ڈیلی آرکائیو

2019-08-11

احمد فرازؔ چاک پَیراہنیِ گُل کو، صَبا جانتی ہے م…

احمد فرازؔ چاک پَیراہنیِ گُل کو، صَبا جانتی ہے مستیِ شوق ، کہاں بندِ قبا جانتی ہے ہم تو بدنامِ محبّت تھے، سَو رُسوا ٹھہرے! ناصَحوں کو بھی مگر، خلقِ خُدا جانتی ہے کون طاقوں پہ رہا ، کون سَرِ راہگزار ! شہر کے سارے چراغوں کو ہَوا جانتی…

"کلامِ شاعر، بزبانِ شاعر” رفاقتوں میں پشیمانیاں …

"کلامِ شاعر، بزبانِ شاعر" رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں کہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا گِلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں اُداسیوں کا سبب کیا کہیں بجُز اس کے یہ زندگی ہے ،…

:چو باد عزمِ سرِ کوئے یارخواہم کرد: حافظ شیرازی ہ…

:چو باد عزمِ سرِ کوئے یارخواہم کرد: حافظ شیرازی ہَوا ہی بن کے گُزر تا بہ یار کر لیں گے شمیمِ دوست سے دَم مُشکبار کرلیں گے جو عِلم و دِین کے اعزاز و تمغے حاصِل ہیں نثارِ نقشِ قدومِ نِگار کر لیں گے صبا کہاں ہے، کہ ہم خُوں گِرفتہ گُل کی…

جس کو پا کر ہم یہ سمجھے تھے کہ کچھ کھویا نہیں وہ …

جس کو پا کر ہم یہ سمجھے تھے کہ کچھ کھویا نہیں وہ جو بچھڑا ہے تو جیسے کوئی بھی اپنا نہیں وہ ابھی شاداب ہے جنگل کے پھولوں کی طرح اس کے چہرے پر گئے موسم نے کچھ لکھا نہیں آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں تُو…

اسرارالحق مجازؔ بربادِ تمنّا پہ عِتاب اور زیادہ ہ…

اسرارالحق مجازؔ بربادِ تمنّا پہ عِتاب اور زیادہ ہاں، میری محبّت کا جَواب اور زیادہ رَوئیں نہ ابھی اہلِ نَظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مُجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوُں ہی پہ موقُوف نہیں کُچھ ملِنے ہیں ابھی مُجھ کو خِطاب اور زیادہ…

ایک زمین فانیؔ بدایونی سیّد مبارک شاہ ۔۔۔۔۔ فانیؔ …

ایک زمین فانیؔ بدایونی سیّد مبارک شاہ ۔۔۔۔۔ فانیؔ بدایونی دِل کی طَرَف حِجابِ تَکَلُّف اُٹھا کے دیکھ آئینہ دیکھ اور ذرا مُسکُرا کے دیکھ اِس دَور میں یہ طَرزِ جفا آزما کے دیکھ دِل کے بجائے دِل کے سُکُوں کو مِٹا کے دیکھ تَسلِیم کی نَظَر…

11 اگست،یوم وصال نعت گو شاعر،عاشقِ رسولؐ،حضرت الحا…

11 اگست،یوم وصال نعت گو شاعر،عاشقِ رسولؐ،حضرت الحاج محمد علی ظہوری قصوری رحمةاللہ علیہ دل یار دا نذرانہ لے یار دے کول آئے محبوب دی مرضی اے گل لائے یا ٹھکرائے جنت دی نہیں خواہش مولا ایہہ تمنا ایں محبوب دے قدماں تے میری جان نکل جائے کون…

علامہ محمد اقبال . یا مُسلماں را مَدہ فرماں کہ جاں…

علامہ محمد اقبال . یا مُسلماں را مَدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ یا دریں فرسودہ پیکر تازہ جانے آفریں یا چُناں کُن یا چُنیں (اے خدا) یا تو مسلمانوں کو یہ فرمان مت دے کہ وہ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ لیں یا پھر ان کے کمزور اور فرسودہ جسموں…