود نکلوائے ہوں!! سپاہی نے کہا
جناب میرا ایک دانت بھی اصلی نہیں،یے بتیسی ساری مصنوعی ہے۔راہگیر نے کہا
پہلے سپاہی نے دوسرے سے کہا کہ خط میں دیکھو کے یہ لکھا ہے کہ سارے دانت مصنوعی ہیں؟؟

دوسرے سپاہی نے کہا کہ نہیں اس میں تو کچھ بھی ایسا نہیں ہے۔ہوسکتا ہے کہ لکھنا بھول گئے ہوں۔یہی “ہاتھی حمدی” ہے اور اس میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
“چلو ہمارے ساتھ”سپاہی نے کہا
‘کہاں”؟؟ راہگیر نے پوچھا
“تھانے”

استنبول پولیس ہیڈکوارٹر میں ہرروز مختلف تھانوں سے پیغام موصول ہورہے تھے کہ”فلاں تاریخ کو فلاں نمبر والے پیغام کے جواب میں ہمارے علاقے سے چودہ “ہاتھی حمدی” گرفتار کیے گئے ہیں،جن سبھی کو ناسی رنگ کے پٹیوں والے سوٹ پہنے ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کے دانت سونے کے ہیں۔ہم بڑے مؤدب ہوکر آپکے مزید احکامات کے منتظر ہیں کہ یہ تعداد آپکی ضرورت کے مطابق ٹھیک ہے یا پھر ہم مزید جاچ کو بڑھاتے ہوئے کچھ اور”ہاتھی حمدیوں” کا انتظام کریں۔
آپکے فلاں تاریخ کے فلاں نمبر والے پیغام کے جواب میں:
مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہم نے دو درجن “ہاتھی حمدیوں” کو گرفتار کیا ہے جن کا وزن ایک سو اسی سے دو سو بیس کلوگرام تک ہے،مگر وزن کا فرق ترازو کی خرابی کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔جیسا کے ان سب کی آنکھیں بھورے رنگ کی ہیں اس لئے ان کے”ہاتھی حمدی” ہونے میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ان سب کو گرفتارکر کے آپکے پاس بھیجا جاتا ہے اور اگر کوئی اور بھوری آنکھوں والا رہ بھی گیا ہو تو اس کی تلاش بھی بڑی جانفشانی سے کی جائے گی اور گرفتار کر کے آپ کے پاس بھیجا جائے گا۔
استنبول پولیس ہیڈکوارٹر سے تمام صوبائی تھانوں کو بھیجی گئی تار:
“جیساکہ موجودہ جگہ پر ہوگئی ہے.اسی کے لیے طئے کیا گیا ہے کہ فیلحال موجودہ “ہاتھی حمدیوں”پر اکتفا کیا جائے۔ہم گذارش کرتے ہیں کہ کسی اگلے احکام تک “ہاتھی حمدیوں” کی گرفتاری کو معطل رکھا جائے۔

نوٹ:”ہاتھی حمدی” جو فرار ہوگیا تھا،اسے گرفتار کیا گیا ہے۔

Advertisements

merkit.pk

عزیز نشیں کا اصل نام محمد نصرت نشیں ہے۔عزیز نشیں 20 دسمبر 1915 میں ترکی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم استنبول میں حاصل کی۔”وار اکیڈمی” سے فوجی تربیت لینے کے بعد 1939 میں فوج میں شامل ہوئے مگر 1944 میں نوکری چھوڑ کر اس وقت کے مشہور جریدے”سات دن” میں اسٹاف کے طور پر کام کیا۔اپنی کالم نگاری کی وجہ سے کئی بار جیل یاترا بھی ہوئی۔عزیز کی تحاریر میں طنز و مزاح اور تنقید کو بڑا دخل ہے۔مزاح نگاری کے بڑے ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں،جن میں سب سے بڑا “Bordighere” ہے جو کہ ہر سال اٹلی کی طرف سے دیا جاتا ہے۔
عزیز نشیں کا انتقال 6 جولائی 1995میں ہوا۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں