ڈیلی آرکائیو

2019-06-04

ساقیا عید ہے، لا بادے سے مینا بھر کے کہ مے آشام پی…

ساقیا عید ہے، لا بادے سے مینا بھر کے کہ مے آشام پیاسے ہیں مہینا بھر کے آشناؤں سے اگر ایسے ہی بے زار ہو تُم تو ڈبو دو انہیں دریا میں سفینا بھر کے عقدِ پرویں ہے کہ اس حقۂ پرویں میں مَلَک لاتے ہیں اُس رخِ روشن سے پسینا بھر کے دل ہے، آئینہ…

اندھیرے میں بھی وہ سیمیں بدن ایسا دمکتا تھا میں …

اندھیرے میں بھی وہ سیمیں بدن ایسا دمکتا تھا میں اس کی روشنی میں ساری دنیا دیکھ سکتا تھا میں اس تصویر کو تکتے ہوئے تصویر بن جاتا مری پلکیں جھپکتی تھیں نہ میرا دل دھڑکتا تھا جہاں وہ پاؤں رکھتا تھا وہاں پر پھول کھل جاتے وہاں…