ڈیلی آرکائیو

2019-08-25

:اے قصۂ بہشت زکویتے حکایتے: حافظؔ شیرازی جنّت کا …

:اے قصۂ بہشت زکویتے حکایتے: حافظؔ شیرازی جنّت کا ذکر، تیری گلی کی حکایت ایک آبِ حیات، تیرے ہی لب سے کنایت ایک اعجازِ عیسوی، تِرے ہونٹوں کی اِک ادا ! حُوروں کا حُسن، تیرے ہی رُخ کی روایت ایک پاتا نہ بار مجلسِ رُوحانیاں میں عطر! خوشبو…

حاصِلِ سیرِ بے دِلاں ‘ کون و مکاں ‘ نہیں نہیں…

حاصِلِ سیرِ بے دِلاں ' کون و مکاں ' نہیں نہیں کُوے حرم ' نہیں نہیں ' شہرِ بُتاں ' نہیں نہیں جسم کی رَسمیات اَور ' دل کے معاملات اَور بیعَتِ دست ' ہاں ضرور ' بیعَتِ جاں ' نہیں نہیں درد کی کچھ بساط ہے ' جس پہ یہ پیچ…

بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس…

بعض دفعہ خاموشی وجود پر نہیں دل پر اترتی ہے پھر اس سے زیادہ مکمل، خوبصورت اور بامعنی گفتگو کوئی اور چیز نہیں کر سکتی اور یہ گفتگو انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہوتی ہے اور اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے کبھی دوبارہ کچھ کہنا نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔…

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر علامہ اقبال …

تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر علامہ اقبال تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے حور و خیام سے گزر بادہ و جام سے گزر گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی…

ایک زمین احمد فرازؔ منظور ہاشمی ۔۔۔۔۔ احمد فرازؔ …

ایک زمین احمد فرازؔ منظور ہاشمی ۔۔۔۔۔ احمد فرازؔ آنکھ سے دُور نہ ہو دِل سے اُتر جائے گا وَقت کا کیا ہے گُزرتا ہے گُزر جائے گا اِتنا مانُوس نہ ہو خَلوَتِ غَم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈَر جائے گا ڈُوبتے ڈُوبتے کشتی کو…

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو اس بے وفا کا ش…

اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو لائی ہے اب اڑا کے گۓ موسموں کی باس برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو دل کو ہجوم نکہت…

سِلسِلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اِتنے تو مَ…

سِلسِلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اِتنے تو مَراسِم تھے کہ آتے جاتے شِکوَہِ ظُلمَتِ شب سے تو کہِیں بہتر تھا اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کِتنا آساں تھا تِرے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اِک عُمَر لگی جان سے جاتے جاتے جشنِ مَقتَل…

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں …

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم اے درد بتا کچھ تُو ہی بتا! اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا ہم میں ہے دلِ بےتاب نہاں یا آپ دلِ دلِ بےتاب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا،…

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا جو آنسو …

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا جو آنسو آنکھ میں آیا بڑا بے اعتبار آیا کسی کا بانکپن سارے زمانے میں پکار آیا چمک آنکھوں میں آئی نوکِ مژگاں پر نکھار آیا مقدر اپنا اپنا ہے گل و شبنم کی وادی میں کوئی ہنستا ہوا آیا تو…