Warning: Use of undefined constant ‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’ - assumed '‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/moazam/public_html/wp-config.php on line 74
دسمبر 2018 - تفکر ڈاٹ کام
ماہانہ آرکائیو

دسمبر 2018

درختِ دوستی بِنْشان، که کامِ دل به بار آرد نهالِ د…

درختِ دوستی بِنْشان، که کامِ دل به بار آرد نهالِ دشمنی برکَن، که رنجِ بی‌شمار آرد" (حافظ شیرازی) دوستی کا درخت بوؤ کہ یہ آرزوئے دل کا میوہ لاتا ہے (یعنی اِس کے باعث آرزو و مُرادِ دل برآوردہ ہوتی ہے)۔۔۔ دُشمنی کا نِہال (پودا) اُکھاڑ دو کہ…

اردو ادب کی ممتاز شخصیت، استاد، افسانہ نگار، نقاد …

اردو ادب کی ممتاز شخصیت، استاد، افسانہ نگار، نقاد اور 100 سے زائد کتب کے مصنف ڈاکٹر سلیم اختر لاہور میں انتقال کر گئے۔ December 30, 2019 تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور نقاد، افسانہ نگار، ماہرِ لسانیات، ماہرِ اقبالیات، ادبی مؤرخ، معلم…

"سندھی شاعر شیخ ایاز کے کچھ اقوال” شیخ ایاز کہتے ہ…

"سندھی شاعر شیخ ایاز کے کچھ اقوال" شیخ ایاز کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ٭1) شاعر فرشتہ نہیں ہے لیکن فرشتہ بھی تو شاعر نہیں ۔ ٭2) اگر عورت اور شراب میں سے مجھے کسی ایک کو چننا پڑے تو میں شراب کو چنوں گا اور اگر شراب اور کتاب میں سے کسی ایک کو چننا ہو…

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے کہیں لب بست…

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رو رہی ہے کہیں لب بستہ رہ جانے کی حسرت رو رہی ہے کسی دیوار پر ناخن نے لکھا ہے رہائی کسی گھر میں اسیری کی اذیت رو رہی ہے کہیں منبر پہ خوش بیٹھا ہے اک سجدے کا نشہ کسی محراب کے نیچے عبادت رو رہی ہے یہ…

یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ ترا خیال ا…

یہ کیسا ربط ہوا دل کو تیری ذات کے ساتھ ترا خیال اب آتا ہے بات بات کے ساتھ کٹھن تھا مرحلۂ انتظار صبح بہت بسر ہوا ہوں میں خود بھی گزرتی رات کے ساتھ پڑیں تھیں پائے نظر میں ہزار زنجیریں بندھا ہوا تھا میں اپنے توہمات کے ساتھ جلوس وقت…

::خدشہ:: یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھن…

::خدشہ:: یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کی سرخ عقیق یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار یہ بے نیاز گھنے جنگلوں سے بال ترے یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا رنگ گالوں…

سُخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا یہ دفتر کسی دن ڈبونا…

سُخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا عزیزو کہاں تک یہ عاشق مزاجی تمہیں جلد ترخاک ہونا پڑے گا رہا دوستی پر نہ تکیہ کسی کی بس اب دل سے شکوؤں کو دھونا پڑیگا بن آئے گی ہرگز نہ یاں کچھ کیے بِن جو کچھ کاٹنا…

ایک نظم سال کی آخری شام کے نام ………. اور کچھ…

ایک نظم سال کی آخری شام کے نام .......... اور کچھ دیر میں یہ سرخ گلاب اپنی خوشبو میں نیم خوابیدہ چاند کے رس میں ڈوب جائے گا اور کچھ دیر میں ہوائے شمال نرم سرگوشیوں کی خلوت میں پھول سے وصل کرنے آئے گی اور کچھ دیر میں دھڑکتا سمے ترک…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…