عبد الستار ایدھی

بجھ چلے ہیں چراغ کیسے کیسے۔۔۔!!
مہکتی جا رہی ہے فضائے بہشت اس قدر کہ
فرشتے حیران ہے یہ کون انسان آ رہا ہے
نور ہی نور پھیلایا جا رہا ہے عرش تک
زمین والوں کا ولی ایک مہربان آ رہا ہے
جسدِ خاکی محروم لگتا ہے بینائی سے گویا
کر کے آنکھوں کا نور وہ دان آ رہا ہے
خیال رکھنا تم میرے ملک کے غریبوں کا
سنا کے دنیا کو آخری داستان آ رہا ہ ے
جھوم رہے ہیں آسمان والے بے خود سے
انسانیت کا مسیحا ،جنت کی شان آ رہا ہے
سمیٹ کر سب درد و الم سینے میں اپنے
بکھیر کر بے کسوں میں مسکان آ رہا ہے
دیکھنا فرشتوں استقبال مکمل شاہانہ ہو
میرے نبی کا یار پاکستان کا مان آ رہا ہے
۸ جولائی۶۱۰۲۔۔۔!!
ٹی وی پر حسب معمول بریکنگ نیوز کا سلسلہ جاری تھا۔۔اور پورے جوش و خروش کیساتھ جاری تھا۔۔کہ اچانک ریڈ پٹی پر چلنے والی ایک بریکنگ نیوز سن کر نہ صرف اہل پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لوگ سکتے میں آگئے۔بانیِ محبت۔۔بابائے انسانیت۔۔محسنِ کائنات اور محافظِ خلق انسانیت کے باب کو ایک نیا رخ دے کر اس جہانِ فانی سے چل بسے۔۔۔ایسے موقع پر عموما تین ہی باتیں سنی اورکہی جاتی ہیں ۔۔اظہارِغم،تلقین صبر، دعائےِ مغفرت ۔۔۔اظہارِ غم محض تکلف نبھانے کے زمرے میں آتا ہے۔ابھی اس روئے زمین پر ایسے الفاظ نہیں اترئے جو اس غم کا ازالہ کر سکیں۔۔تلقینِ صبر بے دردی ہے بے فائدہ ہے۔۔کچھ نقصانات اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ صبر کر نے کے بعد بھی صبر نہیں آتا۔۔رہی دعائے مغفرت ۔۔تو مجھے یقین ہے کہ عرش سے لیکر فرش تک بسنے والے سبھی انسان۔۔سبھی فرشتے ۔۔سبھی مخلوقات اس فقیر سے بادشاہ کی مغفرت کیلئے دعا گو ہوں گے۔۔ایدھی صاحب میرا براہ راست آپ سے کوئی رشتہ تو نہیں پر ایک روحانی تعلق ضرور ہے۔۔اور دنیا جانتی ہے یہ روحانی تعلق دنیا کے ہر تعلق پہ ماروا ہوتا ہے لیکن یہاں مجھے ایک اعتراف کر نے دیں۔۔۷ جولائی کی شب جب ہر ٹی وی چینل پر بار بار قوم کے مسیحا کی تشویس ناک حالت کے بارے میں بتا کر دعا کی اپیل کرنے کو کہا جا رہا تھا۔۔۔تو یقین کیجئے ۔آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے پر ہزار بار چاہ کر بھی میں زبان سے ایک لفظ تک ادا نہیں کر پائی۔لیکن آپ جس خالق کے حضور پیش ہوئے ہیں وہاں جا کر تو یہ جان چکے ہوں گے کہ مالک دعا کرنے والے کا دل دیکھتا ہے زبان سے ادا کئے جانے والے الفاظ نہیں ۔۔دنیا میں بسنے والا ایک فرشتہ صفت انسان۔۔جس کا دعوی تھا میرا مذہب انسانیت ہے جو دنیا کے باقی تمام مذاہب کی بنیاد ہے۔۔اور انہوں نے دوسروں کی طرح محض دعوی کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے کہے گئے الفاظ پر عمل بھی کر کے دکھایا۔۔۔۔آنگنِ انسانیت میں امید بن کر کھلنے والا وہ مسیحا نما کنول مرجھا تو گیا لیکن جاتے جاتے چمن کے سمجھی گلوں میں نئی زندگی کی خوشبو بکھیر کر رہتی دنیا تک انسانیت کی ایک نئی تاریخ رقم کر گیا۔یقین نہیں آتا۔