تضاد اور فساد

زندگی وہی اچھی جس میں اپنے لئے بھی خوشیاں ہوں اور دوسروں کے لئے بھی خوشیاں ہوں۔ اس دفعہ ہماری حکومت نے عوامی نمائندوں کو خوشیاں تقسیم کر کے جو نیک نامی کمائی ہے اس نے غریبوں کے دلوں کو آزردہ کر دیا ہے۔ اپنی ذات کے لئے خوشیاں اور دوسروں کے لئے غموں کے ڈھیر چھوڑنے والی حکومت نے بجٹ میں نچلے طبقے کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ 18 کروڑ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران نے اپنی ضرورتوں کا خیال ہی نہیں رکھا بلکہ سب سے پہلے اپنی تنخواہوں میں دو سو فیصد صد اضافہ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ موجود ہ بجٹ جتنا مایوس کن ہے اس سے کہیں زیادہ امرا کے لئے اطمینان افروز بھی ہے۔

ہم انسان ساختہ جس نظام میں سانس لے رہے ہیں اس کا تقاضہ یہی ہے کہ غریب کو غریب تر کرنے کے اسباب پیدا کئے جا ئیں اور امیر کو امیر تر کیا جائے۔ انصاف عدل جس ملک میں مہنگا ہو گا وہاں خوشحال معاشرے کا تصور پیدا نہیں ہو سکتا بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ اور اعداد وشمار کا ہیر پھیر ہے جس بجٹ میں غریب آدمی کو خوشی نہ مل سکتی ہو وہ بجٹ امرا کا تو ہو سکتا ہے غرباء کا نہیں اسلام کا نظام امرا سے لے کر غرباء کو باوقار کرتا ہے اور خوشحال معاشرے کی تشکیل میں اللہ کا نظام ہی کامیاب ہو سکتا ہے۔ ہم نے چہروں کو بدلہ ہے ۔
اور فرسودہ نظام کو سینے سے لگایا ہوا ہے۔ اس لئے دنیا کا بڑے سے بڑا ماہر معاشیات و اقتصادیات خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے کوئی نوید نہیں دے سکتا۔
چہروں کو بدلنے کی بجائے اگر ہم اس نظام کو خیر باد کہہ دیں تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ نظام پانامہ لیکس کو جنم دیتا ہے آف شور کمپنیوں کے لئے راہ ہمور کرنا ہے اشرافیہ کی کرپشن کو فن قرار دیتا ہے۔ ایک کنویں میں کتا گر گیا لوگوں نے اپنے علاقے کے عالم دین سے پوچھا کہ اس کنویں سے ہم پانی لے سکتے ہیں کیونکہ اس کے اندر کتا گرا ہوا ہے۔ مولانا نے انہیں بتایا کہ آپ پانچ سو بالٹیاں نکال کر کنویں سے باہر پھینک دیں۔اس کے بعد آپ پانی پی بھی سکتے ہیں اور پلابھی سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے ملک کا نظام بھی چل رہا ہے۔ صرف چہروں کو بدل بدل کر لوگ تنگ آ گئے ہیں۔ عدل و انصاف اور خوشحال معاشرے کا تصور صرف تصور کی حد تک رہ گیا ہے۔ کنویں سے جب تک ہم کتا نہیں نکال لیں گے اس وقت تک پانی پاک نہ ہو گا۔ خواہ ہم ایک لاکھ نہیں کھربوں بالٹیاں پانی کو نکال لیں اگر کتے کو ہم نہیں نکالیں گے تو پانی میں بدبو اور نا پاکی ہمیشہ رہے گی۔ پاکستان بننے کے بعد ہمیں انگریز کے نظام کو بھی خیر آباد کہہ دینا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ہم آج بھی اسی نظام کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہم غریب کو مزید غریب بنا رہے ہیں۔ اور امیر کو مزید امیر بنایا جا رہاہے۔ خاص طور پر اس نظام میں عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا آج کل خواتین کو آگ لگا کر جھلسایا جا رہا ہے۔ حکومت خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ازالہ کرنے کی بجائے کبھی دو لاکھ اور کبھی تین لاکھ بلکہ آج کل تو خادمِ اعلیٰ نے زیادتی کا پانچ لاکھ معاوضہ مقرر کر رکھا ہے۔ گویا متاثرہ خواتین کے لئے پیکج بنا دیا گیا ہے۔ مگر مجرموں کو ابھی تک سزا نہیں ملی ہونا تو یہ چاہیے کہ ظالموں کو نکیل ڈالی جائے اور انہیں عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔ نا کہ مضروب بچیاں نشان بن جائیں آئیے ہم سب مل کر نا انصافیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان درندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ ظلم اورجبر کے موسم میں پرندے بھی جھلس جاتے ہیں ۔ حکومتیں کفر پر تو قائم رہ سکتیں ہیں مگر ظلم میں اقتدار کبھی نہیں پروان چڑھتا ہم سب کو کنویں سے کتا نکالنا ہے۔ جب یہ نظام اپنی منتقی انجام تک کو پہنچے گا تو انصاف وعدل ہماری دہلیز پر ہو گا۔ اس نظام میں بھلائی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

میں تو پہلے ہی اپنے کالموں میں ان وزیروں اور مشیروں کے غلط بیانات کا ذکر کر چکی ہوں جوصرف بولتے بولتے اور صرف بولتے اور صرف بولتے ہیں مگر وزیرِ مملکت برائے خزانہ نے قوم کو جو دستاویز دی ہے وہ کاغذوں کے چند ٹکڑے نہیں بلکہ ایک تحریر کردہ مکمل دستاویز فراڈ ہے۔

اقتصادی شرح ا فزائش کے بلند و بانگ دعوے صرف سرکاری اعدادو شمار میں موجود ہیں ان کے فیض و برکات کا احاطہ عوامی پہنچ سے باہر ہے۔ مخصوص طبقے کی ضروریات اور سہولیات کا خیال رکھا گیا ہے جنہیں نہ روزی کی ضرورت ہے نہ روزگار کی تلاش ہے وہ تو صرف دنیا میں اس لئے آئے ہیں کہ عیش اور کیش ان کے گھر کی لونڈی ہے وہ جب چاہیں اس کو اپنی ذاتی ضروریات کیلئے استعمال کر لیں۔ جب تک اس ملک کے قدرتی خزانے عوامی پہنچ اور غریب کی دسترس میں نہیں ہو ں گے کوئی بھی بجٹ عوام دوست بجٹ نہیں کہلا سکے گا۔

عوام دوستی اور انسان صرف لفظی بازی گری اور اعدادو شمار کی ہیرا پھیری سے مزین و آراستہ ہے، کاغذی پھول خوشمنا تو ہو سکتا ہے خوشبو دار نہیں۔ خوشبو حقیقی پھولوں سے ہی اگر مستعار لے لی جائے تو کچھ دیر کے لئے خوش نما کاغذی پھولوں کو بھی صحت صالح کی رفاقت کا لطف ضرور آئے گا۔ موجودہ ہماری حکومت کے دور میں جگر گوشوں کو فروخت کرنے کا اشتہار گلے میں آویزاں پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ اور گردوں کی فروخت تو تجارت کا حصہ بن کے رہ گئی ہے۔

جس معاشرے میں غربت کا یہ عالم ہو کہ باپ اپنے کنبے کی ضروریات زندگی پوری نہ کر سکنے کے باعث تھک ہار کر زندگی کی بازی لگا دے پھر ایسے بجٹ کو کیونکہ عوام دوست بجٹ قرار دیا جا سکتاہے۔

پاکستانی قوم اجتماعی مفاد کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے یہاں تک کہ جوہر قوت کی افزائش کے لئے گھاس کھانے کے لئے بھی کسی قسم کے ایثار سے گریز نہیں کرتی۔ حکمرانوں نے ایسے بجٹ کے اعدادو شمار کے لیے آج پوری دنیا میں عوام کو قائل کرنے کے لئے جن کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں وہ خود بھی عرصہ حساب میں اپنے حساب کی فرد اٹھائے کھڑے ہیں اور انہیں فانی دنیا کے بعد ایک لا فانی دنای موجود ہے جہاں انہیں پائی پائی کا حساب چکانا ہو گا۔

دنیا کی باز پرس سے اب تک نہیں نجات
الجھا ہوا ہوں حشر کے دن بھی حساب میں

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

تبصرے بند ہیں.