Warning: Use of undefined constant ‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’ - assumed '‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/moazam/public_html/wp-config.php on line 74
2019-03-13 - تفکر ڈاٹ کام
ڈیلی آرکائیو

2019-03-13

ﻣﮯ ﺭﮨﮯ، ﻣِﯿﻨﺎ ﺭﮨﮯ، ﮔﺮﺩﺵ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﻣﯿ…

ﻣﮯ ﺭﮨﮯ، ﻣِﯿﻨﺎ ﺭﮨﮯ، ﮔﺮﺩﺵ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻗﯽ ﺗُﻮ ﺭﮨﮯ، ﺁﺑﺎﺩ ﻣﮯ ﺧﺎﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﺣﺸﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ، ﺭُﺥ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﭩﺘﯽ ﻧﻘﺎﺏ ﺣﺪ ﺑﮭﯽ ﺁﺧﺮ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ ﮐﺐ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﮨﻢ ﻣﺠﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺍَﻥ ﺑﻦ…

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں اب اس عذابِ شب…

وصال و ہجر کے قصے نہ یوں سناؤ ہمیں اب اس عذابِ شب و روز سے بچاؤ ہمیں کسی بھی گھر میں سہی روشنی تو ہے ہم سے نمودِ صبح سے پہلے تو مت بجھاؤ ہمیں نہیں ہے خونِ شہیداں کی کوئی قدر یہاں لگا کے داؤ پہ ہم کو نہ یوں گنواؤ ہمیں تمام عمر کا…

ایک لمحہ! زندگی نام ہے کچھ لمحوں کا اور ان میں بھ…

🍁🍁ایک لمحہ!🍁🍁 زندگی نام ہے کچھ لمحوں کا اور ان میں بھی وہی اک لمحہ جس میں دو بولتی آنکھیں چائے کی پیالی سے جب اُٹھیں تو دل میں ڈوبیں ڈوب کے دل میں کہیں آج تم کچھ نہ کہو آج میں کچھ نہ کہوں بس یونہی بیٹھے رہو ہاتھ میں ہاتھ لیے غم کی سوغات…

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں بہت سکوت ہے م…

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں بہت سکوت ہے میں خود کو بے قرار کروں بھروں میں رنگ نئے، مضمحل تمنا میں اداس رات کو آسودۂ بہار کروں----!!! کچھ اور چاہ بڑھاؤں، کچھ اور درد سہوں جو مجھ سے دور ہے،یوں اس کو ہمکنار کروں وفا کے…

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں بہت سکوت ہے م…

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں بہت سکوت ہے میں خود کو بے قرار کروں بھروں میں رنگ نئے، مضمحل تمنا میں اداس رات کو آسودۂ بہار کروں----!!! کچھ اور چاہ بڑھاؤں، کچھ اور درد سہوں جو مجھ سے دور ہے،یوں اس کو ہمکنار کروں وفا کے…

ظُلم رہے اور امن بھی ہو کیا مُمکِن ہے تُم ہی کہو …

ظُلم رہے اور امن بھی ہو کیا مُمکِن ہے تُم ہی کہو ہنستی گاتی روشن وادی تاریکی میں ڈُوب گئی بیتے دِن کی نعش پہ اے دل مَیں روتی ہُوں تُو بھی رو ظُلم رہے اور امن بھی ہو ہر دھڑکن پر خوف کے پہرے ہر آنسُو پر پابندی یہ جیون بھی کیا جیون ہے آگ…

ہم لڑیں امریکیوں کی جنگ کیوں اور کریں اپنی زمیں خُ…

ہم لڑیں امریکیوں کی جنگ کیوں اور کریں اپنی زمیں خُوں رنگ کیوں روشنی کے ہم تو خود ہیں مُنتظِر روشنی پر ہم اُٹھائیں سنگ کیوں اے سِتم گر تُو نے سوچا ہے کبھی تُجھ سے ہے ساری خُدائ تنگ کیوں امن و آزادی کے ہم تو ہیں نقیب ہوں کِسی غاصِب سے ہم…

سُقوطِ ڈھاکہ پر جہاں فیض احمد فیض نے ”ھم کہ ٹہرے ا…

سُقوطِ ڈھاکہ پر جہاں فیض احمد فیض نے ”ھم کہ ٹہرے اجنبی“ لکھی اور نصیر ترابی نے ”وہ ھمسفر تھا مگر اس سے ھمنوائی نہ تھی“ جیسی شاھکار غزلیں لکھیں تو محترمہ زھرہ نگاہ نے بھی اپنے دُکھ اور رَنج کا اظہار یہ نظم ”متاعِ الفاظ“ لکھ کر کیا۔ یہ نظم…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…