ڈیلی آرکائیو

2019-02-11

دُنیا کے دُکھ سہتا ہوں پھر بھی ہنستا رہتا ہوں سی…

دُنیا کے دُکھ سہتا ہوں پھر بھی ہنستا رہتا ہوں سیلِ حوادث میں ہوں مگر اپنی رَو میں بہتا ہوں تُم نے سوچا تو ہوتا کیوں میں چُپ چُپ رہتا ہوں میں ہوں تیرا، یہ مَت دیکھ کِس کِس سے کیا کہتا ہوں جان پہ جب بن آتی ہے…

زندگی ان کی چاہ میں گزری مستقل درد و آہ میں گز…

زندگی ان کی چاہ میں گزری مستقل درد و آہ میں گزری رحمتوں سے نباہ میں گزری عمر ساری گناہ میں گزری ہائے وہ زندگی کی اِک ساعت جو تری بارگاہ میں گزری سب کی نظروں میں سر بلند رہے جب تک ان کی نگاہ میں گزری میں وہ اک…

جب جاں پہ لبِ جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے ہم…

جب جاں پہ لبِ جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے ہم ہاتھ بڑھائیں اور اس میں مہتاب گُلِ تر ہو جائے کب دل کا لڑکپن جائے گا ہر وقت یہی ہے ضد اس کی جو مانگے اسی پل مل جائے جو سوچے وہیں پر ہو جائے اک عالمِ جاں وہ ہوتا ہے تخصیص نہیں جس میں…

١٩٥٩ء میں فیضؔ صاحب لاھور سینڑل جیل میں تھے۔ وہ اُ…

١٩٥٩ء میں فیضؔ صاحب لاھور سینڑل جیل میں تھے۔ وہ اُن دنوں علیل رھتے تھے۔ ایک روز اُن کے دانت میں سخت درد اُٹھا- جیل کے حکام نے اُنہیں پولیس کی حفاظت میں چیک اپ کرانے کے لیے دانتوں کے اسپتال بھیج دیا۔ ڈاکڑ صاحب اُن کے پرستاروں میں سے تھے…

کیا اِس سے زیادہ پر اثر شاعری اور نغمگی ممکن ھے؟ …

کیا اِس سے زیادہ پر اثر شاعری اور نغمگی ممکن ھے؟ فیض کی اس نظم ”آج بازار میں پا بجولاں چلو“ کو نیرہ نُور نے کمال خوبصورتی سے گایا۔ آپ بھی سنیں۔ آج بازار میں پا بجولاں چلو چشمِ نَم ، جانِ شوریدہ کافی نہیں تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں…

دل پہ آتا ھے کسی ھاتھ کا لَمس جب بھی ھم خود کو اک…

دل پہ آتا ھے کسی ھاتھ کا لَمس جب بھی ھم خود کو اکیلا سمجھیں شام اِک نام پہ کِھل اُٹھتی ھے اِسم سمجھیں ، کہ ستارہ سمجھیں بات کرتے ھُوئے , رُک جاتا ھُوں آپ اس بات کو پُورا سمجھیں دل کو اِک عمر سمجھتے رھے ھم پھر بھی اِک عمر میں کتنا…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…