Warning: Use of undefined constant ‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’ - assumed '‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/moazam/public_html/wp-config.php on line 74
2019-03-11 - تفکر ڈاٹ کام
ڈیلی آرکائیو

2019-03-11

تنہای پھر کوئ آیا دل زارنہیں کوئ نہیں راہرو ہوگا …

تنہای پھر کوئ آیا دل زارنہیں کوئ نہیں راہرو ہوگا کہیں اور چلا جاۓ گا ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ سوگئ راستہ تک تک کے ہر اک راہگزار اجنبی خاک نے دھندلادۓقدموں کے سراغ گل کرو شمعیں بڑھادو…

صحافی، ادیب، معروف شاعر اور ممتاز جدید شاعر” نشترؔ…

صحافی، ادیب، معروف شاعر اور ممتاز جدید شاعر” نشترؔ خانقاہی “ کا یومِ وفات...* 7 / مارچ / 2006 نشترؔ خانقاہی ، پیدائش *فروری ١٩٣٠ء* کو *جہاں آباد ضلع بجنور* میں ہوئی۔ اسکول کی تعلیم بجنور میں ہی حاصل کی اس کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری نہ…

اِن سے نین ملا کے دیکھو یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو…

اِن سے نین ملا کے دیکھو یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو دُوری میں کیا بھید چھپا ھے اِس کا کھوج لگا کے دیکھو کسی اکیلی شام کی چُپ میں گیت پرانے گا کے دیکھو آج کی رات بہت کالی ھے سوچ کے دیپ جلا کے دیکھو دِل کا گھر سنسان پڑا ھے دُکھ…

"عورت” اگر بزمِ اِنساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی…

"عورت" اگر بزمِ اِنساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنّت نہ ہوتی سِتاروں کے دِل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازُک حقیت نہ ہوتی جبینوں پہ نُورِ مُسرّت نہ ہوتا نِگاہوں میں شانِ مُروّت نہ ہوتی گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں…

ھے شکل تیری گلاب جیسی نظر ھے تیری شراب جیسی ھوا…

ھے شکل تیری گلاب جیسی نظر ھے تیری شراب جیسی ھوا سحر کی ھے اِن دنوں میں بدلتے موسم کے خواب جیسی صدا ھے اِک دُوریوں میں اوجھل میری صدا کے جواب جیسی وہ دن تھا دوزخ کی آگ جیسا وہ رات گہرے عذاب جیسی یہ شہر لگتا ھے دشت جیسا چمک ھے…

ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں قوموں کی عزّت ہم سے …

ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں قوموں کی عزّت ہم سے ہے قوموں کی عزّت ہم سے ہے ہم معنیِ مِہر و وفا ہم کشمکش ہم اِرتقا تاریخ نے خود لِکھ دیا اِنسان عِبارت ہم سے ہے ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں قوموں کی عزّت ہم سے ہے زنجیرِ اِستِحصال نے…

فرار اپنے ماضی کے تصوّر سے ہراساں ہُوں میں اپنے گ…

🍁🍁فرار🍁🍁 اپنے ماضی کے تصوّر سے ہراساں ہُوں میں اپنے گُزرے ہُوئے ایّام سے نفرت ہے مُجھے اپنی بے کار تمنّاوں پہ شرمندہ ہُوں اپنی بے سُود امیدوں پہ ندامت ہَے مُجھے میرے ماضی کو اندھیروں میں دبا رہنے دو مرا ماضی مِری ذلّت کے سوا کچھ بھی…

سائے گھٹتے جاتے ھیں جنگل کٹتے جاتے ھیں کوئی سخت…

سائے گھٹتے جاتے ھیں جنگل کٹتے جاتے ھیں کوئی سخت وظیفہ ھے جو ھم رٹتے جاتے ھیں سُورج کے آثار ھیں دیکھو بادل چھٹتے جاتے ھیں آس پاس کے سارے منظر پیچھے ھٹتے جاتے ھیں دیکھو منیرؔ بہار میں گلشن رنگ سے اَٹتے جاتے ھیں ”منیر نیازی“…

منیر نیازی کے کلام پر مَدح و توصیف کے قریب قریب س…

منیر نیازی کے کلام پر مَدح و توصیف کے قریب قریب سبھی مروّجہ الفاظ نچھاور کیے جا چکے ھیں۔ اب تو یہی کہنا کافی ھے کہ منیر نیازی کی ھر غزل اور ھر نظم اُن کے مَداحوں اور چاھنے والوں کے لیے جنت نگاہ اور فردوس گوش کا سا سامان لیے ھُوئے ھے۔…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…