خوبصورت لب و لہجے کے شاعر، زبیر محمود قیصر کا انٹرویو

تفکر ڈاٹ کام نے اپنے قارئین کے لئے نئے سلسلے کا آغاز کیا ہے جس میں فیس بک گروپ "پہچان" میں معروف ادیبوں اور شاعروں کے انٹرویوز شائع کیے جائیں گے۔ یہ انٹرویوز کتاب اور مصنف کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے کی کڑی ہونگے۔ اس سلسلے کا باقاعدہ…

سو لفظی کہانی ( تعلیم نسواں )

 مجھے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہے۔۔۔۔۔ میں پڑھوں گی اور ہرلڑکی کو پڑھاؤں گی ۔۔۔ ہمیں جہالت کے اندھیرے سے نکل کر ملک کو روشن کرنا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پوزیشن لینے والی طالبہ کا ٹی وی پرانٹرویو تھا اور وہ خاصی پُر جوش تھی ــ اگلے دن اسی طالبہ کی…

سو لفظی کہانی ( بے زبان )

 بیٹے نے بوڑھے باپ کواولڈ ہوم میں چھوڑتے ہوئے کہا میں روز ملنےآیا کرونگا آپ سے۔۔۔۔ اگرآپکی بہوآپکی بیماری اور پکارسےسمجھوتا کر لیتی تومیں اس جگہ اس حالت میں آپکو کبھی چھوڑکے نہ جاتا ۔۔۔۔۔ بوڑھے نےنم آنکھوں سے بیٹے کو دیکھا۔۔۔۔ بہو کو دوش نہ…

فاتح

’’ میں سکندر! جسے میری ماں سکندر اعظم بنانا چاہتی تھی ۔ بہادر ، جری ، نڈر ، فاتح۔۔۔ میں اور تو کہیں بہادری نہ دکھا سکا، لیکن اپنے محلے اور خاص طور پر بیوی پر یہ بہادری بڑی آزماتا ۔ وہ میری مفتوح تھی اور میں فاتح بن کر اپنے گھر…

زندگی کے میلے میں ، خواہشوں کے ریلے میں

  زندگی کے میلے میں ، خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں ، اسقدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے ، بخت کی گِرانی ہے سخت بے زمینی ہے ، سخت لا مکانی ہے ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے تم کو جو سنانی ہے بات گو…

سو لفظی کہانی ( شکوہ )

گھر میں عید کا سماں تھا بچوں کو بھی جلدی جگالیا ملکر تئیس مارچ کی تقریب دیکھی پریڈ نے بچوں کا لہو گرمایا اور ملی نغموں نے بڑوں دل میں وطن کی محبت جگائی ''پتہ ہے قائد چاہتے تھے کہ ایسا ملک بنائیں جہاں کوئی لڑائی…

عبد الستار ایدھی

بجھ چلے ہیں چراغ کیسے کیسے۔۔۔!! مہکتی جا رہی ہے فضائے بہشت اس قدر کہ فرشتے حیران ہے یہ کون انسان آ رہا ہے نور ہی نور پھیلایا جا رہا ہے عرش تک زمین والوں کا ولی ایک مہربان آ رہا ہے جسدِ خاکی محروم لگتا ہے بینائی سے گویا کر کے آنکھوں کا…

عکس

’’ ارے کیا کر رہے ہو ارسلان ؟ اتنی زور زور سے سائیکل کو دیوار سے کیوں ٹکرا رہے ہو۔۔۔ پاگل ہوکیا ۔۔۔؟‘‘ پاپا نے زور سے ارسلان کی گدی پکڑی جوپچھلے پانچ منٹ سے سائیکل دیوار پر مار کر اسے کا سامنے کا ہینڈل اپنی ہی منطق سے ٹھیک کر رہا تھا ۔…

میں اور مَینا از محمد عرفان رامے

میں سیکنڈ ائر میں تھا تو مَینا میٹرک میں پڑھتی تھی ۔بہت محنت کے بعد جب میں ایف ایس سی میں سرخرو ہواتو وہ بھی میرے مساوی امتحان پاس کر کے یونیورسٹی میں داخلے کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔۔ وہ مزاج کی بہت گرم تھی۔ ہمیشہ اپنی بات منوانا، رعب سے بات…