ڈیلی آرکائیو

2019-06-12

مصطفیٰ زیدی وفا کیسی ؟ __________ آج وہ آخری تصو…

مصطفیٰ زیدی وفا کیسی ؟ __________ آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے جس سے اُس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی جس سے بے نور خیالوں پہ چمک آتی تھی کعبۂ رحمت اصنام تھا جو مدت سے آج اُس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نے آگ کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے…

ہوا کی موج جو خوشبوئے یار لائی ہے مری خزاں میں …

ہوا کی موج جو خوشبوئے یار لائی ہے مری خزاں میں نسیمِ بہار لائی ہے چمک اٹھا ہے ترا حُسن آبگینوں میں تری نگاہ سرور و خمار لائی ہے کہاں تھی شرطِ محبت کی وعدہ ایفائی کہ روزِ وصل بصد انتظار لائی ہے مری فسُردہ دلی…

دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں تیری آواز ک…

دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ___ تیرے ہونٹوں کے سراب دشتِ تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب اُٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم دور…

رفعت سلطان صاحب آج کی بات پِھر نہیں ہو گی یہ ملاق…

رفعت سلطان صاحب آج کی بات پِھر نہیں ہو گی یہ ملاقات پِھر نہیں ہو گی ایسے بادل تو پِھر بھی آئیں گے ایسی برسات پِھر نہیں ہو گی رات ان کو بھی یوں ہُوا محسوس جیسے یہ رات پِھر نہیں ہو گی اک نظَر مُڑ کے دیکھنے والے کیا یہ خیرات پِھر نہیں ہو گی…

چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اُتارا کیجے مشورہ ہے یہ م…

چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اُتارا کیجے مشورہ ہے یہ میری جان! گوارا کیجے ہم تُمہیں ایک نَظَر بھی نہیں اچھّے لگتے ارے کیجئے جان یہی بات دوبارا کیجے روشنی دِن کی اندھیروں میں سِمَٹ جاتی ہے گھر کے آنگن میں نہ یُوں بال سنوارا کیجے ہم تو یہ…

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں عبید الل…

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں عبید اللہ علیم میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں کبھی رحمتیں…

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے عبید اللہ علیم …

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے عبید اللہ علیم عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمیٔ انفاس سے پگھل جائے محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ…

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے آنند…

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے آنند نرائن ملا جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے خالی ہے مرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارا کون کرے خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار…