ڈیلی آرکائیو

2019-06-13

دل میں اب یوں ، تیرے بُھولے ھُوئے غم آتے ھیں جیسے…

دل میں اب یوں ، تیرے بُھولے ھُوئے غم آتے ھیں جیسے بچھڑے ھُوئے کعبہ میں ، صنم آتے ھیں اِک اِک کر کے ھُوئے جاتے ھیں ، تارے روشن میری منزل کی طرف ، تیرے قدم آتے ھیں رقصِ مئے تیز کرو ، ساز کی لَے تیز کرو سُوئے مئے خانہ سفیرانِ حرم آتے…

غنچۂ شوق لگا ھے کِھلنے پھر تجھے یاد کیا ھے دل نے …

غنچۂ شوق لگا ھے کِھلنے پھر تجھے یاد کیا ھے دل نے انجمن انجمن آرائش ھے آج ھر چاک لگا ھے سِلنے داستانیں ھیں لبِ عالم پر ھم تو چپ چاپ گئے تھے مِلنے میں نے چُھپ کر تیری باتیں کی تھیں جانے کب جان لیا محفل نے تُو نے جھانکا دلِ عرفانیؔ میں…

فرض کرو ھم اھلِ وفا ھوں فرض کرو دیوانے ھوں فرض کرو…

فرض کرو ھم اھلِ وفا ھوں فرض کرو دیوانے ھوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ھوں افسانے ھوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ھو فرض کرو ابھی اور ھو اتنی آدھی ھم نے چھپائی ھو فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ھم نے بہانے ھوں فرض کرو یہ…

آئیے آپ کو ایک محفل میں لے چلیں جہاں میڈم نُور جہ…

آئیے آپ کو ایک محفل میں لے چلیں جہاں میڈم نُور جہاں فیض صاحب کو اُن ایک لازوال غزل بغیر سازوں کے سُنا رھی ھیں۔ دونوں جہان ،تیری محبت میں ھار کے وہ جا رھا ھے کوئی ، شبِ غم گزار کے ویراں ھے مئے کدہ ، خُم و ساغر اُداس ھیں تم کیا گئے…

بزم آخر ہوئی شمعوں کا دھواں باقی ہے چشم نم میں شب…

بزم آخر ہوئی شمعوں کا دھواں باقی ہے چشم نم میں شب رفتہ کا سماں باقی ہے کٹ گئی عمر کوئی یاد نہ منظر نہ خیال ایک بے نام سا احساس زیاں باقی ہے کس کی جانب نگراں ہیں مری بے خواب آنکھیں کیا کوئی مرحلۂ عمر رواں باقی ہے سلسلے اس کی…

مہدی حسن 1927ء میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں …

مہدی حسن 1927ء میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔ 1947ء میں بیس…

ایک وجۂ قرار باقی ھے آپ کا انتظار باقی ھے۔ اپنی ھ…

ایک وجۂ قرار باقی ھے آپ کا انتظار باقی ھے۔ اپنی ھستی پہ اختیار نہیں موت پر اختیار باقی ھے دیکھنا اپنے بس کی بات نہیں ھاں مگر ذکرِ یار باقی ھے۔ اپنے دامن میں کوئی تار نہیں سانس کا ایک تار باقی ھے۔ تجھ سے جو دُور ھے وھی فانی جس کو ھو…

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا جت…

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا جتنے بھی ہیں روپ تمہارے جیتے جی دکھلا دینا رات اور دن کے بیچ کہیں پر جاگے سوئے رستوں میں میں تم سے اک بات کہوں گا تم بھی کچھ فرما دینا اب کی رُت میں جب دھرتی کو برکھا کی مہکار ملے میرے…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…