حسب نصب۔۔ذات پات اور مذہب قومیت کی پروہ کیے بغیر انسانیت کو اپنا مذہب ماننے والے ۔۔چھ دہاوں تک دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے۔۔۔۔۔کوڑا کرکٹ کی نزر کر دئے جانے والے معصوم نومولود بچوں کو اٹھا کر سینے سے لگانے والے۔۔۔انہیں اپنا نام دے کر دنیا میں فخر سے متعارف کروانے والے۔۔۔غریبوں کے حامی۔دردمندوں کے چارہ گر۔۔بے کسوں کے فریادی۔۔محبتوں کے اولین ولی۔۔انسانیت کی زندہ واحدمثال۔۔مظلوموں کے نجات دہندہ۔۔لاوارثوں کے وارث۔۔لا سہارا عورتوں کی سر کی چادر۔۔ بدبو دار لاشوں کو تنہا کندھا دینے والے ۔۔اور کائناتِ انسانیت میں ستارا بن کر ابھرنے والے۔۔عظیم قائد اب ہم میں نہ رہے۔۔۔اللہ اللہ ایسے انسان کہاں سے لائیں ہم۔جو بادشاہ ہوتے ہوئے بھی خالی ہاتھ رہے۔۔جو حاکم وقت ہو کر بھی خادم وقت ہونے کو ترجیح دے۔۔جو خودایک کمرے تک محدود رہے اور بے سہارا لوگوں کے لئے کئی سوآشیانے بنا ڈاے۔یہ ہمارا تو ظرف نہیں کہ اپنی بھری تھالی میں سے کسی بے بس بھوکے انسان کو ایک نوالہ ہی کھلا دیں۔۔نہ جی نہ ۔ ہم میں تو حوصلہ نہیں کہ خود ساری زندگی ملایشا کے دو سوٹوں اور بیس سال پرانے پھٹے جوتے میں بیتا ئیں پر ضرورت مند انسانیت کو روٹی کپڑا تعلیم اور مکان جیسی سبھی بنیادی ضروریات پوری کریں۔ہم میں ہمت نہیں خود جل کر دنیا کونئی صج سے منور کروانے کی ۔۔افسوس۔ ۔اب روشنی کا استعارہ نہ رہا۔۔خوشی۔۔ انسانیت کا ایک سنہرا باب امر ہو گیا۔۔۔بھٹکے ہووں کی منزل بننے والا۔۔ پوری قوم کو احساس کے حقیقی معنوں سے روشناس کروا کے ۔۔انسانیت کو بے
سہارا۔۔اور پورے ملک کو یتم کر کے خود اپنی آخری منزل کی جانب چل نکلا۔۔یقین کرنا مشکل ہے کہ۔خلق خدا کی خدمت میں سرشار۔۔انسانیت کا علمبرار۔۔قائد کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے والا تن تنہا فرشتہ صفت صوفی انسان ایدھی فاونڈیشن کے بانی محترم مولانا عبدالستار ایدھی پورے جہاں کو خدمت۔۔محبت۔۔اور انسانیت کی نئی رائیں دکھا کر اپنے نئے جہاں کے سفر پر رواں دواں ہو گئے ہیں۔ ۔۔ہر ملک کے دوراِ حیات میں ایک شخص ایسا ضرور بستا ہے۔۔جو نہ صرف ملک و قوم کا فخر اور سرمایہ ہو تا ہے۔۔بلکہ پوری دنیا میں اس ملک کی عظمت کی ایک شاندار شناخت بن کر بھی ابھرتا ہے۔۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے عظیم بیٹے دو بار ہی پیدا ہوئے۔۔ایک ڈاکٹر عبدالقدیر کی شکل میں اور ایک بابائے انسانیت مولانا عبدالستار ایدھی کی شکل میں۔۔۔۔بابا ایدھی کی وفات نے پاکستان کو اکلوتے نایاب اس قومی ورثے سے محروم کر دیا ہے۔۔جس کی بدولت عوام پوری دنیا میں فخر کرتی پائی جاتی تھی۔۔جانے یہ سب آنے والوں کا لوٹ جانا لازم کیوں ہوتا ہے۔۔جتنا بڑا نقصان ہمارا ہو چکا ہے میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں اس سے بڑھ کر ہمارا نقصان مذید ہو ہی نہیں سکتا ۔۔آج سے پہلے جتنے نقصانات ہوئے ۔۔ جتنے ڈرون حملے ہوئے ۔۔جتنے دھماکے ہوئے ۔۔