ڈیلی آرکائیو

2019-08-21

اشفاق احمد کا یومِ پیدائش Aug 22, 1925 اردو اور پ…

اشفاق احمد کا یومِ پیدائش Aug 22, 1925 اردو اور پنجابی کے نامور ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار، دانشور، براڈ کاسٹر اور صوفی اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو مکتسر ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں…

ملا واحدی کی وفات August 22, 1975 22 اگست 1976ء ک…

ملا واحدی کی وفات August 22, 1975 22 اگست 1976ء کو اردو کے صاحب طرز ادیب اور صحافی ملا واحدی نے کراچی میں وفات پائی۔ ملا واحدی کے بزرگوں نے تو ان کا نام محمد ارتضیٰ رکھا تھا مگر مصور فطرت حضرت خواجہ حسن نظامی صاحب نے انہیں ملا واحدی کا…

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر میں نے اس ک…

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں ..... ظہور نظر کا یومِ پیدائش Aug 22, 1923 آج 22 اگست اردو ادب کے خوبصورت شاعر ، صحافی ، ڈرامہ نگار اور ادیب ظہور نظر کا جنم دن ھے ۔ ظہور نظر صاحب اردو…

ادا جعفری کی پیدائش Aug 22, 1924 ادا جعفری 22 اگس…

ادا جعفری کی پیدائش Aug 22, 1924 ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر…

محترمہ صالحہ بیگم پروینؔ – جے پور 1866 – 1944 پڑے …

محترمہ صالحہ بیگم پروینؔ - جے پور 1866 - 1944 پڑے چہرے پر جب گیسو تو عقدہ کھلا پروینؔ کہ ہے صبح وطن میں بھی اثر شامِ غریباں کا .... ہزار بار کیا قصد توبہ پر ہر بار خیال رحمت رب غفور آنے لگا ... کہا جو حشر میں کیوں کی خطا تو پوچھوں گا کہ…

قدیم ؔ لکھنوی اسم ِ گرامی سیّد علی نواب ۔ آپ میر …

قدیم ؔ لکھنوی اسم ِ گرامی سیّد علی نواب ۔ آپ میر انیس کے سب سے چھوٹے بیٹے میر سلیس کے فرزند تھے ۔ ان کا بہت سا کلام ضائع ہوگیا۔ ایک مرثیے کے علاوہ کچھ اور دستیاب نہ ہوسکا ۔ اسی مرثیے کے کچھ بند حاضر ہیں۔ یہ مرثیہ جزیرۂ خضرا کے بارے میں…

ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺩَﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ، ﺳﺮِ ﺷﮩﺮِ ﺳﺘﻢ ﻧِ…

ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺩَﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ، ﺳﺮِ ﺷﮩﺮِ ﺳﺘﻢ ﻧِﮑﻠﮯ ﺿﻤﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ، ﻧﮧ ﺗﻢ ﻧﮑﻠﮯ، ﻧﮧ ﮨﻢ ﻧِﮑﻠﮯ ﮐﺮﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ،ﻣﻘﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﺗِﺮﯼ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧِﮑﻠﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻋﻆ، ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﮨﺪ، ﻣﺮﯾﺾِ ﻋﺸﻖ ﮨﻮﮞ…

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا اپنی فطر…

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا اپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھنا اب وہ برگد ہے نہ وہ پنگھٹ نہ اب وہ گوپیاں ایسے پس منظر میں کیا گاؤں کا منظر دیکھنا جادۂ گل کی مسافت ہی نہیں ہے زندگی زندگی کرنا ہے انگاروں…