ڈیلی آرکائیو

2019-08-18

کامران ندیم کا یومِ وفات August 19, 2015 "وحشت ہی…

کامران ندیم کا یومِ وفات August 19, 2015 "وحشت ہی سہی" سے ایک غزل کس قدر تیز ہوا ہے باہر ایک طوفان بپا ہے باہر شہر زنجیر زنی کرتا ہے اک عجب کرب و بلا باہر خواب اک اور تسلسل کا اسیر رات کا رنگ جدا ہے باہر سر پٹکتے ہیں یہ زندانی کیوں…

روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میں شاہد ہیں آسماں…

روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میں شاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میں ..... استاد قمر جلالوی کی پیدائش Aug 19, 1884 اردو کی نامور غزل گو، مرثیہ گو اور منقبت نگار شاعر جناب قمر جلالوی 19 اگست 1884 میں قصبہ جلالی ضلع علی گڑھ میں پیدا…

غزل اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی چلے گئے پھر پھر گُ…

غزل اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی چلے گئے پھر پھر گُل آ چکے پہ سجن تم بھلے گئے پوچھے ہے پھول و پھل کی خبر اب تُو عندلیب ٹوٹے، جھڑے، خزاں ہوئی، پھولے پھلے، گئے دل خواہ کب کسی کو زمانے نے کچھ دیا جن کو دیا کچھ اس میں سے وے کچھ نہ لے گئے اے…

دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا اِک وہ ب…

دُکھ سُکھ تھا ایک سب کا اپنا ہو یا بیگانا اِک وہ بھی تھا زمانا، اک یہ بھی ہے زمانا دادا حیات تھے جب، مٹّی کا ایک گھر تھا چوروں کا کوئی کھٹکا نہ ڈاکووں کا ڈر تھا کھاتے تھے رُوکھی سُوکھی، سوتے تھے نیند گہری شامیں بھری بھری تھیں، آباد تھی…

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں قمر …

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں قمر جلالوی کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے…

جدید لب و لہجہ کے ممتاز شاعر سید مصلح الدین شاذؔ ت…

جدید لب و لہجہ کے ممتاز شاعر سید مصلح الدین شاذؔ تمکنت ۸ا؍ اگست ۱۹۸۵کو اتوار کے روز ۵۲ سال کی عمر میں حیدرآبادمیں انتقال کرگئے ۔ ۳۴ ویں برسی پر خراج پیش ہے۔ مناجات ------- اک حرف تمنا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں کب تک مرے مولا اے دل کے مکیں…

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رُت بتا گئی پھر وہی ص…

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رُت بتا گئی پھر وہی صُبح آئے گی پھر وہی شام آ گئی میرے لہو میں جل اُٹھے اتنے ہی تازہ دم چراغ وقت کی سازشی ہوا جِتنے دیے بُجھا گئی میں بھی بہ پاسِ دوستاں اپنے خلاف ہو گیا اب یہی رسمِ دوستی…