ڈیلی آرکائیو

2019-02-13

”سرود“ موت اپنی ، نہ عمل اپنا ، نہ جینا اپنا کھو …

”سرود“ موت اپنی ، نہ عمل اپنا ، نہ جینا اپنا کھو گیا شورشِ گیتی میں قرینہ اپنا ناخدا دُور، ھوا تیز ، قریں کامِ نہنگ وقت ھے ، پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا عرصۂ دھر کے ھنگامے , تہِ خواب سہی گرم رکھ ، آتشِ پیکار سے سینہ اپنا ساقیا رنج…

یاس، یگانہ، چنگیزی دِل کی ہَوس وہی ہے، مگر دِل نہ…

یاس، یگانہ، چنگیزی دِل کی ہَوس وہی ہے، مگر دِل نہیں رہا محمل نَشِیں تو رہ گیا، محمل نہیں رہا پُہنچی نہ اُڑ کے دامنِ عِصمت پہ گرد تک اِس خاک اُڑانے کا کوئی حاصِل نہیں رہا رکھتے نہیں کسی سے تسلّی کی چشم داشت دِل تک اب اعتبار کے قابل…

بڑا کھٹن ہے راستا، جو آسکو تو ساتھ دو یہ زندگی کا…

بڑا کھٹن ہے راستا، جو آسکو تو ساتھ دو یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو بڑے فریب کھاؤگے، بڑے ستم اُٹھاؤگے یہ عمر بھر کا ساتھ ہے، نبھا سکو تو ساتھ دو جو تم کہوں یہ دل تو کیا میں جان بھی فداکروں جو میں کہوں بس اِک نظر لٹا سکو تو ساتھ…

کتنی بلندیوں پہ سر دار آئے ہیں معین احسن جذبی کتنی…

کتنی بلندیوں پہ سر دار آئے ہیں معین احسن جذبی کتنی بلندیوں پہ سر دار آئے ہیں کسی معرکہ میں اہل جنوں ہار آئے ہیں گھبرا اٹھے ہیں ظلمت شب سے تو بارہا نالے ہمارے لب پہ شرربار آئے ہیں اے قصہ گو ازل سے جو بیتی ہے وہ سنا کچھ لوگ تیرے فن…

چھنتی ھُوئی نظروں سے , جذبات کی دنیائیں بے خوابیاں…

چھنتی ھُوئی نظروں سے , جذبات کی دنیائیں بے خوابیاں ، افسانے ، مہتاب ، تمنائیں کچھ الجھی ھُوئی باتیں ، کچھ بہکے ھُوئے نغمے کچھ اشک جو آنکھوں سے ، بے وجہ چَھلک جائیں ”فیض احمّد فیض“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

فسردہ رُخ ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی تبسم مضمحل…

فسردہ رُخ ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی تبسم مضمحل تھا ، مَرمَریں ھاتھوں میں لرزش تھی وہ کیسی بے کسی تھی ، تیری پر تمکیں نگاھوں میں ؟؟ وہ کیا دُکھ تھا ، تیری سہمی ھُوئی خاموش آھوں میں ؟؟ ”فیض احمّد فیض“ بشکریہ…

آئیں نصیرالدین شاہ سے فیض کی نظم ”صُبحِ آزادی اگست…

آئیں نصیرالدین شاہ سے فیض کی نظم ”صُبحِ آزادی اگست ١٩٤٧ء“ سنیں۔ ”صُبحِ آزادی اگست ١٩٤٧ء“ یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں ، جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار ، کہ مل جائے گی کہیں…

عطا شاد پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا ہمیں سے …

عطا شاد پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا ہمیں سے پی اور ہمیں رسوا سرِ بازار کیا رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا کچھ…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…