ڈیلی آرکائیو

2019-05-14

ڈاکٹر افتخار مغل صاحب کی آخری غزل ….. ہمارے دل م…

ڈاکٹر افتخار مغل صاحب کی آخری غزل ..... ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ ہمارا چہرہ بھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ سُنا ہے آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے ہمارا ہاتھ چھوؤ ، سرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟ سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے…

ھم نے بے پردہ ، تجھے اے مہ جبیں دیکھ لیا اب نہ کر…

ھم نے بے پردہ ، تجھے اے مہ جبیں دیکھ لیا اب نہ کر پردہ کہ ، او پردہ نشیں دیکھ لیا ھم نے دیکھا تجھے ، آنکھوں کی سیاہ پُتلی میں سات پردوں میں تجھے ، پردہ نشیں دیکھ لیا ھم نظر بازوں سے ، تُو چھپ نہ سکا جانِ جہاں تُو جہاں جا کے چُھپا ،…

”اُپدیش“ جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں ، ھیرے جیسے گال جا…

”اُپدیش“ جگمگ جگمگ کرتی آنکھیں ، ھیرے جیسے گال جادو ھے ھونٹوں میں اُس کے ، بجلی جیسی چال اُس کی حنائی مٹھی میں ھے ، عِطر بَھرا رومال جس کی مہک سے شہر بنا ھے ، خوشبوؤں کا جال جو اُس سارے جگ میں نہیں ھے ، اُس کی چاہ میں مرنا یہ تو پاگل پن…

”پرِزم“ پانی کے اِک قطرے میں جب سُورج اُترے رنگو…

”پرِزم“ پانی کے اِک قطرے میں جب سُورج اُترے رنگوں کی تصویر بنے دَھنک کی ساتوں قوسیں اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں قطرے کے ننھے سے بدن میں رنگوں کی دنیا کھِنچ آئے میرا بھی اِک سُورج ھے جو میرا تَن چُھو کر مجھ میں قوسِ قزح کے پُھول…

غم سے منسُوب کروں ، درد کا رشتہ دے دُوں زندگی آ ت…

غم سے منسُوب کروں ، درد کا رشتہ دے دُوں زندگی آ تجھے ، جینے کا سلیقہ دے دُوں بے چراغی ، یہ تیری شامِ غریباں کب تک ؟؟ چل تجھے ، جلتے مکانوں کا اُجالا دے دُوں زندگی اب تو یہی شکل ھے ، سمجھوتے کی دُور ھٹ جاؤں ، تیری راہ سے رستا دے…

نزار قبانی کی نظم ”اُن کی کیا قدر جن کی زبانیں بند…

نزار قبانی کی نظم ”اُن کی کیا قدر جن کی زبانیں بند ھیں“ کا آخری بند ۔ بحرِِ اوقیانوس سے بحیرۂ عرب اور خلیج تک پھیلے ھُوئے بچو !! تم گندم کی بالیوں کی طرح ھماری اُمید ھو تم ھی وہ نسل ھو جو زنجیریں توڑے گی جو ھمارے سروں کی افیون تلف کرے…

ماں پر شاعری …………….. جب چلی ٹھنڈی ہوا بچ…

ماں پر شاعری ................. جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو سبط علی صبا گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی افتخار عارف ماں باپ اور استاد سب ہیں…

نہ محرابِ حرم سمجھے نہ جانے طاقِ بتخانہ جہاں دیکھی…

نہ محرابِ حرم سمجھے نہ جانے طاقِ بتخانہ جہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہ دلِ آزاد کو وحشت نے بخشا ہے وہ کاشانہ کہ اک درجانبِ کعبہ ہے اک در سوئے بتخانہ بِنائے میکدہ ڈالی جو تُو نے پیرِ میخانہ تو کعبہ ہی رہا کعبہ نہ پھر بتخانہ، بتخانہ…

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن م…

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے .. سبط علی صبا کا یوم وفات May 14, 1980 سبط علی صباؔ 11 نومبر 1935ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1953ء سے 1960ء تک وہ پاکستان کی بری فوج کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…