Warning: Use of undefined constant ‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’ - assumed '‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/moazam/public_html/wp-config.php on line 74
2019-03-12 - تفکر ڈاٹ کام
ڈیلی آرکائیو

2019-03-12

نظم نگار اور معروف شاعر” جعفرؔ ساہنی صاحب “ کا یوم…

نظم نگار اور معروف شاعر” جعفرؔ ساہنی صاحب “ کا یومِ وفات...* March 11, 2019 *جعفرؔ ساہنی* *٥ جنوری ١٩٤١ء* کو *لکھمنیاں گاؤں، (بیگوسرائے)* *بہار* میں پیداہوئے۔البتہ انہوں نے زندگی کے زیادہ تر ایام شہرنشاط کلکتہ میں گزارے۔زمانۂ طالب علمی…

سراجؔ اورنگ آبادی کا یومِ ولادت March 11, 1712 *…

سراجؔ اورنگ آبادی کا یومِ ولادت March 11, 1712 *صوفی شاعر جن کی مشہور غزل ’خبر تحیرِ عشق ‘ بہت گائی گئی ہے، نام *سیّد سراج الدین* تخلص *سراجؔ* ۔ولادت *١١ مارچ ۱۷١٢ء* وطن *اورنگ آباد*۔ وہیں تعلیم وتربیت پائی۔ آپ سادات کے ایک برگزیدہ…

ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی نادان ہو تلوار…

ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے ....... بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا ........ ہمیں ہیں موجب باب فصاحت حضرت شاعرؔ زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں ...... اک بات…

اے دِل ترے خیال کی دنیا کہاں سے لائیں اِن …

اے دِل ترے خیال کی دنیا کہاں سے لائیں اِن وحشتوں کے واسطے صحرا کہاں سے لائیں حسرت تو ہے یہی کہ ہو دُنیا سے دل کو میل ہو جس سے دل کو میل وہ دنیا کہاں سے لائیں روشن تھے جو کبھی وہ نظارے کِدھر گئے برپا تھا جو کبھی وہ…

آغا شاعر قزلباش کی وفات Mar 11, 1940 5 مارچ 1871ء…

آغا شاعر قزلباش کی وفات Mar 11, 1940 5 مارچ 1871ء اردو کے نامور شاعر آغا شاعر قزلباش کی تاریخ پیدائش ہے۔ آغا شاعر قزلباش کا اصل نام آغامظفر علی بیگ قزلباش تھا ۔ ابتدا میں وہ طالب دہلوی کے شاگرد تھے پھر حیدرآباد دکن جانے کا اتفاق ہوا تو…

کچھ حسنِ وفا کے دیوانے پھر عشق کی راہ میں کام آئے …

کچھ حسنِ وفا کے دیوانے پھر عشق کی راہ میں کام آئے اے کاش تماشا کرنے کو خود تو بھی کنارِ بام آئے الفاظ نہ تھے آواز نہ تھی نامہ بھی نہ تھا قاصد بھی نہ تھا ایسے بھی کئی پیغام گئے، ایسے بھی کئی پیغام آئے شب مے خانے کی محفل…

اِس مُلک کی جڑیں کاٹنے اور اِسے کھوکھلا کرنے میں ج…

اِس مُلک کی جڑیں کاٹنے اور اِسے کھوکھلا کرنے میں جہاں بہت سے نامرادوں نے حصہ ڈالا وھاں اِس مُلک کی بیورکریسی اور اِس میں موجود مشیر پیش پیش رھے۔ حبیب جالب نے اپنی اِس نظم ”مشیر“ میں اُس کی کمال تصویر کشی کی ھے۔ کچھ عرصہ پہلے اِس نظم کو…

١٩٨٢ کے مشاعرہ بیادِ جوش انجمنِ ساداتِ اَمروھہ کی …

١٩٨٢ کے مشاعرہ بیادِ جوش انجمنِ ساداتِ اَمروھہ کی ایک ریکارڈنگ سنیں۔ جس میں سچا اور سُچا حبیب جالب اپنا کلام ترنم میں سنا رھا ھے۔ وہ کلام جو جالب نے کوٹ لکھپت جیل قید کے دوران لکھا۔ آپ کی سماعتوں کی نذر کرتا ھُوں۔ جو ھو نہ سکی بات ، وہ…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…