ڈیلی آرکائیو

2019-08-03

میرے گھر تاں جنم دوس توں انھیرا اے اُدھارا گیت ،…

میرے گھر تاں جنم دوس توں انھیرا اے اُدھارا گیت ، سانُوں پربھ جی اِک اَدھ گیت اُدھارا ، ھور دیو ساڈی بجھدی جاندی اَگ انگارا ھور دیو میں نکی عمرے ، سارا درد ھنڈا بیٹھا ساڈی جوبن رُت سی ، درد کنوارا ھور دیو ”شِو کمار بٹالوی“ بشکریہ…

شِو کمار بٹالوی کے بارے میں کہتے ھیں کہ ان کی شاعر…

شِو کمار بٹالوی کے بارے میں کہتے ھیں کہ ان کی شاعری نے پوری دنیا کو بالخصوص پنجابی پڑھنے والوں کو اپنی نرم نرم بانھوں میں لے لیا۔ ان کی شاعری گلی کوچوں میں ایسے گائی جانے لگی جیسے کوئی لوک شاعری ھو۔35 سال کی قلیل عمر میں شِو کمار نے…

آج پرانی راہوں سے، کوئی مجھے آواز نہ دے درد میں ڈو…

آج پرانی راہوں سے، کوئی مجھے آواز نہ دے درد میں ڈوبے گیت نہ دے، غم کا سسکتا ساز نہ دے بیتے دنوں کی یاد تھی جن میں، میں وہ ترانے بھول چکا آج نئی منزل ہے میری، کل کے ٹھکانے بھول چکا نہ وہ دل نہ صنم، نہ وہ دین دھرم اب دور ہوں سارے گناہوں سے…

دوستو !! پنجابی ادب کو اتنی چھوٹی سی عمر میں شِو …

دوستو !! پنجابی ادب کو اتنی چھوٹی سی عمر میں شِو کُمار بٹالوی کیا کچھ دے گیا۔ ایک سے ایک کلام بے مثال و لاجواب۔ اور اِس گیٹ کا تو جواب ھی نہیں۔ کیہ پچھدے او حال فقیراں دا ساڈے ندیوں وِچھڑے نیراں دا ساڈے ہنجھ دی جُونے آیاں دا ساڈا دِل…

ہم قافیہ و ردیف شکیلؔ بدایونی بشیر احمد شادؔ ۔۔۔۔۔…

ہم قافیہ و ردیف شکیلؔ بدایونی بشیر احمد شادؔ ۔۔۔۔۔ شکیلؔ اے عِشق یہ سب دُنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں پائل کے غموں کا عِلم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیں ہر دِل میں چُھپا ہے تِیر کوئی ہر پاؤں میں ہے زنجِیر کوئی پُوچھے کوئی اِن سے غم…

جب تصور میں کوئی ماہِ جبیں ہوتا ہے رات ہوتی ہے ، م…

جب تصور میں کوئی ماہِ جبیں ہوتا ہے رات ہوتی ہے ، مگر دن کا یقیں ہوتا ہے اُف وہ بیداد عنایت بھی تصدق جس پر ہائے وہ غم، جو مسرت سے حسیں ہوتا ہے ہجر کی رات فسوں کارئ ظلمت مت پوچھ شمع جلتی ہے ، مگر نور نہیں ہوتا ہے دور تک ہم نے جو دیکھا…

مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر…

مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے ... شکیل بدایونی کا یومِ پیدائش August 03. 1916 چودہویں کا چاند ہو جیسے سینکڑوں لازوال گیتوں کے خالق معروف شاعر شکیل بدایونی کی پیدائش 3…

آج جانے کی ضد نہ کرو یونہی پہلو میں بیٹھو رہو ہائے…

آج جانے کی ضد نہ کرو یونہی پہلو میں بیٹھو رہو ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے ایسی باتیں کیا نہ کرو تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم تم کو اپنی قسم جانِ جاں بات اتنی میری مان لو وقت کی قید میں…

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے بشیر احمد شاد خلقت…

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے بشیر احمد شاد خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے میری رسوائی کے کیا کیا نہ بہانے مانگے میں اسے روز نئے زخم دکھاؤں پھر بھی دل بے مہر وہی درد پرانے مانگے ایک آوارۂ منزل سے محبت کر کے تو بڑے شہر میں رہنے…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…