سہیلی (آخری قسط)

سہیلی

فاطمہ!سب سے ضروری بات جس کا تمہیں بے حد خیال رکھنا ہے وہ یہ ہے کہ حمزہ کی دوسری بیوی کون ہوگی؟عائشہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:اس سلسلہ میں اپنی ساس اور حمزہ کو اس بات پر رضامند کرو کہ وہ کوئی بیوہ ,خلہ یافتہ یا مطلقہ ہو،کیونکہ اس سے ایک پنتھ دو کاج ہوجائیںگے۔حمزہ اور اس کی والدہ کی اولاد کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی اور ایک بیوہ ،خلہ یافتہ یا مطلقہ کی کفالت اوردلجوئی بھی ہوجائے گی۔ عائشہ نے تاکید کی۔ مگر عائشہ بیوہ تو ٹھیک ہے کہ اللہ نے شوہر کو واپس لے کراسے آزمایا ،یعنی شوہر کی موت اللہ کی رضا تھی جس پر بیوہ کوصبروشکر کرنا چاہیئے مگر۔۔۔مگرخلہ یا طلاق تو عورت کی غلطی،اس کے نباہ نہ کرسکنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔جو عورت پہلی مرتبہ گھر بسا نہ سکی، بچانہ سکی وہ دوبارہ گھرکیسے بسائے گی؟اور دوسری بیوی کے طور پر کیسے نباہ کرسکے گی؟میں نے سوال کیا۔ عائشہ نے جواب دیا :فاطمہ! تمہارا یہ خیال مکمل درست نہیں ہے۔طلاق میں یا علیحدگی میںصرف عورت کا قصور نہیں ہوتا۔بعض دفعہ تو صرف مرد کی منفی سوچ طلاق کی وجہ ہوتی ہے۔یعنی مرد کی شادی اس کی پسند کے برعکس کردی جاتی ہے۔مثلاً اسے "ماڈرن”لڑکی پسند ہوتی ہے مگر اس کی شادی کسی دین دار عورت سے،کسی باپردہ عورت سے کردی جاتی ہے یا مرد دین دار عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر اس کی شادی کسی ماڈرن یا بے پردہ عورت سے کردی جاتی ہے۔ سوچ اور عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے بعد میں نباہ نہیں ہوپاتا،نتیجے کے طور پردونوں میں طلاق ہوجاتی ہے۔یاد رکھو ہرطلاق یا خلہ یافتہ عورت بری یا قابلِ نفرت نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ ہمارے پیارے نبیﷺ کی پیاری صاحبزادی کو اعلیٰ تربیت یافتہ ،پاکیزہ ،نیک اور خوبصورت ہونے کے باوجود بھی اس مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو ہماں،شماں کس کھیت کی مولی ہیں؟ تم اپنے اردگرد نظر دوڑائو یقینا تمہیں ایسی عورتیں ضرور نظر آجائیں گی جو طلاق یاخلہ یافتہ ہونے کے باوجود باکردار ،دین دار اور پُرخلوص ہوں گی۔
ہوں گی نہیں ،ہیں۔سارہ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔خود عائشہ کی3،4شاگرد اور ساتھی بھی موجود ہیں جو بہت ہی پُرخلوص،نیک اطوار، تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی ہیں۔ سسرال والوں کے لالچ اور عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے علیحدگی ہوگئی۔فاطمہ!تم ان میں سے کسی کا انتخاب کرو

اور یہ نیک کام کرڈالو،ان شاء اللہ، اللہ برکت ڈالے گا۔فاطمہ!سارہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔میں تمہیں ان سب سے ملوادوں گی،پھر تم اپنی ساس اور حمزہ کے مشورے سے ان میں سے کسی کا انتخاب کر لینا۔اور ہاں جہیز کے چکر میں مت پڑنا کیونکہ جہیز لینا،دینا ایک غیر شرعی اور غیر اسلامی عمل ہے۔عائشہ نے کہا۔ ان شا ء اللہ میں ایسا ہی کروں گی ۔آج میرے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے ۔الحمد للہ آج میں بہت خوش اور مطمئن ہوں فاطمہ نے مسرور لہجے میں کہا۔اور اس کا کریڈٹ جاتا ہے …کس کو جاتا ہے کریڈٹ ؟میںنے سوال کیا۔اس کا سب سے پہلا کریڈٹ جاتا ہے رائحہ کو۔۔جو فاطمہ کو ہمارے گھر لائی اور اسے عملی سبق دیا،دوسرا کریڈٹ جاتا ہے سارہ کو جس نے بہت وسیع الظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے کردار کونہ صرف سراہا بلکہ آئیڈیل بنا کر پیش کیا۔اور۔۔۔اور تھوڑا سا کریڈٹ مجھے بھی جاتا ہے،عائشہ نے فرضی کالراونچا کرتے ہوئے کہا۔اور…اور جناب آپ سب ایک اہم ترین کردار کو بھول رہے ہیں۔۔۔ہم دونوں سہیلیوں کے شوہرِنامدار جناب عبدالرحیم صاحب کو کیونکہ اگر وہ دوسری شادی کرتے ہوئے حکمت ِ عملی اور اللہ و رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کو پیش ِ نظر نہ رکھتے تو آپ ہماری مثال کیسے پیش کرتے ؟سارہ نے ہنستے ہوئے کہا۔جی جی بالکل بالکل …سب نے تائید کی ۔
جناب عالی ! میرے بچوں کے سکول سے واپس آنے کا وقت ہوگیا ہے لہٰذا اب ہمیں اجازت دی جائے ۔چلوفاطمہ یا آج یہیں ڈیرے ڈالنے کا پروگرام ہے؟رائحہ نے ہنستے ہوئے کہا۔جی جناب عالی !چلیں،میں نے کہا۔اچھا عائشہ ،سارہ ہمیں اجازت دیں،اللہ آپ کو اسی طرح شادوآباد رکھے ،آپ کے گھر کو نظرِبد سے بچائے رکھے ۔آمین ۔ثم آمین ۔میں ان شاء اللہ جلد آئوں گی اور عائشہ کی بتائی ہوئی خواتین سے ملوں گی ،فاطمہ نے کہا ،دلی اطمینان اور خوشی سے فاطمہ کا چہرہ دمک رہا تھا۔اور ہم ان شاء اللہ جلد تمہاری "سہیلی”کی شادی کی دعوت کھائیں گے،عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا،جواب میںسب کا مشترکہ قہقہہ سنائی دیا جو سب کی دلی خوشی کوظاہر کررہا تھا۔
اور ہاںجانے سے پہلے وہ مزیدارلطیفہ تو سن لیں۔۔۔آپ سب کو بھی یاد ہوگا،عائشہ نے پوچھا؟کون سا لطیفہ سب نے پوچھا؟وہی…ایک شخص کی بیوی فوت ہوگئی ،اس نے دوسری شادی کی۔اس کے پہلی بیوی سے اپنے بھی پہلے سے بچے موجود تھے اور دوسری بیوی کے بھی پہلے شوہر سے بچے تھے۔ایک دن بیوی نے شوہر کو فون کیا،وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی شوہر نے وجہ پوچھی تو بیوی نے ہکلاتے ہوئے بتایا”آپ کے بچے اور میرے بچے مل کر ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں…میرے منع کرنے کے باوجود وہ باز نہیں آرہے،میں کیا کروں؟”عائشہ کے لطیفے پر ایک مرتبہ پھرسب کا مشترکہ قہقہہ گونج اٹھا۔اگر دونوں سہیلیاں ہوں گی تو ان شاء اللہ ایسی صورت حال پیش ہی نہیں آئے گی،عائشہ نے وضاحت کی۔
فاطمہ! ہمیں یہاں سے فوراً نودو گیارہ ہوجانا چاہیئے ورنہ یہ دونوں سہیلیاں اپنی دلچسپ باتوں سے شام تک ہمیں یہاں سے ہلنے نہیں دیں گی سو…پلیز فو راً اٹھو،رائحہ نے دروازے کی طرف قدم بڑہاتے ہوئے ہنس کر کہا ۔اچھا سہیلیو!اللہ حافظ۔رائحہ اور فاطمہ نے باہر نکلتے ہوئے کہا۔
"سہیلی”مبارک ہو،آج ہم نے اللہ رب العزت کی توفیق سے بہت نیکی کا کام انجام دیا ہے ،سارہ نے عائشہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔”سہیلی”تمہیں بھی مبارک ہو،واقعی آج اللہ نے ہم سے بہت نیکی کا کام لیا ہے،الحمد للہ،ثم الحمد للہ۔اللہ کرے فاطمہ کو بھی تمہارے جیسی سہیلی مل جائے،آمین،ثم آمین،عائشہ نے سارہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا،میرے جیسی نہیں تمہارے جیسی،سارہ نے کہا:اچھا بابا نہ میرے جیسی،نہ تمہارے جیسی بلکہ ہم دونوں جیسی،عائشہ نے سارہ کوگلے لگاتے ہوئے کہا۔

رضیہ رحمٰن
اسسٹنٹ پروفیسر وصدر شعبہ اردو
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین

پہلی اور دوسری قسط پرھیئے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…