ان سب کی تلافی ممکن تھی۔۔کیونکہ ان نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے ایک بے تاج بادشاہ ہم میں موجود تھا۔۔ایدھی صاحب کا جانا ایک ایسا بڑانقصان ہے جس کی تلافی کرنا صرف ایک بندے کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔اگر پاکستان کی پوری عوام اپنے اندر انسانیت کا جذبہ پیدا کریں تو شاید کسی حد تک اس نقصان کی تلافی ہو پائے۔۔ہمدردی کا کیسا جذبہ تھا ۔انسانیت کے مسحا لاوارثوں کے وارث۔۔عبدالستار ایدھی جاتے جاتے بھی ضرورت مند انسانیت کی مد د کر گئے۔۔اپنی آنکھیں عطیہ کر گئے۔۔۔ میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا۔۔رخصت ہوتے ہوئے بھی عوام کے لیے ایک نیا سبق چھوڑ کرگئے۔۔
اے میری قوم کے حکمرانوں ۔۔دیکھو کوئی سبق پکڑو۔۔۔انسانیت کھوٹے ڈالز اوربڑے بڑے عایشان محلات کی نہیں بلکہ تھوڑے سے احساس اور سچی نیت کی محتاج ہے۔۔۔اے لاشیں گرانے والو خدارا اب مذید لاشیں مت گرانا۔۔۔اور اگر گرانا بھی تو ان کے ماتھے پر لاوارثی کا تھپا سجا کر انہیں جوہڑ،ندی نالوں، یا بیابانوں میں جنگلی درندوں کے سپرد مت کرنا۔۔کہ ان پر بدنصیوں پرآخری چادر ڈالنے والے اب ہاتھ نہیں رہے۔۔
سنو بوڑھے ماں باپ سے بے اعتنائی برتنے والوں۔۔۔اب یہ جارجانہ رویہ مت اپنانا۔۔مجبور بہنوں کے سر سے ہاتھ مت اٹھانا۔۔۔۔بے بس بیویوں کو دھتکار مت دینا۔۔۔اور بیواوں پر مذید ظلم و ستم مت کرنا۔۔۔کہ مجبور انسانیت کے نجات دہندہ۔۔۔معاشرے میں ٹھکرائی گئی بہنوں ، بیٹوں کی سر کی چادر، اور ضعیف بے بسوں۔۔بے کسوں کے آنسو پوجھنے والے مسیحا اب اس جہاں میں نہیں رہے۔
سنو نومولود بچوں کو گالی سمجھ کر دنیا کی شاطر سفاک نگایوں سے چھپانے کی خاطر کسی کوڑا کرکٹ تلے یا کسی گٹر میں دفن مت کرنا۔۔کہ اب وہ آنکھیں نہیں رہی جو دور سے ان ننھے فرشتوں کو بلبلاتا دیکھ کر انہیں خود میں سما سکیں۔۔اب وہ ہاتھ نہیں رہے جو کوڑا کرکٹ ٹٹول ٹٹول کر کئی زندگیاں بچایا کرتے تھے۔۔کئی نشے میں لت پت غلیط جسموں کو خود سے لگایا کرتے تھے۔۔سدھر جاو ۔۔انسانی جسم کے ٹکڑے کرنے والوں۔اب لاشوں کے ٹکڑے اٹھانے والے وہ میسحا نہیں رہے ۔۔جس نے ساری زندگی محض انسانیت کے نام پر وقف کر ڈالی۔۔
ہمیں کیا کرنا ہے۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔بس ہاتھوں میں ہاتھ باندھ کر ایک نئے ایدھی کا انتظار۔۔آنکھوں پر بے حسی کی پٹی باند ھ کر اک نئے مسیحا کی تلاش۔۔۔۔۔اور کچھ کھوکھلی سی خوش فہوں سے اس دل نادان کی تسلی ۔۔۔کہ کبھی نہ کبھی اس روئے زمین پر ایک نیا ایدھی ضرور پیدا ہو گا۔۔جو انسانیت کا باب پھر سے شروع کے اک نئی تاریخ رقم کر سکے گا۔۔
شکر ہے ہمارے پیارے ایدھی صاحب ایسی خوش فہموں سے پاک تھے۔۔اللہ پاک قوم کے چارہ گر کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔اور ہمیں میں سے شروع کر کے پوری انسانیت کو سنوارنے کی ہمت عطا کرے۔۔۔آمین۔

ثناء ناز رجانہ

تبصرے بند ہیں.